Chat Chori Pat Faisla

چٹ چوری پٹ فیصلہ!

ہفتہ دسمبر

Chat Chori Pat Faisla
ابنِ انشاء:
لاہور کی خبر ہے کہ یہاں پچھلے دنوں سائیکل چوری کے ایک مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا 17 مئی 1952 کی ایک شخص عبدالحمید کی سائیکل چوری کرنے کے الزام میں دو افراد کے خلاف رپورٹ درج کرائی گئی تھی جن کے نام خبر میں مسیمان عبدالحمید اور جاوید اقبال بتائے گئے ہیں مجسٹریٹ نے اکتوبر 1976 ء میں حتمی فیصلہ سنادیا اور ملزموں کو بری کردیا رپورٹ درج کرانے اور فیصلہ سنانے کے درمیان فقط چوبیس سال ہوتے ہیں،چوبیس سال قوموں کی زندگی میں کوئی معنی نہیں رکھتے سکندراعظم کی آمد بظاہر کل کا واقعہ معلوم ہوتی ہے اور محمود غزنوی کے ہندوستان پر حملے بھی ممکن ہے کچھ چشم دید گواہ بھی ان واقعات کے نکل آئیں کیا آپ یقین کریں گے کہ ان دونوں واقعات پر صدیاں گزرچکی ہیں دور کیوں جائیے دیدہ کا پیدا ہونا کوئی ایسی بڑی بات معلوم نہیں ہوتی بعض لوگ تو یہاں تک دعوے کرتے ہیں کہ آپ آج آرڈر دیجیے ہم کل دس دیدہ ور پیدا کردیں گے جن کی بغل میں یوم اقبال کے جلسوں میں پڑھے جانے کے لائق زناٹے کے مقابلے بھی ہوں گے حالانکہ خود حضرت اقبال نے جو پیہم رواں قسم کی باتیں کیا کرتے تھے اس کے لیے ہزاروں سال نرگس کے رونے کی شرط رکھی تھی۔

(جاری ہے)

یہاں ہم فٹ نوٹ کے طور پر عرض کردیں کہ اقبال کے ایک شارع نے شعر کی شرح کرتے ہوئے نرگس کپور کا نام لکھا ہے وہ صحیح نہیں ہے نرگس سلمہا کی عمر علامہ اقبال کے انتقال کے وقت اتنی زیادہ نہ تھی کم از کم ہزاروں برس تو ہرگز نہ تھی پھر نرگس راج کپور کا بے نوری سے کچھ تعلق نہیں،وہ تو نور علی نور ہیں یا کچھ سال پہلے تک تھیں علامہ اقبال کا اشارہ کسی اور نرگس کی طرف رہا ہوگا،خبر ذکر سائیکل کا ہورہا تھا جو بوجہ ہماری علمیت کے علامہ اقبال کی طرف نکل گیا بلکہ زبان و مکان کے مسائل میں جا الجھا ہمارا کہنا یہ ہے کہ وہ پہیے کی سائیکل کے مقدمے کا فیصلہ اتنی جلدی یعنی۲۴ میں ہوجانا بڑی حیرت کی بات ہے جس سے امید بندھتی ہے کہ آئندہ کوئی چارپہیے کی موٹرچوری ہو تو اس کا فیصلہ ہونے اور چوری کے ملزموں کے بری ہونے میں نصف صدی سے زیادہ وقت نہ لگے گا علامہ اقبال 1938 ء میں انتقال کرگئے انہیں کہاں اندازہ ہوگا کہ دنیا میں کم از کم ان کے خوابوں کے پاکستان میں انصاف کی رفتار اتنی تیز ہوجائے گی کہ ادھر کوئی چیز چوری ہوئی ادھر چٹکی بجاتے میں ربع صدی سے بھی کم میں اس کا مقدمہ فیصل یہ سچ ہے کہ جہانگیر وغیرہ کے زمانے میں بھی فیصلے زیادہ دیر نہ لیتے تھے ادھر فریادی نے گھنٹہ بجایا ادھر جہانگیر نے جھروکے میں آکر فیصلہ سنادیا موڈ اچھا ہوا تو فریادی کے حق میں نہ اچھا ہوا تو فریادی کے خلاف کہ لے جاؤ تابکار کو ہماری نیند میں خواہ مخواہ کو خلل ڈالتا ہے اس تعمیل کو ہم سند اس لیے نہیں بناتے کہ جہانگیر کے زمانے میں تحریری کاروائی نہ ہوتی تھی ایف آئی آر نہ کٹتی تھی تفشیش کنندگان نہ تھے اسٹامپ فروش نہ تھے اپیلیں نہ تھی،اسٹے آرڈر نہ تھے زِٹ کا دستور نہ تھا یہ سب چیزیں ہوئیں تو ہم دیکھتے کہ جہانگیر یا نوشیرواں یا بکر ماجیت جن کے نام تاریخ میں ناحق مشہور ہیں کیسے انصاف سے عہد برا ہوتے ہیں۔

