Chor Bhai Phir Kub Ao Gey

چور بھائی !پھر کب آﺅ گے؟

جمعرات جنوری

Chor Bhai Phir Kub Ao Gey

عطاءالحق قاسمی
گزشتہ ہفتے لاہور میں ایک ایسا واقعہ بھی رونما ہوا جسے میرے جیسا قنوطی شخص بھی خوش آئندہ قرار دے سکتا ہے یہ واقعہ میرے رفیق کا راسد اللہ غالب کے گھرکا ہے رات کو جب اسد اللہ غالب اپنے اہل خانہ کے ساتھ سورہے تھے چور آئے اور کھڑکی توڑ کر گھر میں داخل ہوگئے بعد میں وہی کچھ ہوا کو کچھ ہوتا ہے یعنی مبینہ طور پر ڈیڑھ لاکھ روپے کے طلائی زیورات لے کر رفو چکر ہوگئے جب میں نے یہ اخبار میں پڑھی توفرط مسرت سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے ایک طویل عرصے کے بعد لاہور میں چوری کی کوئی واردات ہوئی ہے ورنہ تو یہاں ڈاکے پڑتے تھے طویل مدت سے اب تک تو یہی رواج ہے کہ دن دہاڑے ڈاکو اپنی کار میں سے نکلتے ہیں گھر کی گھنٹی بجاتے ہیں اورپھر بنوک شمشیر گھر میں گھس جاتے ہیں اہل خانہ کورسیوں سے باندھتے ہیں اور پھر سارا گھر اہل خانہ کی جاگتی آنکھوں کے سامنے ہونج کر لے جاتے ہیں جب کہ ہم اپنے بزرگوں سے سنا کرتے تھے کہ جب آدھی رات ادھر اور آدمی ادھر ہوتی تھی چور لنگوٹ باندھ کر اور جسم پر تیل مل کر دبے پاﺅں کسی گھر میں داخل ہوتے تھے دبے پاﺅں اس لئے گھر میں داخل ہوتے تھے کہ کہیں اہل خانہ کی آنکھ نہ کھل جائے لنگوٹ اس لئے باندھتے تھے کہ اگر اہل خانہ جاگ جائیں تو دوڑتے وقت انہیں کوئی قمیض نہ پکڑسکے اور جسم پر تیل اس لئے ملتے تھے کہ اگر کوئی جپھا مارنے کی کوشش کرے تو تیل ملے جسم پر سے اس کے ہاتھ پھسل جائیں اور یوں وہ بھاگ کر اپنی جان بچاسکیں بزرگ بتاتے ہیں کہ اتنی احتیاطی تدابیر کے باوجود اگر انہیں شبہ بھی ہوجاتا تھا کہ واردات کے دوران کوئی جاگ سکتا ہے تو وہ رسک نہیں لیتے تھے او ر خالی ہاتھ لوٹ جاتے تھے لیکن یہ بہت پرانی باتیں ہیں کہ اب تو ان شریف انفس چوروں کی جگہ کلاشنکوف برادر ڈاکوﺅں نے لے لی ہے یہ ڈاکو گھروں پر ڈاکہ مارتے ہیں اور بینکوں سے قرض لے کر معاف کرالیتے ہیں ان حالات میں اسد اللہ غالب کے گھر چوری کی واردات میرے نزدیک پرانی قدروں کی بحالی کے زمرے میں آتی ہے اور یوں یہ واقعہ ہماری ثقافتی تاریخ میں ایک روشن موڑ کے طور پر یاد رکھے جانے کے قابل ہیں!اگر سچ پوچھیں تو مجھے یہ خدشہ لاحق ہوگیا تھا کہ کہیں دوسرے انسٹی ٹیوشز کی طرح ہمارے ہاں چوروں کا انسٹی ٹیوشن بھی ختم تو نہیں ہوگیا؟