Bilkul Sachay Qisay Shikar Ke

بالکل سچے قصے شکار کے

جمعرات مئی

Bilkul Sachay Qisay Shikar Ke

صاحبو۔ یہ واقعہ جو میں سنانے والا ہوں میرے الّھڑپنے کے دنوں کا ہے ابھی میں فوج میں نہ گیا تھا بالکل آزاد تھا جہاں چاہوں جاو¿ں۔ جو چاہوں کروں آج بھی وہ مزے کے دن یاد آتے ہیںخیر ایک بار میں یاروں کے ساتھ سیرو شکار کو نکلا اور جنگل میں ایک جھونپڑے میں جا بسیرا کیا۔ جھونپڑے کے باہر ایک جو ہڑ تھا ایک روز صبح صبح جو میں نے کھڑکی میں سے باہر جھانکا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پورا جو ہڑ مرغابیوں سے پٹا ہے ۔

میں جھٹ کونے سے شکاری بندوق اُٹھا اورباہر کو بھاگا ، اتاو¿لا سوباولا۔ نکلتے میں میرا سر دروازے کی چوکھٹ سے اس طرح ٹکرایاکہ آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹ نکلیں ۔ خیر سر کو سہلاتا میں ایسی جگہ پہنچ گیا جہاں سے مرغابیوں کانشانہ لے سکتا تھا اب بندوق جو اُٹھاتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ چقماق کا ٹکڑا ہی غائب ہے ۔

(جاری ہے)

دروازے سے جو ٹکر لگی تھی اس کے صدمے سے یہ بھی باہر جاپڑا اب کیاکیا جائے؟ ۔

یکایک مجھے یاد آیا کہ میرا سر چوکھٹ سے ٹکرایا تھا تو آنکھوں سے چنگاریاں نکلی تھیں۔ میں نے بندوق کاخانہ کھولا۔ اس میں بارود اور چھر ے بھرے اور اس کی نال مرغابیوں کی طرف درست کر کے ایک زور کا گھونسا اپنی ناک پر رسید کیا اب کیا تھا۔ آنکھوں سے پھر چنگاریاں نکلیں اور بندوق سر ہو گئی خدا جھوٹ نہ بلوائے اس ایک فیر میںکوئی پچاس جوڑے مرغابیوں کے ہاتھ آئے۔

کوئی بیس جنگلی کبوتر تھے اور تین جوڑے تیتروں کے سب کو اِکٹھا کیا اور خوب ضیافت اُڑائی۔اچھا، اب شکار کا ایک واقعہ اور سنو۔ یہ واقعہ روس کے ایک جنگل کا ہے ایک روز مجھے ایک ایسی لومڑی نظر آئی جس کی کھال بہت ملائم اور خوبصورت تھی گولی مارتا تو کھال داغدار ہو جاتی۔ سوچتے ہوئے ایک ترکیب سوجھ گئی اس وقت لومڑی ایک درخت کے پاس بے خبر کھڑی تھی۔

میں نے گولی نکالی اور ایک کیل اس میں پھنسا دی اس کے بعد اس کی دم کو نشانہ بنایا کیل نشانے پر پڑی اور لومڑی کی دُم کو درخت کے تنے میں پیوست کر دیا۔ ہر چند زور مارتی تھی الگ نہ ہو سکتی تھی میں نے قریب جاکر چاقو سے ایک شگاف اِدھر کو دیا دوسرا اُدھر کو جیسے ضرب کا نشان بناتے ہیں پھر ایسے تڑا تڑ کوڑے جمائے کو لومڑی کھال کو وہیں چھوڑ نکل بھاگی۔


ایک اورواقعہ اس سے ملتا جلتا عرض کرتا ہوں میں گھنے جنگل میں شکار کھیل رہا تھا کہ ایک سو¿ر اور سو¿رنی کو آگے پیچھے بھاگتے دیکھا میںنے گولی داغ دی لیکن اتفاق دیکھئے کہ کسی کو بھی نہ لگی ۔ تاہم میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ سو¿ر تو بھاگتا دور نکل گیا ہے اور سو¿رنی وہیں جمی کھڑی ہے۔ پاس جاکر دیکھا تو بھید کھُلا سورنی بڑھاپے کی وجہ سے بینائی سے محروم ہو گئی تھی اس لیے اپنے سو¿ر کی دُم منہ میں لے کر چلتی تھی۔

میری گولی سو¿ر کی دم پر پڑی۔ آدھی دُم سو¿ر لے بھاگا آدھی اس سورنی کے منہ میں رہ گئی ۔اس بچاری کو حادثے کا پتہ تک نہ چلا میںنے دُم کے اس ٹکڑے کو تھاما اور سورنی کو کھینچتا کھینچتا اپنے گھر لے آیا۔یہ سورنیاں بڑی خوفناک ہوتی ہیں لیکن سو¿ر ان سے بھی بڑھ کر، خصوصاََ وہ جن کے دانت ہاتھی یا گینڈے کی طرح باہر کو نکلے ہوتے ہیں۔

ایک بار ایسے ہی ایک سو¿ر نے اچانک مجھ پر حملہ کر دیا اور تو کوئی صورت نہ تھی پاس ہی ایک درخت تھا اس کے پیچھے سٹک گیا سور نے حملہ اس زور سے کیا تھا کہ اس کے دانت درخت کے تنے میں کھب گئے اور آر پار نکل گئے۔ بہت زور مارتا تھا لیکن دانت پیچھے نہ کھینچ سکتا تھا۔ مزید احتیاط کے لیے میں نے ایک پتھر اُٹھایا اور دانتوں کے سوو¿ں کو کیلوں کی طرح موڑدیا۔ اس کے بعد بستی میں گیا رستے لایا اور ایک گاڑی لایا اور سو¿ر کو زندہ ہی باندھ کر گاڑی میں ڈال لے گیا بالکل کوئی دقت نہ ہوئی۔

Your Thoughts and Comments