Banyan Aor Mehman

بنیان اور مہمان

طارق احمد جمعہ جولائی

Banyan Aor Mehman

ہم لاہور میں پیدا ہوئے لیکن ہمارے گھر کا ماحول دیہاتی تھا۔ پرائمری سے انگریزی ادب میں ماسٹر تک ہماری تمام تعلیم اور تربیت لاہور میں ہی ہوئی۔ اس کے باوجود ہمارے پینڈو پن پر اس سے کوئی فرق نہ پڑا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ ہمارے ددھیال گاؤں سے تھے جبکہ ننھیال اندرون شہر لاہور سے تھے۔ یعنی ایک پینڈو دوسرا نیم چڑھا۔ گرمیوں کے موسم میں ہم تینوں بھائی گھر میں قمیض نہیں پہنتے تھے البتہ بنیان ضرور زیب تن کر لیتے۔

کبھی کوئی مہمان بن بلائے ہی آ جاتا ھے۔ یہ ایک اتوار کی صبح تھی۔ کال بیل کی آواز پر ہم نے نیچے جھانک کر دیکھا تو ہمارا ماسٹرز کا ایک کلاس فیلو کھڑا نظر آیا۔ ہم اپنے روایتی لباس یعنی بنیان اور پاجامے میں ملبوس سیڑھیاں اتر کر آئے اور گھر کے گیٹ پر ہی اس سے گپ شپ شروع کر دی۔

(جاری ہے)

ہمارا یہ دوست کیولری گراؤنڈ کا رہنے والا تھا۔ اچھی امیر فوجی فیملی سے اس کا تعلق تھا۔

اس نے بہترین جین کی پینٹ پہن رکھی تھی، برینڈڈ ٹی شرٹ اور آنکھوں پر قیمتی گاگلز، نئی موٹر سائیکل پر سٹائل سے بیٹھا وہ کسی فلم کا ہیرو لگ رہا تھا۔ ہم باتیں تو کر رہے تھے لیکن ہمیں محسوس ہو رہا تھا کہ وہ ہماری بنیان کی وجہ سے کچھ کسمسا رہا ہے اور ان ایزی ہے۔ اتنی دیر میں ہمارا چھوٹا بھائی بھی باہر آ گیا۔ یار یہ صبح صبح کون آ گیا ہے۔ ہمارے دوست کو دیکھ کر اس نے ہاتھ ملایا جبکہ ہمارا دوست ہاتھ ملانے میں کم اور اس کی بنیان میں دلچسپی زیادہ لے رہا تھا اور واضح طور پر اپ سیٹ ہو چکا تھا۔

ابھی ہم اس صورت حال پر غور فرما ہی رہے تھے کہ دوسرے دروازے سے ہمارے بڑے بھائی بنیان سمیت نمودار ہوئے اور پیٹ کجھلاتے ہوئے پوچھا یار سب ٹھیک ہے نا؟ ادھر ہمارے برینڈڈ دوست کا اوپر تلے بنیانوں کی یہ کیٹ واک دیکھ کر برا حال ہو چکا تھا اور ہمیں خدشہ تھا وہ غش کھا کر گرنے ہی والا ہے۔ ہم اس کا باتوں میں دھیان لگانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اس نے آخر کراہتے ہوئے دبے لہجے میں پوچھ ہی لیا، یہ تمہارے گھر میں قمیض پہننے کا رواج نہیں ہے؟ ابھی یہ جملہ اس کے منہ میں ہی تھا اور ہم کوئی مناسب سا جواب سوچ رہے تھے کہ ہمارے والد صاحب باہر تشریف لے آئے۔

انہوں نے دھوتی کے اوپر بنیان پہن رکھی تھی۔ بنیان کی دونوں تنیوں میں ھاتھوں کے انگوٹھے پھنسا رکھے تھے، جیسے چلتے ہوئے آدمی کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال لیتا ہے۔ انہوں نے اپنے ہونٹ سکیڑے ہوئے تھے، جہاں سے ایک فوک سونگ کی ہلکی سی دھن سیٹی کی آواز میں برآمد ہو رہی تھی، اور وہ آہستہ آہستہ اس دھن کو انجوائے کرتے کارنر شاپ کی طرف جا رہے تھے۔ ہم نے آواز دے کر پوچھا، ابو! کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے پلٹ کر ایک دل آویز مسکراہٹ سے ہمیں دیکھا اور کہا یار وہ میں انڈے لے آؤں۔ ابھی ان کی بات ختم نہ ہوئی تھی کہ ہمارے دوست نے اپنی موٹر سائیکل کو کک ماری اور یہ جا وہ جا۔ غالباً اس کی قوت برداشت جواب دے گئی تھی ورنہ ہم اس کو بتانے ہی والے تھے کہ ہم گھر میں قمیض کیوں نہیں پہنتے۔

Your Thoughts and Comments