Ata Ul Huq Qasmi

عطاء الحق قاسمی

جمعرات جنوری

عطاء الحق قاسمی ۱۹۴۳ء۔حیات عطاء کے کالم کے آغاز میں ایک ننھی سی بات، ایک کلی کی طرح نمودار ہوتی ہے پھر یہ کلی، ایک صدائے بے صدا کے ساتھ، انتہائی بے ساختگی سے چٹکتی ہے اور جب عطاء آخر میں اپنے موضوع کو سمیٹتا ہے تو جیسے ایک طلسمی اشارے کے ساتھ (جو دراصل ایک طلسمی جملہ ہوتا ہے) موضوع کے غنچے کو ایک پھول کی صورت دے کر الگ ہو جاتا ہے اور آپ اس پھول کے رنگوں اور مہکاروں میں گھرے رہ جاتے ہیں۔

اور سوچتے رہ جاتے ہیں اور جب آپ اس پھول سے نظریں ہٹاتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں کہ آپ کچھ بدل گئے ہیں اور خوشگوار اور مثبت انداز میں بدلے ہیں، یعنی ذہنی اور وجدانی لحاظ سے کچھ آگئے بڑھ آئے ہیں۔ اردو صحافت میں فکاہی کالم نویسی کا یہ سراسر منفرد اسلوب ہے اور اسی لیے میں عطاء الحق قاسمی کو ایک منفرد اور ایک صاحب اسلوب کالم نویس قرار دیتا ہوں۔

(جاری ہے)

اس نے صحافت اور ادب کے درمیان مغائرت کو ختم کر دیا ہے۔ کوئی بھی موضوع اس کے لئے اجنبی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے کالموں میں بلا کاتنوع ہے، اور چونکہ تنوع ہے اس لئے تازگی ہے، اور یہ تازگی اتنی بھر پور ہے کہ اسے چھولو تو جیسے تتلی کے پروں کی طرح، رنگ اچٹ کر پوروں میں چلے آئیں گے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صحافت اور ادب کی سر حدیں آپس میں مل جاتی ہیں اور اخبار میں درج ہونے والے یہ کالم ، سالہا سال تک کے لئے صفحہٴ دل پر نقش ہو کر رہ جاتے ہیں۔

عطاء کے بظاہر سیدھے سادے مگر دراصل نہایت تہہ دار انداز استدلال نے دور دور تک مار کی ہے۔ میں تو اس کے وسیع اور ہمہ گیر سماجی شعور کا معترف ہوں اور حیران ہوتا ہوں کہ وہ بظاہر بالکل غیر متعلق لوگوں کے حالات اور نفسیات کی گہرائیوں میں اتنی اپنا ئیت کے ساتھ کیسے اتر جاتا ہے اور اسے ان کے مسائل کو اپنے بنا کر پیش کرنے پر اتنی قدرت کیسے حاصل ہو گئی ہے۔

اس کے مشاہدے کے لینز بہت تیز ہیں، بلکہ میں تو کہوں گا کہ خطرناک حد تک تیز ہیں۔ خطرناک اس لئے کہ وہ چہروں کے خول توڑ کر دلوں اور دماغوں میں گھس جاتا ہے اور ہر فرد کی نجی اور خفیہ سوچوں تک کی ایسی تصویریں اتار لاتا ہے جن میں ان سوچوں کے مسام تک واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ میں نے اب تک ایسا کوئی کالم نویس نہیں دیکھا تھا جس کی آنکھیں عام آنکھوں سے بڑی بلکہ موٹی سہی، مگر ان آنکھوں کا طریق واردات اتنا عجیب وغریب ہو کہ جب وہ سامنے دیکھ رہی ہوتی ہیں تو صرف سامنے نہیں دیکھ رہی ہوتی ہیں بلکہ چار سونگراں ہوتی ہیں۔

میرے خیال میں عطاء اسی لئے بد خط ہے کیونکہ وہ کاغذ پرلکھتے ہوئے بھی، دراصل سامنے دیکھنے کی بجائے چار طرف دیکھ رہا ہوتا ہے کہ موضوع سے متعلق کوئی ایک ذرہ بھی بچ کر نکلنے نہ پائے اور وہ اسے اپنے قلم کی نوک میں پرولے۔ (احمد ندیم قاسمی) سوانحی اشارے عطاء الحق قاسمی یکم فروری ۱۹۴۳ء کو امر تسر میں پیدا ہوئے۔ ماڈل ٹاؤن ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔

ایم اے او کالج لاہور سے انٹر اور گریجویشن کی۔ پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر کیا اور گورنمنٹ ایم اے او کالج میں تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہو گئے۔ چند سال تک ناروے میں بطور سفیر حکومت پاکستان تعینات رہے اور پاکستانی کمیونٹی کے لئے بیش بہا خدمات سر انجام دیں۔ پھر تھائی لینڈ میں بھی اپنی منتظمانہ قابلیت کے جو ہر دکھائے۔ نوائے وقت میں”روزن دیوار سے “ کے نام سے کالم لکھتے ہیں۔ پاکستان ٹیلیویژن کے لئے بہت سے ڈرامے لکھے جن میں خواجہ اینڈ سن کافی مشہور ہوا۔ صدر پاکستان کی طرف سے تمغہ حسن کارگردگی ، آدم جی ایوارڈ، اے پی این ایس ایوارڈ وصول کر چکے ہیں۔

Your Thoughts and Comments