Balai Tabqa

بالائی طبقہ!

جمعرات اپریل

Balai Tabqa
مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ اکثر بالائی طبقہ کا ذکر کرتے ہیں کہ بالائی طبقہ آ خر چیز کیا ہے جس نے ہم سب کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔ میرے خیال میں سوال کنند کوعلم ہے کہ بالائی طبقہ کیا ہوتا ہے اگر انہیں بھی علم نہیں ہے تو ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ طبقہ وہ ہے جو دودھ پر سے بالائی اتار کر کھا جاتا ہے اور باقی جو ”پھوک“ بچتاہے اس میں چھپڑ کا پانی ملا کر بارہ کروڑ عوام میں تقسیم کر دیتا ہے تا ہم یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ میرا اشارہ گھروں کی طرف نہیں ہے کیونکہ گجر تو بڑے بھلے مانس لوگ ہوتے ہیں وہ دودھ میں پانی ملاتے ہیں تو گاہکوں کو بتا کرملاتے ہیں، نیز اپنی بڑائی کا کوئی دعوی بھی نہیں کرتے بلکہ خود کو گنہگار سمجھتے ہیں اور اپنے اس گناہ کی تلافی کے لیے ہر سال داتا صاحب کے عرس پر زائرین کو خالص دودھ مفت سپلائی کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

اس کے بیس بالائی طبقہ دودھ پر سے بالائی اتارنے اور بچے کچھے دودھ نما چیز میں چھپٹر کا پانی ملانے کے باوجود خود کو ملک و قوم کا محسن بھی قرار دیتا ہے معزز بن کر اعلی مسند پر فائز بھی ہوتا ہے حب الوطنی اور غداری کے سرٹیفکیٹ بھی بانٹتا ہے اور فراعین مصر کے بعد یہ واحد طبقہ ہے جس کے افراد کو یقین ہے کہ انہوں نے مرنا نہیں ہے اور خدا کے حضوربھی پیش نہیں ہونا یہی وجہ ہے کہ اس طبقے کے افراد انسانوں سے خدا کے لہجے میں بات کرتے ہیں بہت سے انسان تو انہیں خداسمجھ بھی بیٹھتے ہیں چنانچہ ان کے قصیدے لکھتے ہیں اور ان کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں لیکن جب سجدے سے سر اٹھاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کا” خدا“ تو مر چکا ہے۔

پھر انہیں افسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے ایک خالی انسان کے قصیدے کیوں لکھے ان کی تو ساری مناجا تیں ضائع چلی گئیں مگر حیرت ہے کہ اس کے باوجود وہ کسی نئے خدا کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں اوراز سرنومنا جات کا سلسہ شروع کردیتے ہیں!
بالائی طبقے کے افراد کی موت کے حوالے سے جوتحقیق ہوئی ہے اس کے مطابق ان کی موت بھی زیادہ تعداد میں بالائی کھانے سے ہوتی ہے جب تک یہ تھوڑا تھوڑا کھاتے رہتے ہیں یہ چاق و چوبند رہتے ہیں اور اپنی ذہنی صلاحیتوں کی وجہ سے عوام کو یقین دلانے میں کامیاب رہتے ہیں کہ ملک و قوم کی بقا کے لیے ان کی بالا دستی ضروری ہے لیکن جب یہ دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع کرتے ہیں اور عوام نان جویں کے لیے بھی تر سنے لگتے ہیں تو ایک طرف عوام میں ان کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے اور دوسری طرف زیادہ بالائی کھانے سے ان کے جسم اور دماغ پر اتنی چربی چڑھ جاتی ہے کہ وہ عوام کو بے وقوف بنانے والے فیصلے عقل مندی سے نہیں کر پاتے جس کے نتیجے میں ان کے خلاف بغاوت ہو جاتی ہے اور تخت کی جگہ تختہ ان کا مقدر بنتا ہے۔

چنانچہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ روس ‘چین ایران ‘فرانس اور دوسرے بہت سے ملکوں میں بالائی طبقے کی موت زیادہ بالائی کھانے کی وجہ سے ہوئی ان واقعات کے نتیجے میں بالائی طبقہ پر دنیا کی بے ثباتی کا اس درجہ اثر ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے بچے کچھے دن قوم کی بچی کچھی بالائی پر بھی ہاتھ صاف کرنے میں بسر کر دیتے ہیں کہ اگر مرنا ہی ہے تو کیوں نہ بالائی کھاتے ہوئے مرا جائے۔

یہ سوچ ان کی کم فہمی کا نتیجہ ہے کیونکہ عوام کے بیدار ہونے پر یورپ کے بہت سے ممالک کے بالائی طبقے نے بالائی میں سے عوام کو بھی حصہ دینا شروع کر دیا جس کے نتیجے میں عوام بھی موت کے منہ میں جانے سے بچ گئے اور یہ طبقہ بھی اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گیا مگر پسماندہ مما لک کا بالائی طبقہ ذہنی طور پر پسماندہ ہوتا ہے۔ چنانچہ آ خری گھنٹی بجنے پر بھی وہ ہوش میں نہیں آتا جس کا خمیازہ اسے بہرحال بھگتنا پڑتا ہے۔

بالائی طبقے کے بارے میں بتانے کی ایک بات یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں کچھ عرصے سے اس طبقے کے افراد خود کو عوامی ثابت کرنے کے لیے نچلے طبقے کے چند افراد کو بھی اپنے ساتھ رکھتے ہیں اس نچلے طبقے کے افراد اپنے طبقے کے مفادات کی حفاظت کی بجائے اپنے آقاوٴں کے مفادات کے محافظ بن جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ عوام کو یقین دلانے میں لگے رہتے ہیں کہ ان کی موجودگی میں بالائی طبقہ ان کے حقوق پر چھاپہ نہیں مار سکتا۔

کچھ عرصہ تک ان نمائشی پہلوانوں کی حکمت عملی بہت کامیاب رہتی ہے یعنی عوام انہیں اپنا سمجھتے رہتے ہیں لیکن ایک وقت آتا ہے کہ ان کٹھ پتلیوں کی حقیقت عوام پر واضح ہو جاتی ہے مگر اس وقت تک نچلے طبقے کے ہی افرادبنفس نفیس باس لائی طبقے میں تبدیل ہو چکے ہوتے ہیں اور یوں بچارے عوام صرف دانت کچکچا کر رہ جاتے ہیں.یوں تو بالائی طبقے کے بارے میں بتانے کی اور بہت سی باتیں ہیں لیکن طوالت سے بچنے کے لیے آخر میں یہ عرض کرنا ہے کہ بالائی طبقہ کسی ایک طبقے کا نام نہیں بلکہ اس میں بہت سے مفاداتی اور طاقت ور گروپ شامل ہوتے ہیں اس کے متنوع ہونے کا اندازہ آپ اس امر سے لگا سکتے ہیں کہ بالائی طبقہ بیک وقت چوروں اور سادھوں پر مشتمل ہوسکتا ہے اور یہ ان کی بقا کے لیے ضروری ہے تاہم واضح رہے کہ بقا صرف خدا کی ذات کو ہے باقی سب کوفنا ہونا ہے اور ایمان والوں کو اس میں کوئی شک نہیں!

Your Thoughts and Comments