Bakry Ka Akhri Sawal

بکرے کا آخری سوال!

پیر جنوری

Bakry Ka Akhri Sawal
عطاء الحق قاسمی:
بقرعید ہمارے ہاں بکرا عید بن گئی ہے جس سے صورت حال تقریباً تبدیل ہوجاتی ہے کیونکہ اس سے تاثر یہ ملتاہے کہ جیسے یہ دن بکروں کے لیے روز عید ہو حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ یہ دن بکروں کے لیے روز قیامت سے کم نہیں ہوتا بکروں کو کان سے کھینچ کر شہادت گاہ تک لایا جاتا ہے اوریہ کان کھینچنے کا عمل کئی ہفتوں سے جاری ہوتا ہے جس کے نتیجے میں ان کے کان اتنے لمبے ہوجاتے ہیں ان سے سننے کی بجائے صرف کھینچنے ہی کا کام لیا جاسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی قصائی بکرے سے کہے کہ میاں ادھر آؤ میں نے تمہیں ذبح کرنا ہے تو وہ بوجہ نافرمانی بلکہ بوجہ ثقل سماعت اس کے حکم کی تعمیل نہیں کرپاتا چنانچہ مجبوراً اسے کان سے کھینچتے ہوئے قصائی تک لے جانا پڑتا ہے اقبال نے کہا تھا۔

(جاری ہے)


”خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے“
”خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے“
اور بکروں کی چونکہ زیادہ نہیں ہوتی اس لیے انہیں ذبح کرنے سے پہلے ان کی رضا پوچھنے کا سوال ہی پیدا ہی نہیں ہوتا خود پاکستانی قوم کا یہی حال ہے اس قوم کی خودی بھی ابھی تک بلند نہیں ہوئی یہی وجہ ہے کہ قومی اور بین الاقوامی قصائی اسے ذبح کرنے سے پہلے اس کی رضا نہیں پوچھتے بلکہ ہر دفعہ کانوں سے کھینچتے ہوئے اسے مقتل تک لے جاتے ہیں کچھ عرصے سے تو یہ صورت حال ہے کہ قومی اور بین الاقوامی قصائی ایک ہوگئے ہیں جبکہ بکرے ایک نہیں ہورہے جس کے نتیجے میں ان کے ٹوٹے کردئیے جاتے ہیں گوشت صاحب حیثیت افراد میں تقسیم کردیا جاتا ہے کھال جماعت اسلامی کے حصے میں آتی ہے کیونکہ تقسیم کرنے والوں کا خیال ہے کہ قاضی صاحب کے لیے یہی کافی ہے۔

اس صورتحال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جسے یار لوگوں نے ذبح کرنا ہوتا ہے اسے احساس یہ دلایا جاتا ہے کہ اس میں خوشی ہماری نہیں بلکہ تمہاری ہے چنانچہ جس دن بکروں نے ذبح ہونا ہو اس دن کو بکرا عید کا نام دے دیا جاتا ہے حالانکہ یہ قصائیوں کی عید ہوتی ہے یہی تکنیک اہل مغرب نے عورتوں کے حوالے سے بھی برتی ہے ان سے عزت اور توقیر چھین کر انہیں دفتروں میں اسٹینو اور آفس سیکرٹری بنادیا گیا اور ان کے حقوق کے چیمپئن بھی قرار پائے ایڈ کے نام پہ ہماری نسلوں کو غلام بنادیا گیا اور ہمارے محسن بھی یہی قرار پائے ہوس ملک گیری میں کروڑوں آزاد انسانوں کے پاؤں میں بیڑیاں پہنادی گئیں اور انسانی حقوق کے پاسداری کا تمغہ بھی انہی کے گردنوں میں سجایا گیا ہمارے قصائی اتنے پڑھے لکھے دوررس اور بین الاقوامی معاملات کے ماہر نہیں ہے اس لیے وہ یہ کام بہت محدود پیمانے پر کرتے ہیں اور صرف اپنے علاقے میں اپنی بالادستی اور اپنی دہشت برقرار رکھنے کے لیے کرتے ہیں یہ کتنے ناداں ہیں کہ چند کلیوں پر قناعت کئے بیٹھے ہیں حالانکہ گلشن میں علاج تنگی داماں بھی ہے!بکرا عید کے سلسلے میں ایک نکتہ اور بھی ہے اوروہ یہ کہ عید بکروں کے لیے واقعی روز عید ہے لیکن صرف ان بکروں کے لیے جو کانے ہیں لنگڑتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ کسی حوالے سے ناقص ہیں کیونکہ ان کی قربانی جائز نہیں سمجھی جاتی یہی وجہ ہے بکرا عید پر جب صحت مند اور ذہین و فطعین بکروں کی شامت آئی ہوتی ہے یہ ناقص بکرے خوشی سے بھنگڑے ڈال رہے ہوتے ہیں کیونکہ کوئی قصائی انہیں میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کرتا ذبح صرف وہی بکرے ہوتے ہیں جو میرٹ پر آتے ہیں اور عیش وہ کرتے ہیں جو میرٹ پر نہیں آتے میرٹ کا یہ قتل عام ملک کے تمام اداروں اور محکموں میں بہت بری طرح جاری ہے ہمارے جو نوجوان میرٹ پر آتے ہیں ان کے ساتھ بکروں جیسا برتاؤ کیا جاتا ہے اور ہر وہ جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں وہ وزیر اور مشیر کے عہدوں تک جاپہنچتے ہیں!میرا ارادہ بھی اس موضوع کو طول دینے کا تھا لیکن ہمارے ہمسائے کے کھونٹے پر بندھے بکرے کے واویلانے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے وہ وقفے وقفے کے بعد اپنے حلق سے درد ناک آواز نکال رہا ہے مجھے تخت پر بیٹھے ہوئے خدا کے لہجے میں بولتے انسانوں کی بات سمجھ نہیں آتی لیکن زنجیروں سے بندھے مظلوموں کی زبان میں سمجھ لیتا ہوں یہ بکرا مجھ سے کہہ رہا ہے کہ یہ تم کس کام میں پڑگئے ہو کالم لکھنے سے نظام نہیں بدلتے بلکہ اس کے لئے جدوجہد کرنا پڑتی ہے مصلحتوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا پڑتی ہے راحتوں کی بجائے تکلیفوں کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے تب کہیں جاکر قصائی کے ہاتھ سے چھری کھینچے کی نوبت آتی ہے یہاں تک توبکرے کی بات سمجھ آرہی تھی بلکہ مجھے اس سے اتفاق بھی تھا لیکن اس کے آخری جملے نے مجھ سے لکھنے کی سکت چھین لی ہے چنانچہ میں یہ کالم یہیں ختم کررہا ہوں اس نے پوچھا ہے کہ تمہارے دروازے پر جو بکرا بندھا ہے وہ تم نے کتنے میں خریدا ہے اور اے میرے غم گساردوست کیا قصائی کو تاکید کردی ہے کہ وہ عید کے روز وقت پر پہنچے!

Your Thoughts and Comments