Bemarastan

بیمارستان

منگل ستمبر

Bemarastan

جب ڈاکٹر موجودہ حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو ہمیں حیرت ہوتی ہے کیونکہ جتنا اس حکومت نے ڈاکٹروں کی بھلائی کا اہتمام کیا ہے اور کسی حکومت نے نہ کیا ہوگا ۔ سڑکیں ہی دکھ لیں تو لگتا ہے عوام کی بھلائی کے لئے نہیں بنائی گئیں بلکہ آرتھو پیڈک ڈاکٹروں کے لئے ہیں۔ پاکستان سیاست دانوں ، مجرموں اور ڈاکٹروں کی جنت ہے۔ ڈاکٹروں کے نزدیک انسان دو قسم کے ہوتے ہیں ۔

ایک جو بیمار ہوتے ہیں۔ اور دوسرے وہ جنہوں نے بیمار ہونا ہوتا ہے۔ نیا ڈاکٹر وہ ہوتا ہے جس کے پاس کوئی پرانا مریض نہیں آتا۔ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے پاس آنے والے مریضوں کا پہلے تعلق غریب طبقے سے نہیں ہوتا۔سپیشلسٹ ڈاکڑ وہ نہیں ہوتا جو ایک مرض کا علاج کرتا ہے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو ایک مریج کا علاج کرتا ہے۔ جب ڈاکٹروں کی تعداد بڑھے تو مریضوں کی تعداد بڑھنے لگتی ہے۔

(جاری ہے)

سائنس نے بڑی ترقی کی لیکن اتنی دوائیاں دریافت نہیں کیں جتنی بیماریاں کی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ جدید تحقیق کے مطابق بے روزگار رہنا بھی ایک بیماری ہے اور ایک دن بے روزگار رہنا دس پیکٹ سگریٹ پینے کے برابر ہے۔ یعنی دونوں صورتوں میں جسمانی اور ذہنی بیماریاں ایک سی ہوتی ہیں۔ یوں اس خبر سے پتا چلا کہ ملک میں جو 17 لاکھ 80 ہزار بے روزگار ہیں، وہ سستے ڈاکٹروں کا روزگار ہیں۔


پاکستان وہ ملک ہے جہاں ملازمتوں پر اکثر پابندی ہوتی ہے۔ ورنہ حکومت کے لئے عوام کو روزگار دینا کونسا مشکل کام ہے۔ اسے وزیر بنا سکتی ہے۔ سابقہ حکومت میں ایک ورکر نے کہا کے مجھے نوکری دیں۔ صاحب اقتدار بولے: کوئی جاب خالی نہیں۔ جب کوئی سیٹ نکلے گی تو سب سے پہلے تمہیں نوکری ملے گی۔ کارکن نے ضد کی کہ آپ نے تو کہا تھا کہ حکومت میں آکر ہر صورت نوکری دلواؤں گا۔

تو صاحب اقتدار نے کہا: اچھا میں ابھی اک کمیٹی تشکیل دیتا ہوں جو یہ پتہ کرے کہ نوکریاں کم کیوں ہیں اور تم اس کمیٹی کے چیئر میں بن جاؤ۔ یاد رہے بے روزگار اسے نہیں کہتے جو کچھ نہیں کرتا کیونکہ اگر کچھ نہ کرنے والوں کی فہرست بنائی جائے تو ہر دس میں سے سات سرکاری ملازم ہوں گے۔ بے روزگار رہنا آسان نہیں۔ اس میں کام کرنے سے کہں زیادہ توانائی خرچ ہوتی ہے۔

تاہم اس تحقیق سے یہ پتہ چلا کہ بے روز گار ہونا بے کار نہیں، روزانہ سگریٹ کی کئی ڈبیوں کا خرچہ بچتا ہے۔ سگریٹ کے بارے میں ہماری بھی یہی رائے ہے کہ اس کے ایک سرے پر شعلہ اور دوسرے پر ایک بے وقوف ہوتا ہے۔ ایک دانشور نے بتایا کہ ایک دن میرا بیٹا کہنے لگا: ”ابو آپ ہر روز درجنوں مرتبہ کاغذ کے ٹکڑوں کو آگ لگاکر منہ میں کیوں ڈال لیتے ہیں؟“ آسکر وائلڈ کی ایک کردار لیڈی بریکنیکل کہتی ہے؛ ”جب کوئی مرد مجھے کہتا ہے کہ وہ سگریٹ پیتا ہے تو یہ جان کر مجھے خوشی ہوتی ہے کیونکہ مردوں کا کوئی نہ کوئی پیشہ ہونا چاہیے اور لندن میں تو پہلے ہی بہت بے روزگار ہیں۔

