Asli Tanzo Mazah Confress

”اصلی طنزو مزاح کانفرس“

عطاالحق قاسمی پیر فروری

Asli Tanzo Mazah Confress

ہمارا خیال تھا کہ کالم نگار اس کانفرس کے بارے میں کالم آرائیاں کریں گے کیونکہ اسلام آباد کی طنزو مزاح کانفرس کو اس طرح نظر انداز کرنا ممکن نہیں لیکن افسوس کہ یار ان سریل کا دھیان ہی اس طرف نہیں گیا اتفاق سے ہم اس کانفرس میں موجود تھے اگر بزم اکبر کے سید ضمیر جعفری ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور سرفراز شاہد اس کانفرس کے انعقاد سے قبل ہم سے مشورہ کرلیتے اور اس کے پروگرام ہمارے قیمتی مشوروں کی روشنی میں مرتب کرتے تو یقین جانیں اس کانفرس کی مشہوریاں اندرون ملک تو کیا بلکہ بیرون ملک تک جاپہنچتیں تاہم ہمارے خیال میں اب بھی کچھ نہیں بگڑا کیونکی منتظمین کا ارادہ اگلے برس بھی اس کانفرس کے انعقاد کا ہے سو وہ ہمارے مشوروں کو ریزرو رکھتے ہوئے اگلے برس استفادہ کرسکتے ہیںکانفرس کے ضمن میں ہمارا پہلا مشورہ یہ ہے کہ اس میں صرف ادیبوں ہی کو نہیں بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں کے ان نمایاں افراد کو بھی مدعو کیا جائے جو مزاح لکھتے تو نہیں مگر اپنی گفتگو میں مزاح بولتے ہیں بلکہ ہمارا مشورہ تو یہ ہے کہ ان تمام لوگوں کو بھی کانفرس میں شرکت کی دعوت دی جائے جو نہ صرف مزاح لکھتے ہیں نہ مزاح بولتے ہیں البتہ گزشتہ چالیس برس سے مسلسل قوم کے ساتھ مذاق کرتے چلے آرہے ہیں نیز یہ کانفرس چونکہ اسلام آباد میں منعقد ہونی ہے لہٰذا اس کے مختلف سیشنوں کی صدارت ادیبوں وغیرہ سے کرانے کے بجائے صاحبان اقتدار سے کرائی جائے تاکہ ٹیلی وژن وغیرہ پر اس کی معقول کوریج بھی ہوسکے سو بہتر ہوگا کہ آئندہ برس کانفرس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت صدر جنرل ضیاءالحق اور اختتامی اجلاس کی صدارت کے لئے وزیر اعظم محمد خان جونیجو کودعوت دی جائے صدر ضیاءالحق ماشاءاللہ اگرچہ مزاح نگار نہیں لیکن مزاح گو ضرور ہیں اور اپنی تقریر میں ایسی ایسی پھلجڑیاں چھوڑتے ہیں کہ محفل کوکشت زعفران بنادیتے ہیں چناچہ اب تو چہر میں یہ افواہ گردش کررہی ہے کہ صدیق سالک صدر ضیاءالحق سے لکھواتے ہیں طنزو مزاح کانفرس کی صدارت کا استحقاق صدر ضیاءالحق کو اس لئے بھی ہے کہ گزشتہ نو برسوں میں ان کی حکومت نے ایسے کئی اقدامات کئے ہیں جن پرقوم کو باقاعدہ ہنسنے کا موقع ملا ہے اسی طرح وزیر اعظم محمد خان جونیجو بھی اختتامی اجلاس کے لیے موزوں ترین صدر ہیں کیونکہ جس مارشل لاءکا افتتاح صدر ضیاءالحق نے کیا تھا اس کا اختتام وزیر اعظم جونیجو پر ہوا ہے لوگ جس طرح مارشل لاءکی لاغری پر ہنستے تھے اسی طرح موجودہ جہموریت کی صحت پر ہنستے ہیں جس کے وزیر ‘وزیر اعلیٰ سے ملنےی کے بعد صدر اور وزیر اعظم سے ملاقاتیں کرتے ہیں تاہم ہمارے نزدیک یہ طنزو مزاح کا نفرس اس وقت تک نامکمل رہے گی جب تک اس میں پیر پگاڑا کو مدعو نہ کیا جائے جس میں انہیں شہنشاہ ظرافت کا خطاب دیا جائے اگرچہ چھوٹے موٹے مزاح نگار ہم بھی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم پیر صاحب کے خاک پا بھی نہیں بلکہ ہمارے سمیت ملک کے تمام مزاح نگار ایک طرف ہوں اور دوسری طرف پیر صاحب پگاڑا ہوں تو آپ یقین جانیں پیر پگاڑا صاحب کا پلڑا بھاری رہے گا آپ اندازہ لگائیں کہ جو مسئلے قوم کی زندگی اور موت کے ہوتے