Badam Aur Bydam

بادام اور بے دام

جمعرات 8 مارچ 2018

ڈاکٹر محمد یونس بٹ
ہمارے ہاں تین طرح کے سیاست دان ہوتے ہیں نمبر 1 پہلی طرح کے نمبر2 دوسری طرح کے نمبر3 ہر طرح کے جبکہ اصغر خاں صاحب ہمارے اپنی ہی طرح کے سیاست دان ہیں ان کی قد ان کی پارٹی سے کئی انچ بڑا ہے ہم نے عبادت کو سیاست بنایا وہ اپنی مثال آپ ہیں بلکہ دوسروں کی مثال بھی آپ ہی ہے وہ ووٹروں کو کبھی مایوس نہیں کرتے جو بھی کرتے ہیں وہ ووٹر کرتے ہیں انہیں الیکشن لڑنے میں جیتنے کا کبھی خطرہ نہیں ہوتا جیسے چھٹی دہائی میں سائنس دان غلام محمد موجد نے ایٹم بن ایجاد کیا اور اپنے ایجاد کردہ ایٹم بم کی سب سے بڑی خوبی یہی بتائی کہ اس سے انسان کو کوئی خطرہ نہیں ہوسکتا کہ یہ وہ بم ہے جو چلتانہیں بہرحال اصغر خان صاحب نے کہا ہے میں صدارتی الیکشن اس لئے لڑرہا ہوں کہ ملک کا سستا ترین الیکشن ہے۔

(جاری ہے)

سیاست سستی ہوئی لیکن پٹرول اور سیاست دانوں کی قیمتیں اتنی بڑی ہیں کہ آسمان کو ان سے باتیں کرنے کے لئے اوپر جانا پڑتا ہے ویسے تو سب سے زیادہ پیسے سستی شہرت حاصل کرنے میں ہی لگتے ہیں سستا ترین الیکشن کتنا مہنگا پڑتا ہے اس کا ہمیں اندازہ نہیں وہ دام سیاست میں بے دام آنا چاہتے ہیں ایک بار بی بی سی نمائندہ خان عبدالغفار کا انٹرویو کرنے آیا خان صاحب نے کہا دیکھو اگر تم ادب یا شاعری کی بات کرنا چاہتے ہو تو میرےی بیٹے سے کرو اگر سیاست پر بات کرنا چاہتے ہو تو ولی خان سے کرسکتے ہو اور اگر کوئی کام کی بات کرناچاہتے ہو تو میرے ساتھ کرلو اگرچہ اس کا راوی بڑا ضعیف ہے یعنی اسی نوے سال کا ہے ویسے بھی اردو میں راوی کہتا ہے اور پنجابی میں راوی بہتا ہے راوی کہتا ہے اگر بادام کی بات کرناہے تو صدر اسحاق ہیں جو اس عمر میں بھی منہ سے بادام اور اسمبلی توڑسکتے ہیں دام میں آنا ہے تو اور بہت ہیں البتہ بے دام اصغر خان ہی ہیں خان صاحب ان لوگوں میں سے ہیں جیسے ایک شخص نے کہا آج بارش ہوگئی؟ واقعی اس دن بارش ہوئی کسی نے پوچھا آپ کو کیسے پتہ چلا ہواسے پرندوں کے طور طریقوں سے یا آسمان کے ستاروں سے اندازہ لگایا ہے کہا نہیں بہت آسان طریقہ ہے جس دن میں کھیت کو پانی لگاتا ہوں اسی دن بارش ہوجاتی ہے یوں انہوں نے ہر الیکشن بڑ کامیابی سے ہارا صرف1993 کا عام الیکشن نہ ہارے جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ الیکشن بڑئے شفاف تھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ الیکشن کھڑے نہیں ہوئے تھے اس کا سیاست میں براتجربہ ہے پر تجربہ وہ کنگھی ہے جو زندگی ہمیں اس وقت دیتی ہے جب ہمارے ہال جھڑچکے ہوتے ہیں انہیں قوم کا بڑا غم ہے جو پہلے اتنا بڑا نہ تھا کیونکہ غم بچے کی طرح ہوتا ہے اس کی کرو تو یہ بڑا ہوجاتا ہے صدارتی الیکشن میں وہ واحد امیدوار ہیں جن پر بی بی پی اور مسلم لیگ نون بلکہ مسلم لیگ آفٹر نون میں بھی اتفاق رائے ہے پی پی پی کہتی ہے یہ ہمارے نمائندے نہیں اور مسلم لیگ بھی ہی کہتی ہے نواب زادہ نصر اللہ خان کا صدارتی الیکشن میں کھڑا ہونا ایسا ہی ہے جیسے قوال خود ہی وجد میں آجائے بہر حال صدارتی امیدوار فضل الرحمان لاہوری صاحب کہتے ہیں مجھے صرف اصغر خان سے خطرہ ہے ٹھیک کہتے ہیں بقول ایک مزاح نگار مچھر ہاتھی کو کاٹ سکتا ہے ہاتھی مچھر کو نہیں کاٹ سکتا فضل الرحمان لاہور خود کو بڑا مضبوط امیدار سمجھتے ہیں کہتے ہیں میں اتنا مضبوط ہوں کہ بغیر تھکے چالیس گھنٹے سائیکل چلا سکتا ہوں انہوں نے اپنی پوری زندگی میں جو سفید کام کیا وہ ہے ان کا صدارتی امیدوار ہونے کی اہلیت حاصل کرنا یعنی 45 سال سے زیادہ عمر کا ہونا فضل الرحمان کا آسان اردو ترجمہ یا اللہ فضل ہے اسی مفہول کے ہمارے صدر فضل الہٰی رہے ہیں وہ جب صدر بنے تو ہر پاکستانی کا چہرہ امید سے روشن ہوگنا تھا کہ اگریہ صدر بن سکتے ہیں تو پھر میں بھی بن سکتا ہوںیوں بھی اس کچی نوکری سے پکی نوکری اورکون سی ہوسکتی ہے جس کے لیے اگر کوئی کوالیفیکیشن چاہیے تو وہ 45 سال کا ہونا ضروری ہے لگتا ہے اسی وجہ سے کبھی کوئی خاتون صدارت کی امیدوار کے طور پر سامنے نہیں آئی ایک امریکی صحافی نے کہا تھا آج تک امریکی میں کوئی خاتون صدر اس لیے نہیں بنی کہ صدر کے لیے دو باتیں ضروری ہے ایک یہ کہ وہ چالیس سے زیادہ ہو اور دوسری یہ کہ وہ جدھر چلے پوری قوم اس کے پیچھے چلے سو پہلے تو کوئی خاتون چالیس سال سے زیادہ کی ہونے کا اعلان نہیں کرے گی اور اگر وہ چالیس سے اوپر کی ہوگئی تو اس کے پیچھے پوری قوم تو کیا ایک مرد بھی نہ آئے گا ویسے بھی جو خاتون یہ بتادے کہ اس کی عمر 40 سال سے زائد ہے اسے صدر بنانا ہی نہیں چاہیے وہ کوئی بات راز میں نہ رکھ سکے گی ویسے ستر سالہ نینیسی ریگن نے کہا ہے کہ اگر مجھے صدر بنادیا جائے تو میں ابھی 40 سال کی ہونے کے لئے تیار ہوں۔