اس مقدمے میں خوشی اور حیرت کی بات یہ ہے کہ دونوں ملزم بحمداللہ حیات ہیں اس دوران میں فوت نہیں ہوئے یہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ نو عمری ہی میں ان کے خلاف مقدمہ درج ہوگیا تھا اس وقت جاوید اقبال کی عمر بارہ سال تھی اب ۳۶ سال ہے اور عبدالحمید ۱۴برس کا تھا اب ۳۸سال کا ہے اور دونوں کھڑ بڑی داڑھی رکھے پھرتے ہیں افسوس خبر میں سائیکل اور مالک کا ذکر نہیں غالباً یہ دونوں فوت ہوچکے ہیں یہ بھی پتا چلتا کہ رپورٹ درج کراتے سائیکل کی اور اس کے مالک کی عمر کیا تھی کچھ نہ کچھ تو رہی ہوگی۔

عبدالحمید اور جاوید اقبال دونوں ملزموں کو صرف داڑھی ہی نہیں بڑھی بلکہ لیاقت بھی اس دوران میں بہت بڑھی ہوگی کیوں اس کہ مقدمے کی اب تک پانچ سو پیشیاں ہوئی ہیں یعنی سائیکل میں پہیوں کے اسپوکس سمیت جتنے پرزے ہوتے ہیں ان سے کوئی تین گنا گئی جو آدمی سو بار عدالت میں پیش ہوگا خواہ کسی حیثیت میں بھی ہو اس کا قانون پر عبور حاصل کرنا یقینی امر ہے مجسٹریٹ صاحب نے ان دونوں کو بری تو کردیا لیکن اس کے ساتھ وکالت کی ڈگری بھی دے دیتے تو اچھا ہوتا ویسے اگر ان صاحبوں کو مزید علم حاصل کرنا ہے تو اس کی گنجائش ابھی موجود ہے ۳۶یا۳۸ برس کوئی ایسی عمر نہیں ہوتی ابھی یہ لوگ اپنی طبعی زندگی کے حساب میں ایک سائیکل اور چراسکتے ہیں دوبارہ بری ہونے کے وقت ایک ان میں ساٹھ سال کے ہوس گے دوسرے باسٹھ برس کے لیکن فائدہ یہ ہوگا کہ پھر ایک ہزار پیشیوں اور نصف صدی کا عدالتی تجربہ ان کی پشت پر ہوگا جو اس زندگی میں نہ سہی آئنہ زندگی میں ضرور ان کے کام آئے گا۔

