Bachpan Aor Barsaten

بچپن اور برساتیں

طارق احمد ہفتہ جولائی

Bachpan Aor Barsaten

گرمیوں میں ہم بہن بھائی چھت پر چارپائیاں بچھا کر ان پر سوتے، اور یہ سلسلہ برساتوں میں بھی جاری رہتا۔ برسات کی بارشوں کے کئی رنگ اور مزاج ہوتے۔ کبھی تو ہلکی پھلکی بوندا باندی یعنی کن من سے بارش شروع ہوتی جو طبیعت کو اچھی لگتی۔ کبھی تیز پھوار اور کبھی جیسے ایک دم کسی نے چھاجوں مینہ انڈیل دیا ہو۔ ہم گہری نیند سے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتے۔ پہلے تو سمجھ ہی نہ آتی کہ موجود کہاں ہیں۔

جتنی دیر میں سومن ہوتے جسم پورا بھیگ چکا ہوتا۔ پھر سب سے پہلے جو خیال ذہن میں آتا وہ یہ ہوتا کہ چارپائیوں کو اٹھا کر براستہ سیڑھیاں نیچے پہنچانا ہے۔ ہمارے والدین اور بہنیں اپنا اپنا بستر بغل میں دبا کر کمروں میں چلے جاتے، بڑے بھائی کو بڑے ہونے کا استحقاق مل جاتا اور وہ کچن میں کھڑے ہو کر ہمارا یہ چارپائی بچاؤ آپریشن دیکھتا رہتا۔

(جاری ہے)

کھبی کبھار وہیں سے حکم جاری کر دیتا کہ اس کام کو درست طریقے سے کیسے سرانجام دینا ہے۔ ہم بارش میں پہلے ہی نچڑے ہوتے، مقتدر حلقے کی یہ مداخلت مزید غصہ دلا دیتی۔ چھوٹا بھائی نیچے کھڑا ہو جاتا اور ہمارا کام یہ ھوتا کہ تمام چارپائیوں کو اٹھا اٹھا کر نیچے پہنچایا جائے اور چھوٹے بھائی کو ھینڈ اوور کر دی جائیں۔ کبھی کبھار بارش اور ہوا اتنی تیز اور دھواں دھار ہوتی کہ سر پر رکھی چارپائی پیراشوٹ بن کر ہمیں واپس چھت پر دھکیل دیتی۔

اور برساتوں کی ستم ظریفی یہ تھی کہ بارشیں ہمارے ساتھ یہ کھیل ایک رات میں کئی کئی بار کھیلتیں اور ہم اس خوف سے یہ ایکسرسائز کرتے کہ اگر چارپائیاں گیلی ہو گئیں تو ان میں کنڈ پڑ جانی ہے۔ برساتوں میں ہمارے بچپن کا بیشتر حصہ بارشوں کے ساتھ اسی آنکھ مچولی میں گزرا ہے یا پھر چارپائیوں کی کان یعنی کنڈ نکالنے میں بسر ہوا ہے۔

Your Thoughts and Comments