Charpai

چارپائی

ہفتہ مارچ

Charpai

ڈاکٹر محمو یونس بٹ
مغربی ڈاکٹروں نے تحقیق و تفشیش کے بعد اعلان کردیا ہے کہ اگر آپ روزانہ کرسی ہلائیں تو ہر قسم کی بیماریوں سے محفوظ رہیں گے میڈیکل کالج درجینیا نے اس تحقیق کی تصدیق کی ہے اگرچہ یہ کوئی نئی دریافت نہیں نوابزادہ نصر اللہ خان صاحب کی صحت کا راز یہی ہے تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ کرسی کے ہلتے رہنے سے بیٹھنے والے کا وزن کم ہوتا ہے ہمیں امید تھی کہ اب سلمنگ سنٹرز بھی یہی طریقہ استعمال کرنے لگیں گے قیام پاکستان کے بعد سے یہ طریقہ ہمارے برسر اقتدار حلقوں میں تو پہلے ہی رائج رہا سابق وزیر اعظم بلکہ حسب سابق وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین اتنا کھاتے کہ لوگ اکثر انہیں خواجہ ہاضم الدین کہتے ان کے دور میں جب خوراک کا قحط پڑا تو بیرونی ممالک کے صحافی اپنے اخباروں کو اس قحط کی جو وجوہات بھجواتے ان میں خواجہ صاحب کی تصویریں بھی ہوتیں وہ تو خواجہ صاحب کا تلفظ بھی یوں کرتے کھا جا صاحب کسی نے کہا آپ گھڑ سواری کریں تو آپ کا وزن کم ہوجائے گا اور واقعی ایک ماہ بعد وہیں آدھا رہ گیا جی ہاں گھوڑے کا وزن آدھا رہ گیا تاریخ گواہ ہے کہ خواجہ صاحب کا وزن اس دن کم ہوا جب غلام محمد صاحب نے ان کی کرسی ہلائی وہ بھی یوں کہ خواجہ صاحب نے بعد میں کبھی لنگڑے آم تک کو منہ نہ لگایا سکندر مرزا صاحب کی غیرت ناہید کا وزن بڑھا تو انہیں نے ہر جتن کیا بیوی کے یوں آگے پیچھے پھرتے کہ خاوندکم ہمسایہ زیادہ لگتے مگر خاتون اول ناہید خانم کا وزن بھی صدر ایوب صاحب کے کرسی ہلانے سے ہی کم ہوا جن دنوں انگلینڈ میں ضبط تولید کی گولیاں استعمال کرنے کی مہم زوروں پر تھی تو ایک صاحب ٹرین میں دس چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے کسی نے حیرانی سے پوچھا یہ سب آپ کے ہیں؟کہا نہیں میں ضبط تولیدکی گولیاں بیچتا ہوں یہ میرے گاہکوں کی شکایتیں ہیں سو ہماری قیام پاکستان سے اب تک کی تاریخ دراصل کرسی کی ہی شکایتوں پر مبنی ہے کرسی نے وہ کیا کہ ہم جیسے تو سن کر ہی آیت الکرسی پڑھنے لگتے ہیں ہمیں کرسی کبھی بھی اچھی نہیں لگی ہم پاکستانیوں کو وہ فرنیچر بھاتا ہی نہیں جس پر ہم لیٹ نہ سکیں کیونکہ لیٹ جانا تو ہماری عادت ہے ہمارے وزراءتو بیرون ملک تقریبات میں بھی اکثر لیٹ جاتے ہیں سچ پوچھیں تو ہمیں کرسی چارپائی کے مقابلے میں چار پایہ لگتی ہے یہی نہیں اس پر بیٹھتے ہی بندے میں ایسی عادت بھی آجاتی ہیں کہتے ہیں کرسی وہ چوپایہ ہے جس کے بازو بھی ہوتے ہیں ہوسکتا ہے آپ کہیں کہ چوپایہ تو وہ چار ٹانگوں والا کہلاتا ہے جو چلتا ہے تو صاحب ہم نے تو ان سے زیادہ ہاں کرسیاں ہی چلتی دیکھی ہیں پھر بقول اخلاق احمد آپ کرسی پر اردو میں نہیں بیٹھ سکتے پنجابی میں بیٹھنے کی کوشش کریں تو ساتھ کرسی بھی بیٹھ جاتی ہے مغرب میں ہر چیز بجلی سے چلنے لگی تو بجلی والی کرسیاں بھی آگئیں مگر چارپائی کو ایک پائی کا فرق نہ پڑا ہم تو چاہتے ہیں کہ ملک میں کرسی کی بجائے چارپائی کو رواج دینا چاہیے کیونکہ کرسی پر تو صرف ایک بندہ بیٹھ سکتا ہے جبکہ ہم نے چارپائی کے ہوتے ہوئے کسی کو کھڑے نہیں دیکھا اب کچھ حالات سے لگ رہا تھا کہ چارپائی بچھنے والی ہیں مگر اہل مغرب چاہتے ہیں ہم روز کرسی ہی ہلانے میں لگے رہیں سو انہیں نے اب اس کام کے طبی فائدے بھی گنوانے شروع کردئیے ہیں،

Your Thoughts and Comments