Baba Ji Phir No Lay Gaye

بابا جی ․․․ پھر نمبر لے گئے

جمعہ فروری

Baba Ji Phir No Lay Gaye
حافظ مظفرمحسن:
فون کی گھنٹی بجی۔ سامنے مرزا شعیب کانمبر تھا۔ میں نے ہیلو کیاتونہ اسلام نہ دیا” باباجی پھر نمبر لے گئے؟ میں شعیب صاحب کے اس فقرے میں چھپی ساری کہانی سمجھ چکا تھا ان کاموبائل بالاکورٹ کے اردگرد کام کررہاہے آپ کاپوچھ رہے تھے بات کرلیں۔ مرزا شعیب نے سارا مدعابیان کیااور فو بند ہوگیا۔


وہ شخص جب افغانستان میں خون ریزجنگ جاری تھی توبڑھاپے کے باوجود کندھے پر کیمرہ رکھے اپنے گھر سے ہزاروں میل دور مذہبی مقامات کی تصویر بنانے میں محوتھا۔ کابل میں کوئی مسجد شہید ہوئی‘ کوئی درگاہ کوئی امام بارگاہ کونقصان پہنچا تووہ نوجوانوں کی طرح مختلف زاوزیوں سے تصاویر اتار رہاتھا کسی معصوم بچے کاتوپ کاشیل لگنے سے بازو کٹ چکا ہے کسی پاک باز عورت کے سرپردوپٹہ نہیں اور جنگ کا بندوبست کرنا یہ سب اس نے خود ہی اپنے اوپر بطور ڈیوٹی لاگو کرلیا۔

(جاری ہے)

میں نے یہ سب تصویریں ان تصویروں کے ساتھ اس کے گھر دیکھیں کہ جہاں سیاہ چین کے محاذ پر موجود پاکستان کے غیور اور نڈر فوجیوں کی تصاویر اس نے خود جاکر اتاری ہیں اور نہایت نفاست سے اس نے ان کمروں میں لگائین ہیں کہ جن سب کوعظمت شیخ آرٹ گیلری کانام دیا جاچکا ہے اس ” آرٹ گیلری“ کے مین دروازے پر جلی حروف میں لکھا ہے” اللہ دافقیر“۔


ایک کمرہ ان بڑی بڑی رعب دار اوربلند بالا تصاویر سے بھراپڑا ہے کہ جوعظمت شیخ نے حکومت سعودی عریبیہ کی خاص درخواست پر ان کے دئیے گئے ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر اتاری تھیں۔ ان تصاویر میں خانہ کعبہ اور سرکار دوجہاں حضرت محمد ﷺ کے روضہ پاک کومختلف زاویں سے دکھایا گیا ہے یہ سب کچھ بیان نہیں ہوسکتا․․․ دیکھنے کے قابل ہے ” نوائے وقت“ سنڈے میگزین ‘ فیملی میگزین‘ نیشن اخبار اور ” پھول“ میں یہ سب تفصیلات علیحدہ علیحدہ کئی کئی بار چھپ چکی ہیں۔

ہمارا جب دل اداس ہوتا ہے ہم فون کرتے ہیں۔ عظمت شیخ صاحب ننگے پاؤں کھڑے ہمارا نتظار کررہے ہوتے ہیں (یادرہے کہ یہ رویہ انہوں نے ہر آنے والے کے ساتھ روارکھنا ہوتاہے) ہم گھنٹوں ان مقدس مقامات کی تصاویردیکھنے میں مگن رہتے ہیں اور ہر لمحہ سکون نصیب ہوتاہے۔
ہم ابھی زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں جانے کاارادہ کررہے تھے کہ زلزلہ آنے کے اگلے دن ” اللہ دا فقیر“ اس بندوں کی خدمت میں مگن وہاں خود موجود تھا۔

ہمیشہ کی طرح‘ چند اور ہم عمربھی ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔
میں نے فون کیاتوبول پڑے” تم لوگ بھی مجھے تلاش کرہی لیتے ہو؟“
آپ کواللہ نے ہمت دی آپ اسی سالہ بزرگ ہوکر ضروریات زندگی متاثرین زلزلہ کیلئے لے کر وہاں پہنچ چکے ہیں اور ہم ابھی یہاں بیٹھے جانے کی منصوبہ بندی ہی کررہے ہیں؟
میرے کہنے پر خوش بھی ہوئے مگر عاجزی اور انکساری سے میں فون پرہی محسوس کررہاتھا کہ ان کی کمر جھکتی جارہی تھی اورآنکھوں سے آنسو گرگرکران کی برف جیسی سفید دھاڑی پر گررہے تھے۔


مظفر بیٹا! کھانے پینے کاوافر سامان یہاں پہنچ چکاہے۔حکومت کی توجہ ان علاقوں پر ذرا دیر سے ہوئی خبر ابھی بھی فوج کے جوانوں نے اپنی پھرتی اور جان لرادینے والی کوششوں سے ہمارے دل موہ لئے ہیں۔ پاک فوج کے جوان فرشتے بن کریہاں چھتوں تلے دبے بوڑھوں‘ بچوں اور زخمی عورتوں کونکال رہے ہیں ایک ایک جوان نے اپنے بازوؤں میں کئی کئی لاشیں اٹھاکر قطاروں میں رکھی ہیں اور حوصلہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح بلند۔


باباجی تفصیلات بتائے جارہے تھے اور اللہ پاک واحدہ لاشریک سے گناہوں کی معافی مانگنے کی نصیحت کرتے چلے جارہے تھے۔
پھر گویاہوئے․․․ بیٹا ان کیلئے ٹینٹوں اور کمبلوں کی ضرورت ہے یہاں بارش ہے سردی ہے اور کھلا آسمان ہے۔ اور موت کے خوف اور اپنوں کے بچھڑ جانے کے دکن سے کانپتے یہ انسان۔
ہاں ہاں باباجی․․․․ میں سن رہاہوں․․․ جہاں آپ ملبے اور لاشوں کی ڈھیروں کے درمیان بیٹھے ہیں وہاں واقعی تمبوؤں کی ضرورت ہے‘ کمبلوں اورد وائیوں کی ضرورت ہے۔

وہاں زلزلے کاخوف ہے۔ بارش ہے‘ سردی ہے‘ کھلاآسمان ہے اور اللہ پاک واحدہ لاشریک کی رحمت کاسیاہ ہے۔ اور وہاں اسی سالہ” اللہ دا فقیر“ بھی توہے ۔ باباجی․․․ پوری پاکستانی قوم اپنے زلزلہ زدہ بھائی بہنوں کے پاس سب کچھ لے کر پہنچنے کوبے تاب ہے۔ جبارمفتی بھی‘ مرزا شعیب بھی‘ عابد کمالوی بھی‘ مگرباباجی․․․․ آپ توپھر نمبر لے گئے۔

Your Thoughts and Comments