Bhai Jaan Zaya Ul Haq Ki Baty

بھائی جان ضیاء الحق کی باتیں!

جمعہ جنوری

Bhai Jaan Zaya Ul Haq Ki Baty
عطاء الحق قاسمی:
ممکن ہے بھائی جان ضیاء الحق ”کی“ترکیب پر ہمارے قارئین چونکیں لیکن ہم محسوس کرتے ہیں وہی لکھتے ہیں خیر چھوڑیں بات دراصل یہ ہے کہ بھائی جان ضیاء الحق سے ہمارے اختلافات روز بروز شدید سے شدید تر ہوتے چلے جارہے ہیں اور ہم یہ کالم ان اختلافات کے اظہار ہی کے لیے لکھ رہے ہیں ہمارا ان سے بنیادی اختلافات اسلامی نظام کے حوالے سے ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اسلامی نظام نہ صرف یہ کہ نافذ نہیں ہوا بلکہ آئندہ کے لیے بھی اس کی راہ میں کاٹنے بودیئے گئے ہیں جبکہ بھائی ضیاء الحق ہمیں سمجھاتے رہتے ہیں کہ ملک کو اسلام کے راستے پر ڈال دیا ہے اپنے اس موقف کے سلسلے میں ان کے پاس جو دلائل ہیں وہ یہ ہیں کہ شرعی عدالتیں قائم کردی گئی ہیں محلے محلے میں صلوٰة کمیٹیاں بنائی گئی ہیں رمضان المبارک میں ٹیلی وژن سے شبینہ کی محفلیں نشر ہوتی ہیں ٹیلی وژن ہی سے براہ راست حج نشر کیا جاتا ہے سرکاری تقریبات کا آغاز قرآن پاک نعت رسول سے اور تقریر کا آغاز بسم اللہ سے کیا جاتا ہے حدود آرڈیننس نافذ ہے چنانچہ شریعت کے مطابق گناہ گاروں کو کوڑوں وغیرہ کی سزا دی جاتی ہے نظام زکوٰة نافذ کیا جاچکا ہے غیر سودی نظام بھی متعارف کیا گیا ہے احترام رمضان کی سختی سے پابندی کروائی جاتی ہے چنانچہ روز خوروں کے لیے باقاعدہ سزائیں مقرر ہیں اوریہ سزائیں دی بھی جاتیں ہیں نظام اسلام کے قیام کے ضمن میں بھائی ضیاء الحق اس قسم کے اور بھی بہت دلائل دیتے رہتے ہیں مگر ان میں سے کوئی دلیل بھی ہمیں مطمٴن نہیں کرتی کیونکہ ان سب دلائل کے جواب میں ہمارے ذہن میں صرف ایک سوال ابھرتا ہے اور وہ یہ کہ ان تمام اقدامات کا نیٹ رزلٹ کیا ہے؟یعنی کیا لوگوں کو سستا اور فوری انصاف ملنا شروع ہوگیا ہے کیا کوڑے”اکابر“مجرمین کے آلہ کاروں کوہی لگتے ہیں یا آج تک اکابر مجرمین میں سے بھی کسی کی چمڑی ادھیڑی گئی ہے کیا ملک میں سب گداگر ختم ہوگئے ہیں اور یوں خیرات دینے والوں کو کوئی خیرات لینے والا نہیں ملتا؟کیا امن و امان کی صورتحال تسلی بخش ہوگئی ہے اور لوگ بغیر کسی خطرے کے بازاروں میں سونا اچھالیتے گزرتے ہیں یا وہ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں؟کیا قتل کی وارداتوں میں کمی ہوگئی ہے یا آئے روز بدترین قسم کے قتل رواج پارہے ہیں؟کیا بوڑھوں بیواؤں یتیموں بے روزگاروں کو ماہانہ وظائف کی صورت میں اتنی رقم مل جاتی ہے کہ وز عزت و آبرو کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرسکیں؟کیا پاکستانی قوم کے تمام بچے ایک جیسے سکولوں میں تعلیم پاتے ہیں یا ایچی سن کالج اورکسی درخت کے نیچے تعلیم دینے والے سکول آمنے سامنے قائم ہیں؟کیا سب بچوں کے ہاتھوں میں کھلونے ہیں یا ان میں سے کچھ کے ہاتھوں میں کھلونے اور باقیوں کے ہاتھوں میں اوزار پکڑادئیے گئے ہیں کیا غریبوں کو دوا مل جاتی ہے یا وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجاتے ہیں؟یا قوم کی سب بیٹیاں ایک جیسی عزت و تکریم سے بیاہی جاتی ہیں یا ان میں سے بیشتر مالک ارض و سمائہ سے موت کی دعائیں مانگتی رہتی ہیں؟کیا پاکستان کے ہر شہری کو سر چھپانے کے لیے ایک ایک کمرے کا گھر ہی سہی مل گیا ہے یا ان کے مقدر میں ابھی تک بڑی حویلوں کی ڈیوڑھیوں ہی میں پڑے رہنا ہے؟