Chay

چ

سہیل عباس خان پیر مئی

Chay
پیارے بچو!!!
جی!
شابش شابش!!!
پیارے بچو یہ جو سہیل عباس خان میں ”خان“ ہے، یہ بلوچ کی وجہ سے ہے۔ بلوچ کے پیچھے اور چور کے آگے جو ”چ“ آتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جدّی پشتی چور ہیں۔ غریب چور کے پیچھے چور چور کہہ کے بھاگتے ہیں اور امیر چور کے پیچھے نعرے لگاتے ہیں کہ---- دے نعرے وجن گے۔ پہلے علی بابا اور چالیس چور مشہور تھے، اب وہ چالیس خود علی بابا بن گئے ہیں۔


”چ“ سے چاند بھی ہوتا ہے، سب سے پہلی چاند گاڑی ہم نے بنائی تھی وہ آج بھی ہمارے بازاروں کی رونق ہے۔ ہم چاند ماری بھی کرتے ہیں۔ آپ نے کبھی کسی کو ماموں بنایا ہے، ہم نے تو چاند کو بھی ماموں بنا دیا ہے۔ جب ہماری محبوبہ سے ہماری شادی نہ ہو سکے تو وہ بھی ہمیں اپنے بچوں کا ماموں بنا دیتی ہے۔

(جاری ہے)

بڑی چیز ہوتی ہے یہ محبوبہ بھی۔ آپ جاپانی تصویر کھنچواتے ہوئے ”چیز“ کہتے ہیں مسکرانے کے لیے، ہم چیز کو دیکھ کر مسکراتے ہیں۔


”چ“ سے چلنا بھی ہوتا ہے، آپ پاکستان آئیں تو آپ کو ہر دیوار پہ لکھا ہوا ملے گا
چلو چلو لاہور چلو
چلو چلو پنڈی چلو
جو نہ بھی چلنا چاہے ہم اسے زبردستی بس میں ڈال کے لے جاتے ہیں۔
”چ“ سے چلو بھر پانی بھی ہوتا ہے، اب آپ بتائیں بھلا بیس کروڑ عوام چلو بھر پانی میں کیسے ڈوب کے مر سکتے ہیں۔
”چ“ سے چھپن چھری، اس سے مراد ایک طوائف تھی جو چھپن چھریاں کھا کے زندہ رہی، یہ کون سی بات ہے، ہم اڑسٹھ برسوں کی چھریاں کھا کے زندہ ہیں۔


”چ“ سے چوسنا بھی ہوتا ہے۔ ہم بچپن میں چوسنی سے لے کر بڑھاپے تک چوپو بلکہ ہور چوپو پہ گزارہ کرتے ہیں۔ ہم ڈینگی پہ پیسے خرچ کر کے اسے ختم کرتے ہیں تاکہ خون نہ چوسے اور سیاست دانوں کو ووٹ دیتے ہیں خون چوسنے کے لیے۔
”چ“ سے چادر اور چاردیواری بھی ہوتی ہے، پہلے اس کے تقدس کا خیال رکھا جاتا تھا، اب اسے پامال کیا جاتا ہے۔

ویسے کہتے ہیں چادر دیکھ کر پاوٴں پھیلانا چاہئیں لیکن ہم پاوٴں پھیلاتے جاتے ہیں اور چادر ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتی۔
”چ“ سے چوکا بھی ہوتا ہے، جو کرکٹ میں کبھی ہم بھی مارتے تھے اور چوکی بھی ہوتی ہے جہاں پولیس والے مارتے ہیں، عوام دونوں صورتوں میں پٹ کر تالیاں پیٹتے ہیں۔ اور سوچتے ہیں چٹ بھی ہماری اور پٹ بھی ہماری۔ ویسے چٹ منگنی اور پٹ بیاہ بھی ہوتا ہے، جہاں لوگ چٹپٹی چیزیں چٹ پٹ کر جاتے ہیں۔
پیارے بچو!!
اب آپ جائیں اور استاد کے لیے پیاری پیاری چیزیں لے کر آئیں۔

Your Thoughts and Comments