“اعداد و شمار کے مطابق ہمارے ہاں روزانہ 1000 مرد سگریٹ نوشی تک کرتے ہیں۔ ان میں سے 999 وہ ہوتے ہیں جو ایک روز قبل بھی یہ کچھ کر چکے ہوتے ہیں۔ ہمارے ایک عزیز نے اپنے پندرہ سالہ لڑکے سے کہا: ”بیٹاوعدہ کرو۔ جب تم سکریٹ شروع کرو گے تو خود ہی مجھے بتا دو گے۔ ‘تو وہ بولا: ”آپ پریشان نہ ہوں۔ میں نے کل سے سگریٹ نوشی ترک کر دی ہے۔ “ لیکن نئی تحقیق کے مطابق تو بے روزگاروں کی سگریٹ نوشی ختم کرانے کی ایک ہی صورت ہے کہ انہیں روزگار ملے۔

بے روزگاری عمر بھی کم کرتی ہے۔ ویسے اگر آپ لمبی عمر چاہتے ہیں تو وہ کچھ کرنا بند کر دیں جو آپ کرنا چاہتے ہیں اور وہ کچھ کریں جو آپ نہیں کرنا چاہتے۔کہتے ہیں وہ پیشہ جس میں سب سے زیادہ جان کا خطرہ ہوتا ہے، وہ بے روزگاری ہے ۔ اگرچہ اس بات کی ہمیں سمجھ نہیں آئی۔ جس بات کی ہمیں سمجھ نہیں آتی ، وہ یقیناکوئی سمجھ والی بات ہی ہوگی۔ ہم باکسنگ کو دنیا کا سب سے وحشیانہ کھیل سمجھتے ہیں۔

اک تحقیق نے اعداد وشمار کی روشنی میں ثابت کیا کہ دنیا کا سب سے وحشیانہ کھیل تا ہے۔ آج تک جنتے لوگ اس میں زخمی ہوئے ہیں، اتنے باکسنگ میں نہیں ہوئے۔
سگریٹوں کے بارے میں ہماری رائے ایسی ہی ہے جیسی لوگوں کی ہمارے بارے میں ۔ بے نظیر بھٹو نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا چالیس سال تک بندہ گوشت کھاتا ہے اور چالیس سال کے بعد گوشت بندے کو کھاتا ہے۔

ایسے ہم سمجھتے ہیں پہلی ڈبی سگریٹ بندہ پیتا ہے اور اس کے بعد سگریٹ بندے کو پیتا ہے۔ سگریٹ نوشی کئی بیماریوں کا باعث ہے جن میں جگر، دل اور دماغ کی نمایاں ہیں، لیکن سگریٹ نوشی بڑھاپے کا علاج بھی ہے جبکہ ہمارے ہاں ہر کسی کی خواہش ہوئی ہے کہ بڑھاپا بہت طویل ہو۔
ہمارے ہاں بے روزگار ہونا اتنا بھی آسان نہیں، اس کے لئے پہلے پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے۔

اگرچہ ملک سے بیروزگاری کم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں کو چند سالوں ے لئے بند کر دیا جائے۔ اس وقت پاکستان میں 17 لاکھ 80 ہزار سے ذائد بے روزگار ہیں، لیکن اس کے باوجود کہا جاتا ہے کہ ہر پاکستانی کی اوسط آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ ویسے جہاں تک لفظ اوسط کا تعلق ہے، یہ برا اوسط درجے کا لفظ ہے۔ مشہور ماہر معاشیات والٹر ہیلر کہتا ہے کہ جب کوئی ماہر شماریات اوسط کا لفظ استعمال کرتا ہے تو اس کی مثال ایسے ہیں ہے جیسے ایک آدمی کا ایک پیر چلتے ہوئے چولہے میں اور دوسرا پیر فریج میں رکھ دیا جائے تو اس پر ماہر شماریات یہ بتائے کہ اوسط کے اعتبار سے یہ شخص انتہائی پر سکون ہے۔

سو اوسط کے لحاظ سے تو ہر پاکستانی پر سکون ہے۔ غصے اور بے روزگاری میں بندہ اپنی انرجی اپنے ہی خلاف استعمال کرتا ہے ۔ بے روزگاری میں مبتلا مریضوں کے علاج کے لئے ابھی تک کوئی موثر دوا مارکیٹ میں نہیں آئی۔ ہم سمجھتے ہیں بے روزگاروں کا علاج اب حکومت کے پاس نہیں، ڈاکٹروں کے پاس ہی ہے۔ ویسے یہ بھی ممکن ہے حکومت بے روگاری میں دن بدن اضافہ ڈاکٹروں کو روزگار مہیا کرنے کے لئے ہی کر رہی ہو۔

Your Thoughts and Comments