Bypass K Ass Pass

بائی پاس کے آس پاس

منگل فروری

Bypass K Ass Pass
مستنصر حسین تارڑ:
تمہارے دل کاکیاحال ہے؟
دھڑکتاہے۔
کس کودیکھ کر؟
ڈاکٹر کے بل کودیکھ کر۔
یار فرقان امراض قلب کے اس ڈاکٹر کے بارے میں پڑھاہے جواپنی تمام آمدنی اپنے ہسپتال کے مریضوں پرخرچ کردیتاہے۔
اور پھر بھی لوگ کہتے ہیں کہ پاکستانی ڈاکٹر سکھی انسانیت کودکھی بنارہے ہیں“ وہ ڈاکٹر پاکستانی نہیں ہے انگلستان کے ایک امراض قلب کے خصوصی ہسپتال کاڈاکٹر ہے۔


گویاانگریز ہوا۔
” ہاں“
بس یہ کافر لوگ اسی قسم کی اُلٹی سیدھی حرکتیں کرتے رہتے ہیں․․․ پہلے بھی کرتے تھے، اب بھی کرتے ہیں
پہلے بھی کرتے تھے؟
اور کیا․․․․ لاہور کے سارے بڑے ہسپتال دیکھ لوانہی کافر لوگوں کے بنائے ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

گلاب دیوی، گنگارام، جانکی دیوی، لیڈی ولنگڈن، میو ہسپتال وغیرہ۔
لیکن بھائی یرقان یہ ہم مسلمانوں کے لئے شرم کی بات نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر جوعنایات کررکھی ہیں ہم شکرانے کے طور پر ان عنایات کاکچھ حصہ بیماروں اور لاچاروں کے لئے نہ وقف کردیں۔


بھائی فرقان تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے کہ ہم لوگ ہسپتال نہیں بنواتے․․․ ذرا گلبرگ، شادمان اور جیل روڈ پر ابھرتے ہوئے جدید ترین کلنک بھی تودیکھو۔ کیاایرکنڈیشنگ ہے ۔ کیاسازو سامان ہے۔
بھائی یرقان وہاں مفت علاج ہوتاہے۔
حماقت کی باتیں مت کیاکرو بھائی فرقان۔ ان کلینکوں میں تازہ ترین درآمدی مشینیں نصب ہوتی ہیں‘ سپیشلسٹ حضرات کی فوجیں ہوتی ہیں۔

نرسیں ہوتی ہیں۔ اب جوشخص اتنی لمبی چوڑی انوٹسمنٹ کرے گاہ کچھ کمائے گابھی، خالی جیب توگھر نہیں جائے گا۔
یعنی کلنک کھولنا بھی انڈسٹری لگانے کے مترادف ہے؟
اس سے کہیں زیادہ منافع بخش․․․ میرے ایک دوست کی انگلی پر چوٹ آگئی وہ ایک ایسے ہی کلنک میں جانکلا۔ انگلی کابڑا تفصیلی معائنہ کیاگیا اور پھر پٹی باندھ دی گئی۔ اور تمہیں پتہ ہے بل کیاتھا؟ صرف ساڑھے چار سو روپے․․․“
” ہاں زیادہ وہ تونہیں۔

انگلی اگرسپٹک ہوجاتی توجان کاخطرہ تھا۔ یوں سمجھو کہ ساڑھے چار سو روپے میں جان بچ گئی۔ مہنگا سودا تونہیں ہے۔
پھر بھی یرقان بھائی آپ جیسے لوگ جوماشااللہ کروڑوں میں کھیلتے ہیں کیاکھیلتے ہیں۔ اس کامجھے علم نہیں لیکن کھیلتے ہیں۔ آپ کوچاہیے کہ غریب غربا اور مڈل کلاس لوگوں کے لئے گنگارام جتناہی ایک ہسپتال بنوا دیں۔
بھئی یہ حکومتوں کاکام ہے ہم اس میں دخل اندازی نہیں کرتے․․․ کیوں حکومتوں کاکیوں کام ہے؟
ہم انہیں ٹیکس جودے دیتے ہیں۔

بنواتی پھریں ہسپتال وغیرہ․․․“
”ہاں“
ایمان سے کہتے ہو“
یار فرقان اتنی چھوٹی سی بات کے لئے ایمان کوبیچ میں مت لاؤ․․․․ اورپھر ہم لوگوں کے خرچے بھی توبہت ہیں۔
کم کردو خرچے۔
جاپان والے کم نہیں کرنے دیتے۔
جاپان والے؟
” ہاں کم بخت ہردوسرے روز ایسا ایسا شاندارماڈل بناکر بھیج دیتے ہیں کہ پہلی کاریں چھوڑ کرنئے ماڈل خریرنا پڑتی ہیں۔

خرچ کیسے کم ہوں اور پھر ہمارے علاج معالجے کاخرچ بھی بہت زیادہ ہوتاہے اور امریکہ جاکر ایک بائی پاس آپریشن کرو اور توپانچ چھ لاکھ نکل جاتے ہیں۔
بھائی یرقان اگرعام آدمی یعنی کسی چھوٹے موٹے افسر‘ ادیب‘ صحافی یاکم آمدن والے شخص کواس قسم کی خطرناک بیماری لگ جائے تووہ کیاکرتاہے۔
انہیں ایسی بیماری لگتی ہی نہیں۔
کیوں؟
بھئی نہ وہ سپیشلسٹ کے پاس جاتے ہیں۔

کیونکہ جیب میں رقم نہیں ہوتی نہ ہی ٹیسٹ وغیرہ کرواسکتے ہیں اس لئے انہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ان کوکیابیماری ہے چنانچہ مزے سے آرام سے فوت جاتے ہیں۔ میں بھی اگلے ماہ امریکہ جارہا ہوں۔
” کیاکرنے؟
بائی پاس سرجری کروانے“
لیکن بھائی یرقان آپ توماشااللہ بالکل صحت مند ہیں․․․ آپ دل کے مریض تونہیں۔
اگر میں دل کامریض نہیں ہوتواس کایہ مطلب تونہیں کہ میں بائی پاس سرجری کے لئے امریکہ نہ جاؤں بھائی میرے ان دنوں جوشخص بھی امریکہ یا یورپ جاکر بائی پاس سرجری نہیں کرواتا اسے فکر اور چپڑ کنا تیا سمجھا جاتاہے میرے تقریباََ سبھی جاننے والے یہ آپریشن کرواچکے ہیں اور بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ ہم بائی پاس کروا کے آئے ہیں سچ پوچھو تومجھے بڑی شرمندگی ہوتی ہے چنانچہ اب میں نے اعلان کردیا ہے کہ صاحبومیں بھی بائی پاس کروانے جارہاہوں وہاں جاکرکسی پرائیویٹ کلنک میں داخل ہوکر چند ہفتے آرام کریں گے۔

دو چار لاکھ کی کیابات ہے، ذرا شغل رہے گا۔

Your Thoughts and Comments