Butt Dharmian

بٹ دھرمیاں

ہفتہ 31 اکتوبر 2015

منصور احمد بٹ:
سنا ہے بٹوں کی اڑھائی پسلیاں زیادہ ہوتی ہیں مگر ہمارا اس بات پر یقین نہیں۔ہماری اڑھائی پسلیاں زیادہ توا یک طرف اصل سے بھی اڑھائی پسلیاں کم ہیں۔اگر کسی کے سامنے ہمارا کوئی دوست ہمیں بٹ کہہ کرمخاطب کرتا ہے تو سننے والا حیرت سے دائیں بائیں دیکھنے لگتا ہے کبھی وہ اوپر دیکھتا ہے جیسے یہ قرب قیامت کی نشانی ہی توہے۔

جب اسے وہاں کوئی بھی نظر نہیں آتا تو وہ مخاطب کی طرف حیرت سے دیکھتا ہے جیسے اس نے اسے ہی توبٹ کہہ کربلایاہو۔ناجانے کیوں اکثر لوگ ہمیں بٹ نہیں سمجھتے،میرا دوست”ط“کہتا ہے۔
تم میں بٹوں والی کوئی بات نہیں تم توبٹوں کے نام پربٹہ ہو۔بھلابٹ ایسے ہوتے ہیں۔
ویسے بٹ وہ واحد چیز ہے،جوپاکستان کے علاوہ یورپ بلکہ پوری دنیا میں پایا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

یقینا آپ بھی انگریزی بٹ سنا اورپڑھا ہوگا،بلکہ اسے استعمال بھی کیا ہوگا۔ناجانے انگریزوں کویہ بٹ کی لت کہاں سے پڑگئی۔
”ط“کہاکرتا ہے:
تم اپنے بٹ کے ساتھ Buttکے بجائے صرفButہی لکھا کرو،کیونکہ تمہارا ہاضمہ اتنا درست نہیں کہ تم دو”T“ ہضم کرسکو۔
شاید وہ ٹھیک ہی کہتا ہے۔
بٹ بھی عجیب چیز ہے،وہ بٹ ہی نہیں جولاجواب ہوجائے وہ بٹ ہی کیاجو گورا اور چوڑا نہ ہو،ہم میں صرف اول الذکرخوبی پائی جاتی ہے،”ط“ کہاکرتا ہے ۔


اگرتمہاری صحت بٹوں والی نہیں بن سکتی ،کم ازکم حرکتیں ہی ویسی کرلیا کرو،نہ تمہاری صحت بٹوں والی ہے اور نہ حرکتیں۔
بٹ توبات بات پر مسکراتے ہیں،بلکہ بے بات پربھی مسکراتے ہیں۔
بٹوں کے بارے میں سے بہت سی باتیں مشہور ہیں،جن میں سے چند آپ کے گوش گزار کررہے ہیں۔بٹ بہت کھابہ گیرہوتے ہیں۔اگر آپ کسی کوکھاتے ہوئے دیکھیں،کھانے کے دوران شورہا ہاتھوں سے بلکہ بازوؤں سے ٹپک رہاہوتو آپ آنکھیں بند کرکے یقین کر سکتے ہیں کہ وہ بٹ ہے، وہ بٹ ہی کیاجوکھانے سے کشتی نہ لڑے۔

کہتے ہیں کہ بٹ کے لیے ضروری ہے کہ اس کی جیب میں ہروقت ہزار پانچ سو روپے موجودہوں کہیں اور کسی بھی وقت ہنگامی طور پر بھوک لگ سکتی ہے اور پھر․․سنا ہے عقل بٹوں کے قریب سے بھی نہیں گزری۔ہمارے ایک دوست ہیں اتفاق سے وہ بھی بٹ ہیں وہ اپنی گفتگو کاآغاز عموماََان الفاظ سے کرتے ہیں۔
اس غلط فہمی میں نہ رہنا،وہ بھی میری طرح بٹ ہے،سوچنا اس کے بس کی بات کہاں؟
یاربندہ بن بٹ نہ بن۔


