Bad Perhaizi K Sarfeen K Naam

بد پرہیزی کے صارفین کے نام

منگل 11 اپریل 2017

عزیز فیصل:
خرابی بسیار برطرف، بدپرہیزی ایک ”گناہِ بالذت“ ہونے کے ساتھ ساتھ مسیحانہ حکم عدولی کی ایک تفریحی سرگرمی بھی ہے۔ یہ بیماری کے دوران حملہ آور جراثیم کے تواضع کی مساعی جمیلہ بھی ہے اور معصوم معدے سے اظہار یک جہتی اور لذت کام و دہن کے ساتھ شانہ نشانہ کھڑے ہونے کی ایک حقیرانہ کوشش بھی ہے۔ حاذق مریض گونا گوں بدپرہیزیوں کا تشفی بخش جواز بھی پلو سے باندھے ہوئے بلکہ اس پر سٹیپلر سے پنیں بھی لگائے ہوئے ہیں۔

اسی سکول آف تھاٹ کے ایک فعال مریض نے ہمیں بتایا تھا کہ وہ بیماری کے دوران عام روٹین کے برعکس زیادہ کھاتا پیتا ہے تاکہ جراثیم کے پیدا کردہ نقصانات کا موقع پر ہی فوری ازالہ ہوتا رہے۔
ہم کبھی کبھی یہ سوچ کر انتہائی پریشان ہو جاتے ہیں کہ روز قیامت دل اور آنکھ کے ساتھ ساتھ معدے نے بھی اگر ہمارے لچھنوں کا پول کھولا تو بارگاہِ ایزدی میں ہمیں کتنی شرمساری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

(جاری ہے)

صحت ہو یا بیماری، نظام انہضام کے جملہ اعضا سے ہم جتنا کام لیتے ہیں، اسے بیگار ہی کہنا چاہیے۔ ہمارے نبی صلی اللہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کم کھاوٴ تاکہ بیماریوں سے بچے رہو۔ افسوس اکثر لوگ بے تحاشا کھا پی کر بری طرح بیمار ہوتے ہیں لیکن دل کی اتھاہ گہرائیوں سے پرہیز کو ایک سماجی برائی جیسا برا عمل سمجھتے ہیں۔
عوامی ضیافتوں یعنی ولیمہ، ختنہ، چہلم، سوئم وغیرہ میں شامل بیمار مدعو خواتین و حضرات تناول ماحضر فارمولے کے تحت خوب کھاتے پیتے ہیں اور مرغن بدپرہیزی کا حظ اُٹھاتے ہیں۔

یہ ہمارا قومی وتیرہ بن چکا ہے کہ اس قبیح روش کو جوں کا توں بے ضرر سمجھا جاتا ہے۔
ڈاکٹر اور حکیم اس بدپرہیزی سے مستفید ہونے والے نمایاں سٹیک ہولڈر ہیں۔ ایسے مریضوں کو دوا ساز کمپنیوں کے ملازمین کے بال بچے دعائیں ہی دیتے ہوں گے کہ ایسی شبانہ روز بدپرہیزیوں نے ان کے گھروں میں چولہوں کو بجھنے نہیں دیا ہے۔
ہم ایک ایسے بزرگ کو بچپن سے ہی جانتے ہیں کہ جو مرغن کھانوں کے پرانے مداح ہیں، چنانچہ آج کل معدے کی بدہضمیوں کا رونا روتے سنائی دیتے ہیں۔

ایک مرتبہ ہم انہیں سپیشلسٹ ڈاکٹر کے پاس معائنہ کے لیے لے گئے، ڈاکٹر بہت ستم ظریف تھا کہ وہ مریض کے ڈیل ڈول کو دیکھتے ہی امراض حقیقی کی تہہ تک پہنچ گیا۔ چنانچہ اس نے بزرگوار پر پرہیزوں کی بھرمار کر دی۔ تلی ہوئی اور کھٹی اشیاء سے لے کر روسٹ، بار بی کیو، بریانی، بیف، پائے اور سویٹس تک کے کھانے پر فوری بین لگا دیا۔ اتفاق سے ہمارے بزرگ ایسی تمام سادہ غذاوٴں کے دائمی صارف تھے۔ ہسپتال سے نکل کر ہمیں بزرگوار نے قطعی لہجے میں کہا… ”یوں ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی دی ہوئی دوائیں تو میں ابھی سے شروع کر دیتا ہوں البتہ پرہیز پرسوں سے شروع کروں گا۔“

Your Thoughts and Comments