مگر چوری کے حالیہ واقعے سے روشنی کی ایک کرن سی مجھے نظر آئی ہے او ر میرے دل میں امید پیدا ہوئی ہے کہ اگر حالات ساز گار رہے تو انشاءاللہ آئندہ بھی چوریاں ہوں گئی آج کے دور میں جب ہر کوئی اپنے معمولی سے کام کو کارنامہ بناکرپیش کرتا ہے اور اخبار میں اپنی تصویریں چھپواتا ہے متذکرہ چور کا نام ونمود سے اس قدر بے نیاز ہونا بھی اپنی جگہ بہت قابل ستائش ہے اسے شاید اندازہ ہی نہیں کہ اس نے ڈاکوﺅں کے اس دور میں چوری کی واردات کرکے ہمارے ایک پرانے انسٹی ٹیوشن کو بحال کیا ہے یا وہ اتنا نا داں ہے کہ ڈیڑھ لاکھ کے طلاقی زیورات پر قناعت کرگیا ہے حالانکہ قوم کی طرف سے اس کے گلے میں اس سے دگنی مالیت کے نوٹوں کے ہار پہنائے جاسکتے تھے بہر حال وجہ جو کچھ بھی ہو اس دوست کی خدمات اتنی قابل قدر ضرور ہیں کہ ان سے بذریعہ اشتہار درخواست کی جائے کہ وہ براہ کرم انکسار سے کام نہ لیں اور منظر عام پر آئیں ہماری قوم اتنی احسان فراموس نہیں کہ ان کی اس قومی خدمت کا انہیں کوئی انعام نہ دے چنانچہ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ اپنا نام آشکار کردیں تو کوئی بھی سیاسی جماعت عوام میں نیک نامی کے حصول کے لیے انہیں آئندہ انتخابات میں صوبائی و قومی اسمبلی کا ٹکٹ دے سکتی ہے اور جو جماعت بھی یہ قدم اٹھائے گی قو م اس کی احسان مند ہوگی اور یہ سوچ کر ہوگی کہ شاید اسی طرح ہماری سیاست ڈاکوﺅں کے ہاتھ سے نکل کر چوروں کے ہاتھ میں آسکے!میرے ایک دوست نے مجھے یہ سطور لکھتے دیکھا تو اس نے کہا تم نے چوری کی اس واردات کو صرف ایک سماجی اور ثقافتی تبدیلیپ کے حوالے سے دیکھا جبکہ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہورہی ہے مگر مجھے اپنا یہ دوست خاصا کم فہم لگا اسے علم ہی نہیں کہ امن و امان کی بہتری کا اشارہ ملنا اتنی اہم بات نہیں کیونکہ اس سے توزیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ لوگ چوروں کے طلائی زیورات کی گٹھٹری الگ باندھ کر رکھ دیں گے اور خود عزت اور جان کو محفوظ سمجھیں کر سکون کی نیند سوئیں گے جبکہ چوروں کے انسٹی ٹیوشن کی بحالی اصلی چیز ہے اس سے اداروں پر قوم کا اعتماد بحال ہوگا چنانچہ حکومت کو چاہیے کہ اگر چور رضا کارانہ طور پر سامنے آتا تو پولیس اپنی روایات کو پس پشت ڈالتے ہوئے چوری کا سراغ لگائے اور پھر ڈی آئی جی رانا مقبول یا ایس پی چیمہ اس چور کو ہار پہنا کر ایک پریس کانفرس میں صحافیوں کے سامنے پیش کریں تاکہ اخبارات کے ذریعے نئی نسل کو بتایا جاسکے کہ ۔

(جاری ہے)


”ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں“
حکومت کے علاوہ میرے خیال میں عوام کو بھی اپنے اس محسن کی حدود درجہ پذیرائی کرنا چاہیے اتنی پذیرائی کہ خدمت خاطر کے بعد اسے رخصت کرتے وقت پوچھنا چاہیے کہ چور بھائی! پھر کب آﺅ گے؟

Your Thoughts and Comments