ہیں اور جن پر قوم کون کے آنسورورہی ہوتی ہے پیر صاحب پگاڑا ان مسائل پر قہقہہ گفتگو کرتے ہیں جس کے لئے ایک تو بڑا دل گردہ چاہیے اور دوسرے اس امر پر بھی یقین کہ ایسے مسائل جو قوم کو مسلسل پریشان رکھتے ہوں ان کو اسی طرح غیر سنجیدگی ماردینی چاہیے تاکہ یہ مسائل ہمارے سنجیدہ برتاﺅ سے امپارٹنس نہ حاصل کرجائیں سیاست دانوں میں ایک سیاست دان ولی خان بھی ہیں جن سے طنز و مزاح کا نفرس کے ایک سیشن کی صدارت کرائی جاسکتی ہے جس میں ان سے درخواست کی جائے کہ وہ اپنی صدارتی تقریر میں اپنے اس موقف کو دہرائیں کہ 1947 میں صوبہ سرحد نے پاکستان کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھا اور کالا باغ ڈیم کا ڈیزائن خواہ کچھ ہو نہیں بننے دیں گے اور اس کے علاوہ بھی جتنی سنجیدہ باتیں چاہیں وہ اپنی تقریر میں کریں ہمیں یقین ہے کہ لوگ ان کی باتوں سے پوری طرح محفوظ ہوں گے یہاں پروگرامنگ میں ہم سے تھوڑی سے غلطی ہوگئی ہے یعنی ایک تو ہمیں ولی خان اور پیر صاحب پگاڑا کا ذکر ایک ہی جگہ نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ چہ نسبت خاک رابعالم پاک والا معاملہ ہے اور دوسرے اس لئے کہ ولی خان کے لیے ہم نے کانفرس کے ایک اور پروگرام میں نشست بک کی تھی یہ پروگرام مزاح نگار یا مزاح گو حضرات کی بجائے سنجیدہ سیاسی اورعلمی شخصیتوں سے ترتیب دیا جائے گا اس کی انفرادیت یہ ہوگی کہ لوگ اس کا شرکاءکی سنجیدہ باتوں سے اسی طرح محفوظ ہوں گے جس طرح مزاح نگاروں ست ہوتے ہیں چنانچہ اس نشست میں ولی خان سے ان کی زیر طبع کتاب حقائق مقدس کا کوئی باب سناجاسکتا ہے نوابزادہ مظہر علی خان سیٹھ نصیر اے شیخ اور اسی طرح کے دوسرے نوابوں اور سیٹھوں سے سوشلزم کے حق میں لیکچر دلوائے جاسکتے ہیں عبداللہ ملک یا حمیداختر اس نشست میں سوویت روس میں آزادی تحریر و تقریر کے موضوع پرپیپر پڑھ سکتے ہیں شعیہ سنی اتحاد کے موضوع پر علامہ نصیر الاجتہادی اور شاہ بلیغ الدین کی تقریروں کروائی جاسکتی ہے غرضیکہ اس نشست میں تقریباً ہر موضوع پر پوری سنجیدگی سے بات کی جاسکتی ہے اور سامعین اس پر جی کھول کر ہنس سکتے ہیں بشرطیکہ مقررین کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا جائے اگر طنزو مزاح کانفرس کے منتظمین ہماری ان تجاویز سے اتفاق کریں تو آخر میں ایک مشورہ ہم مزید دے سکتے ہیں جس سے یہ کانفرس بین الاقوامی صورت اختیار کرسکتی ہے اور وہ یہ کہ روس کے گوربا چوف اور امریکہ کے ریگن سے اس موقع پر خصوصی پیغامات منگوائے جائیں جو بظاہر ہے امن عالم کے قیام اور ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ ختم کرنے وغیرہ کے موقف پر مشتمل ہوں گے یہ پیغامات اس وقت پڑھ کر سنائے جائیں جب کسی بور سے مضمون کے بعد حاضرین سخت بیزار بیٹھے ہوں تاکہ یہ پیغام ان کی بوریت کو ختم کریں اور وہ کھلکھلا کر ہنس سکیں کیونکہ سچ بات یہ ہے کہ آنجہانی نارمن وزڈم پیٹر سلیر تھری سٹوجز اور جیری لوئس وغیرہ ان بین الاقوامی مخولیوں کے سامنے بالکل ہیج نظر آتے ہیں اوہو میں تو بھول ہی گیا اس کانفرس کا اختتام بھی تو ہوتا ہے اختتامی اجلاس کی صدارت کے لئے علامہ احسان الہٰی ظہیر سے زیادہ موزوں کون سی ذات گرامی ہوسکتی ہے اس نشست کے مقرر خصوصی میاں فضل حق ٹھیکیدار ہوں تو یہ سیشن لاجواب قرار دیا جائے گا۔

Your Thoughts and Comments