کیا بڑی چھوٹی کاروں کے ساتھ ساتھ عوام الناس کے لیے بھی ٹرانسپورٹ کی سہولتیں بہتر بنائی گئی ہے یا انہوں نے ساری عمر بسوں کے ہینڈلوں سے لٹک کر یا ویگن میں سرنگوں ہوکر ہی سفر کرنا ہے؟کیا رشوت کا قلع قمع ہوگیا ہے یا اس کی شرح میں اضافہ ہوتا چلا گیا ہے کیا نوے فی صد کا رزق دس فی صد لوگ تو نہیں کھارہے اگر ان سوالوں کا جواب منفی ہے اور اگر نظام اسلام نافذ ہونے کے بعد بھی صورت حال پہلی سی ہے بلکہ بگڑتی ہوئی صورت بدترین ہوچکی تو پھر خدا کے لیے ایک بار ہی اعلان کھل کرکردیں کہ گزشتہ آٹھ برس میں اسلام کا صرف نام استعمال ہوا ہے یا ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جس سے ظالمانہ نظام کی صحت پررتی بھر فرق نہیں پڑا تاکہ اس کے بعد اگر کوئی سیاسی پارٹی اسلامی فلاحی مملکت کا پروگرام لے کر عوام کے سامنے آئے تو عوام اسے ایک تمسخر کے ساتھ ردنہ کردیں کہ جناب ہم نظام اسلامی آزماچکے ہیں اس میں ہمارے دکھوں اور ہمارے مسائل کا کوئی حل نہیں لہٰذا اب یہ دھوکہ کسی اور کودیں!اوپر کی سطور میں ہم نے خاصی کڑوی باتیں کی ہیں مگر بھائی جان ضیاء الحق میں خوبی یہ ہے کہ وہ کڑوی سے کڑوی بات بھی پوری خوشدلی سے سنتے ہیں اور قطعاً ناراض نہیں ہوتے بلکہ اس دوران ان کے چہرے کی مسکراہٹ میں بھی کوئی کمی نہیں آتی چنانچہ کبھی کبھی یہ گمان گزرتا ہے کہ جیسے وہ نہ صرف یہ کہ مخاطب کے ساتھ اتفاق کررہے ہیں بلکہ وہ اصلاح احوال کے لیے اپنا کردار بھی بھرپور طور پرانجام دیں گے مگر افسوس حقیقتاً ایسا نہیں ہوتا چنانچہ ہم نے بھائی جان ضیاء الحق سے مندرجہ بالا موضوع پر بیسیوں نشستیں ٹیلی فون پر گفتگوئیں او ر لمبی لمبی خط و کتابت کرکے دیکھ لیا ہے او رہم مایوس ہوکر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان سے اس موضوع پر گفتگو ہی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ بڑے بھائی کا رشتہ ایسا ہے کہ ایسے موقع پر چھوٹے بھائی بالاآخر چپ سادھنا پڑتی ہے سو وہ ایک عرصے سے ہم نے سادھ رکھی ہے ہم نے بھی بھائی جان ضیاء الحق کے حوالے سے اتنی ساری باتیں اپنے قارئین کو بتائیں مگر بھائی جان کا پورا تعارف تو کرایا ہی نہیں بھائی جان ضیاء الحق میرے اکلوتے بھائی ہیں عمر میں مجھ سے دس سال بڑے ہیں حیدرآباد سندھ میں مقیم ہے اور صدر ضیاء الحق کے زبردست حامیوں میں سے ہیضں انہوں نے ضیائے حق کے نام سے ایک کتاب بھی مرتب کی ہے جس میں شعراء کی طرف سے صدر ضیاء الحق کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے وہ ہمیں جب بھی ملتے ہیں ٹیلی فون کرتے ہیں یا خط لکھتے ہیں صدر ضیاء الحق کو درمیان میں ضرور لے آتے ہیں اور نفاذ اسلام کے حوالے سے ان کی اتنی تعریف کرتے ہیں کہ ہمیں مجبوراً اپنا نقطہ نظریہ بیان کرنا پڑتا ہے مگر ایک عرصے سے ہم ان کی باتیں سن کر خاموش رہتے ہیں کہ جانتے ہیں بولنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ہم برادر خورد ہیں وہی برادر خورد جس کے بارے میں فارسی والوں نے سگ طاش برادر خورد مباش والا محاور یا مقولہ ایجاد کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم ایسوں کی زبان بندی کردی ہے لیکن اگر ہم اصلاح احول چاہتے ہیں تو ہمیں من حیث القوم کو شش کرنا ہوگی کہ آئندہ ہمارے درمیان چھوٹے بھائی پیدا ہونے بند ہوجائیں!

Your Thoughts and Comments