کوئی ہم سے پوچھے کہ پاکستان کے صدروں کے بارے میں آپ کتنا جانتے ہیں؟تو ہم ہی کہیں گے اتنا جتنا وہ ہمارے متعلق جانتے ہیں وہ بے اختیار اپنے با اختیار ہونے کا اظہار کرتے رہتے ہیں ایسے ہی بااختیار صدر غلام محمد صاحب کو کسی نے مشورہ دیا کہ سر آپ فیصلہ سنادیا کریں مگر اس کے حق میں دلائل نہ دیا کریں کہا وہ کیوں؟جواب ملا آپ کا فیصلہ تو مان لیا جاتا ہے مگر دلائل پر سب ہنس پڑتے ہیں۔

بہر حال زیادہ عمر کا صدر ہونے کا یہ فائدہ ضرور ہے بقول ضمیر جعفری اس عمر میں بندہ برا سوچ تو سکتا ہے براکر نہیں سکتا بلکہ ایک طار صدر نظام محمد صاحب نے کہا مجھے یاد نہیں پڑتا کہ مین نے بحیثیت صدر کبھی جھوٹ بولا ہو تو سننے والے نے کہا اس میں تعجب کی کیا بات ہے اس عمر میں حافظے کی یہی کیفیت ہوتی ہے۔فضل الرحمان لاہوری صاحب بولتے وقت کان لفظ اور غصہ بہت کھاتے ہیں تلفظ ایسا کہ منشور کو بھی من سور کہتے ہیں انہوں نے صدر بننے کے لیے جو تیاریاں کیں ان میں نیا جبڑا لگوایا جو روشور سے صدری سلوانا شامل ہے مگر وہ صدارتی الیکشن میں صرف ایک ممبر کی وجہ سے ہار گئے وہ تھا تجویز کنندہ پوچھا اب آپ کس کو سپورٹ کریں گے کہا اپنی ہی بیوی کو سپورٹ کروں گا۔

صاحب حق ہمیشہ غالب آتا ہے اور باطل بھاگ جاتا ہے اس لئے جو بھاگ جائے ہم اسے باطل کہتے ہیں مگر اصغر خان تو ریس میں بھی بھاگتے نہ تھے ایک دوست نے سیاست دانوں پر کتاب لکھنا تھی اس نے خان صاحب سے کہا میں نے کتاب کا نام رکھا ہے سیاست دان کیسے بنا جائے؟کہا نام رکھو سیاست دان کیسے نہ بنا جائے؟وہ بڑے مشہور سیاست دان ہیں کہتے ہیں کہ لوگ اب مشہور لوگوں کو پہنچاننے بھی لگے ہیں خان صاحب کا بے اختیار دل صدر بننے کو چاہتا ہے مگر بے اختیار صدر بننے کو دل نہیں چاہتا وہ الیکشن لڑتے نہیں ہیں وہ تو بس کھڑے ہوتے ہیں او ر ہمیشہ کھڑے ہی رہتے ہیں اگر ووٹ ہوتا تو ہم ان کے گروپ میں شامل ہوجاتے کیونکہ ہمیں تنہائی پسند ہے۔

Your Thoughts and Comments