بھئی کوئی ڈھیٹ ہوتو ہم بٹوں جیسا۔
ہمارے وہ دوست اکثر ہم سے کہاکرتے ہیں۔
یارتم بٹ ہوکرڈرپوک ہو،شرم کرو،کشمیریوں کاناک ہی نہ کٹوادینا۔
ایک بار ہم اپنے دوست کے دفتر گئے،جونہی موصوف نے ہمیں بٹ صاحب کہہ کرمخاطب کیا، وہاں موجود لوگ حیرت سے ہماری طرف دیکھنے لگے۔جیسے اس نے بٹ کہہ کرہم پرطنز کی ہو۔ویسے ہمارا وہ دوست بھی عجیب آدمی ہے،وہمیں دیکھ کر حسرت سے کہتا ہے۔


یار کبھی توبٹ بنا کرو،مجھے تو حسرت ہی رہی کہ تم میں بٹوں والی کوئی ایک عادت سکوں جب تم یہاں آتے ہوتو میری شدیدخواہش ہوتی ہے،تم آتے ہی میزپردوچار گھونسے مارو،تیز لہجے میں بات کرو اور بغیر کسی وجہ کے دوچار گالیاں بک دو،یار تم بٹ لگتے ہی نہیں،بھلابٹ ایسے ہوتے ہیں ، کم ازکم نیم بٹ ہی لگنے لگو۔
وہ یہ باتیں کہہ کرشاید ہمیں باضابطہ طور پر ذلیل کرتا ہے اور ہمیں یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ بٹ بالکل اجڈ،جاہل اور خردماغ ہوتے ہیں،ان کی عقلوں پر پتھر پڑے ہوتے ہیں،لڑائی دھینگا مشتی اور گالیاں ان کاایندھن ہوتی ہیں،جن کے بغیر بٹ ادھورے ہوتے ہیں۔


ویسے یہ خیالات کسی قدر غلط ہیں ،کیا واقعی بٹ ایسے ہوتے ہیں،اس کے جواب میں آپ میری طرف دیکھ کرانداز ہ کرلیں کہ بٹ ایسے نہیں ہوتے۔
”ط“ درست کہتا ہے،مجھے بٹ بن کرواقعی اس دنیا کوبٹ دینا چاہیے،ویسے یہ دنیا ہے اس کی ، جس کی لاٹھی اس کی بھینس،بھینسوں کاہمیں کوئی خاص شوق نہیں اور نہ ہی کوئی عام شوق ہے۔البتہ”ط“ کوبھینسوں کابہت شوق ہے۔

وہ کوئی بھی بات کرے کسی بھی حوالے سے بھینسوں کاتذکرہ ضرور نکال لے گا، ویسے ہے تو نہیں لیکن ان حرکتوں سے گجر معلوم ہوتا ہے۔
جس طرح پھول خوشبو کے بغیر نامکمل ہے،بالکل اسی طرح بٹ صحت اور کاٹھک کے بغیر،وہ بٹ ہی نہیں جس کی صحت نہ ہو،اور وہ صحت ہی نہیں جوبٹ کی نہ ہو۔جس طرح جرم کے بغیر محرم کچھ نہیں اسی طرح صحت کے بغیر بٹ کچھ نہیں،قدتوہمارا ماشاء اللہ کافی ہے،بس یوں سمجھ لیں کہ آسمان سے دوہاتھ نیچے اور کاٹھ․․کاٹھ کباڑ کی طرح،وزن بھی ہمارا کچھ زیادہ نہیں،البتہ جب تیز آندھی چلتی ہے ہم چھپ کراپنے کمرے میں بیٹھ جاتے ہیں،مباداکہیں ہواہی نہ ہوجائیں،اس بات کے پیش نظرہم اپنی جیبوں میں وزن بھی رکھتے ہیں۔