سائیکل کے مالک کا نام اس خبر کے موجب عبدالحمید تھا ملزموں میں سے ایک کا نام بھی عبدالحمید ہے جس سے شبہ ہوتا ہے کہ کہیں اس نے یعنی سائیکل کے مالک ہی نے تو جاوید اقبال کے ساتھ سازش کرکے خود ہی اپنی سائیکل نہیں چرالی تاکہ مقدمے کو طول دے کر ہمارے نظام عدالت اور اس کی طوالت کو بدنام کرسکے اور پھر پولیس نے اس کی بدنیتی کو بھانپ کر اسے شامل تفشیش بلکہ ملزموں میں شامل کرلیا ہو اگر یہ ہم نامی اتفاق ہے تو آئندہ یہ قانونی پابندی ہونی چاہیے کہ مستغیث اور ملزم ایک نام کے نہ ہوا کریں تاکہ ہم جیسے پڑھنے والوں کو اشتباہ نہ ہو ایک قصہ ہم نے پڑھا تھا کہ ایک ملزم جس پر ایک کمبل چرانے کا الزام تھا عدالت سے بری ہوگیا اس نے فیصلہ سننے کے بعد دست بستہ جج سے پوچھا کہ حضور آپ کی مہربانی تو کیا اب وہ کمبل میں اپنے پاس ہی رکھ سکتا ہوں،،،،؟ہمارے خیال میں ہمارے فاضل مجسٹریٹ کو بھی دونوں ملزموں کو بری کرنے کے ساتھ اس امر کی اجازت دے دینی چاہیے تھی کہ وہ سائیکل اپنے پاس رکھ لیں کیونکہ ۲۴ سال پیشیاں بھگتے تھانے حوالات جانے وکیل وغیرہ کرنے پر ان کا جو خرچ ہوا ہوگا اس سے وہ اور کچھ اورنہیں تو ایک مرسیڈیز کار تو خریدہی سکتے تھے،ایک دلچسپ بات اس مقدمے میں یہ ہے کہ مقدمے کے تفشیشی افسراے ایس،آئی منظور احمد ان چوبیس سال میں ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے عدالت نے پولیس کے افسران اعلاکوکئی بار ہدایت کی کہ منظور احمد کو پیدا کریں اور اگر وہ پیدا ہوچکا ہے تو عدالت میں پیش کریں لیکن یہ لوگ جو دنیا کی ہر چیز پیدا کرنے اور پیش کرنے پر قادر ہیں شاعروں کی جیب سے بیاض کی جگہ بم اورکوکین تک برآمد کرسکتے ہیں ایک ذرا سے اے ایس آئی کو برامد نہ کرسکے ہم نے ایک بار پولیس کے ہر چیز برآمد کرالینے پر خوش ہوکر حکومت سے سفارش کی تھی کہ ملک کی برآمدات بڑھانے کاٹھیکہ بھی پولیس کا دے دیا جائے اب اس تجویز پر نظر ثانی کرنی ہوگی دوسری چیز جو منظور احمد کے علاوہ مفقودالنجرہے وہ سائیکل ہے مالک کے پاس وہ نہیں ہے ورنہ وہ رپورٹ درج کیوں کراتا ملزموں کے پاس وہ نہیں ہے ورنہ بری کیوں ہوتے پھر ہے تو کہاں ہے؟وہ قصہ آپ نے سنا ہوگا کہ ایک صاحب سیر بھرقیمہ لائے تھے نوکر کو بھوک لگی تو وہ اسے تل کر چٹ کرگیا مالک نے پوچھا تو اس نے کہا کہ حضور بلی کھاگئی مالک نے بلی کو پکڑ منگوایا اور تولا تو وہ سیر بھر نکلی مالک نے کہا کہ اے شخص اگر یہ بلی ہے تو قیمہ کہاں ہے اور اگر یہ قیمہ ہے تو بلی کہاں ہے؟کہیں ایسا تونہیں کہ مذکورہ اے ایس آئی اسی سائیکل پر سوار ہوکر تفشیش کرتے کرتے دور بہت دور موافق کے پار نکل گیا ہو ہماری دانست میں ایک مقدمہ اس سلسلے میں بھی درج ہونا چاہیے مسمی منظور احمد بری تو اس میں ہوجائے گا لیکن کب؟۲۰۰۰میں۔

اگر ملزمان مذکورہ عبدالحمید اور جاوید اقبال کسی کو قتل کردیتے اور بالفرض محال بری نہ ہوتے تو اغلب ہے کہ ان کو چودہ سال کی قید کی سزا ہوتی یعنی آج سے دس سال پہلے وہ مقدمے اور عدالتوں کے چکروں میں آزاد ہوچکے ہوتے ثابت یہ ہوا کہ کبھی کوئی چھوٹا جرم مثلاً سائیکل وغیرہ کی چوری نہ کرنا چاہیے بلکہ،،،،آگے ہم وضاحت نہیں کرتے کیا عجب قتل کی ترغیب اور اعانت وغیرہ کی دفعہ میں خود بھی ماخوذ نہ ہوجائیں اور ۲۴ سال بعد جاکر بری ہوں نہ صاحب نہ ہم کوئی مشورہ نہیں دیتے۔

Your Thoughts and Comments