ایک بار کسی بٹ سے اس کے دوست نے پوچھا۔
یار توبندہ اے کہ نائی۔
موصوف جھٹ بولے:
میں بندہ نہیں ہوں،میں توبٹ ہوں۔
شاید بٹ بندے نہیں ہوتے یاپھر بندے بٹ نہیں ہوتے (بٹوں کے ساتھ معذرت کے ساتھ بٹوں میں واقعی بندوں والی کوئی بات نہیں ہوتی بات بات پر وہ یوں ہاتھ چلاتے ہیں کہ مدمقابل چلاتے ہی رہ جاتے ہیں جہاں بٹ ہوں وہ چلانا اور چلانا لازم وملزوم ہوتا ہے،بٹ عام طورپر پربات بعدمیں کرتے ہیں اور ان کے ہاتھ پہلے۔

وہ مذاق میں بھی ہوں تو سامنے والے کوپیار ہی پیار میں دو چار جڑدیتے ہیں وہ بٹ ہی نہیں جوپیارمحبت میں ہاتھوں کااستعمال نہ کرکے،جتنا ہاتھوں کااستعمال بٹ کرتے ہیں کوئی اور نہیں کرتا۔شاید اسی لیے ان کی صحت قابل رشک ہوتی ہے،کیونکہ اس طرح ان کے جسم کی ورزش ہوتی رہتی ہے،جو صحت کی طرف سے ہمارا ہاتھ ہمیشہ تنگ ہی رہتا ہے،ویسے ہاتھ کااستعمال نہیں کرتا وہ بٹ ہی نہیں کہلاتا،اور بٹ نہیں ہوتا وہ ہاتھوں کااستعمال نہیں کرتا،ہاتھوں کی بھی اپنی زبان ہوتی ہے اور یہ زبان وہی سمجھ سکتا ہے جس پر ہاتھ چلایاجائے اور ہاتھ ہمیشہ کمزور اور بے زبان پر چلایا جاتا ہے قوی پرہاتھ چلا کرہاتھوں کی جان نکالنا ہے۔


لڑائی جھگڑا بھی بٹوں کی پہچان ہے،جس نے لڑائی جھگڑا نہیں کیا،گویا وہ ابھی نومولود بٹ ہے اور نومولود ویسے ہی بے زبان ہوتا ہے۔بے زبان اور جانوروں میں کوئی فرق نہیں ،جانور جب جانور ہوتا ہے تو جانور ہی رہتا ہے،اور جب وہ جانوریت کے لبادے کواتار پھینکے تو پھر اس میں اور ایک بٹ میں کوئی خاص فرق نہیں ۔فرق توصرف دواور چارٹانگوں کا۔
”ط“ سے کسی نے پوچھا:
بٹ کونٹ کیسے بنایاجاتاہے؟
پہلے تو وہ بے چارہ شش وپنج میں پڑگیا،پھر بولا:
کیا تمہیں بٹ کونٹ بنانا آتا ہے؟
موصوف لولے:
ہاں بھلا اس میں کون سی مشکل بات ہے، بٹ میں ب کانقطہ اٹھا کراوپر لگا دو۔

خود ہی بٹ سے نٹ بن جائے گا۔
شاید اسی لیے بٹ ہی نٹ کھٹ ہوتا ہے۔ایک نٹ”والی بال“ کے میدان میں بھی لگایاجاتا ہے اور دوسرا․․یہ ہمیں بھی نہیں معلوم۔
بہرحال بٹ،نٹ اور نٹ،بٹ ہی ہوتا ہے۔
ہمارے ایک ملنے والے ہیں،حیرت کی بات ہے کہ وہ بھی بٹ ہی ہیں۔حیرت اس بات پر ہے کہ اگر ان کوصرف بٹ کہا جائے۔
اگرانہیں افریقہ کابٹ کہا جائے تو بات بنتی ہے،کیونکہ دیکھنے میں وہ سیاہ فام نسل سے تعلق رکھنے والے معلوم ہوتے ہیں،اور کہلواتے خودکوبٹ ہیں۔بہرحال اپنے اعمال کے وہ خود ذمہ دار ہیں۔
”ط“ کہا کرتاہے:
بٹ ایک کیفیت کانام ہے،جوکسی پر بھی اور کہیں بھی طاری ہوسکتی ہے۔بات اس کی بھی صحیح ہے۔

Your Thoughts and Comments