Daal

د

سہیل عباس خان پیر جولائی

Daal
پیارے بچو جی شابش شابش د سے دال ہوتی ہے ، پہلے اس میں کبھی کبھی کالا ہوتا تھا اب تو ہر وقت ہوتا ہے ، اسی لیے وزیر خزانہ کہتے ہیں مرغی کھاوٴ۔ ویسے تو گھر کی مرغی بھی دال برابر ہوتی تھی کبھی لیکن اب نہیں ہوتی۔ د سے دلیا ہوتا ہے پہلے غریب لوگ دال دلیا کر لیتے تھے ، اب صرف امیروں کی دال گلتی ہے اور دلیا کا وہ ناشتہ کرتے ہیں۔ د سے دْم بھی ہوتی ہے ، ڈارون کہتا ہے پہلے یہ انسان کی ہوتی تھی اب نہیں ہوتی ، میں کہتا ہوں یہ اب بھی ہوتی ہے صرف اس کا نام بدل گیا ہے ، اب اسے دْم چھلا کہتے ہیں۔

یہ صرف پاکستان میں اس نام سے مشہور ہے باہر کے ملکوں میں اسے عوام کہتے ہیں۔ د سے دانت بھی ہوتے ہیں ، صرف ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہوتے تھے اور دکھانے کے اور لیکن پاکستان میں اب اس ہاتھی کو جو کالا ہو کے سفید ہے حکومت کہتے ہیں۔

(جاری ہے)

ملکی وسائل پہ سب کے دانت ہیں ، صرف عوام کے دانت کھٹے کئے جاتے ہیں۔ وہ بھی لیموں کے بغیر۔ لیموں نچوڑ مفت خورے کو کہتے تھے اب کوء چیز بھی مفت نہیں ملتی۔

وہ دال بھی جو جوتیوں میں بٹتی تھی ، وہ اب بھی بٹتی ہے لیکن اس کے لئے برادر اسلامی ممالک امداد فراہم کرتے ہیں یا امریکہ۔ یہ یا اور والا نہیں ، ندائیہ ہے بھاء۔ جیسے حاتم کے سات سوالات میں سے ایک پہاڑ سے آواز آتی تھی یا آخی۔ د سے دانا ہوتا ہے جسے عقل مند کہتے ہیں وہ اب دوسروں کو دانہ ڈالتا ہے ، پہلے یہ کام فیس بک سے باہر ہوتا تھا اب فیس بک کے اندر ہوتا ہے۔

د سے داہنی آنکھ پھڑکنا بھی ہوتا ہے کہتے ہیں یہ مرد کے لئے اچھا اور عورت کے لیے بْرا شگون ہے ، لیکن یہ تب تک درست ہے جب تک ان دونوں کی شادی نہیں ہو جاتی ، شادی کے بعد یہ الٹ ہو جاتا ہے۔ د سے داوٴ ہوتا ہے پہلے اسے داوٴں کہتے تھے ، پھر معلوم نہیں کیوں نون غنہ ہٹ گیا ، اب یہ نہ سمجھیں کہ اس میں بھی ن لیگ کا ہاتھ ہے۔ د سے داء یا دایہ ہوتی تھی ، اب اسے گائناکالوجسٹ کہتے ہیں ، پہلے یہ صرف عورت ہوتی تھی اب مرد بھی یہی ہیں۔

ویسے اس کا تعلق بھی داوٴ سے ہے۔ د سے دبنا یا دبانا فعل ہے ، یہ مال کے لیے زیادہ استعمال ہوتا ہے ، ہم مال ہر چیز کو کہتے ہیں ، سڑک کو ، بڑے سٹور کو ، لڑکی کو ، پیسے کو، اور بھی بہت سے چیزوں کو ، جس کے پاس ایک سے زیادہ مال ہو اسے مالا مال کہتے ہیں۔ یہ بھی دبانے کے لیے ہوتا ہے۔ پہلے یہ ملک کے اندر دبایا جاتا تھا اب ملک سے باہر بھی دبایا جاتا تھا۔

پاکستان میں ہر کوء دباتا ہے ، چھوٹا بچہ دوسروں کے گھروں کی گھنٹی کا بٹن دباتا ہے ، بجلی نہ بھی ہو تب بھی اور اپنے تئیں خوش ہوتا ہے۔ رش میں اوباش لڑکے بھی کوء نہ کوء چیز دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ امیر لوگ مال دباتے ہیں ، اور میاں بیوی ایک دوسرے کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر اس کوشش میں ناکام ہو جائیں تو گلا دبانے کے خواب دیکھتے ہیں۔

د سے دخل ہوتا ہے پوری دنیا میں کوء کام یا واقعہ ہو جا? ہم پاکستانی اس میں دخل ضرور دیتے ہیں۔ د سے داخلہ بھی ہوتا ہے پہلے یہ سکولوں ، کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں ہوتا تھا۔ اب یہ بند ہے۔ اس کے لئے ٹیسٹ ہوتا ہے ، یہ وہ ٹیسٹ ہے جسے تجربہ کہتے ہیں جب سے ہم نے بم بنانے ہے ہم ہر چیز ٹیسٹ کرتے ہیں۔ د سے دْر فٹیمنہ ہوتا ہے۔ یہ بتایا نہیں جاتا کر کے دیکھایا جاتا ہے ، اور اس کے لئے داہنے ہاتھ کی پانچ انگلیاں پوری کھولی جاتی ہیں ، آپ کو پتا ہے ہم ہر اچھا کام داہنے ہاتھ سے کرتے ہیں۔

د سے دفعہ بھی ہوتا ہے اور دفع بھی۔ دفعہ تعزیرات پاکستان میں ہوتی ہے اس کی مدد سے عوام کو دفع کیا جاتا ہے۔ د سے دق بھی ہوتی تھی جسے آپ ٹی بی کہتے ہیں ، سنا ہے یہ پوری دنیا سے ختم ہو گء ہے پھر سمجھ نہیں آتی کہ عوام کو کیوں دق کیا جاتا ہے۔ د سے دْگنا ہوتا ہے ، ایک محاورہ تھا دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنا ، اب اسے جعفر حسین نے رات ملک ریاضوی ترقی کا نام دیا ہے۔

پیارے بچو اب دل تھام کے بیٹھو اب د سے دل آ رہا ہے ، اب کون کون ویلنٹائن پہ استاد کو دل دے گا۔ د سے دماغ بھی ہوتا تھا اب پاکستان میں اسے زیادہ استعمال نہیں کیا جاتا۔ د سے دن بھی ہوتا ہے لیکن پاکستان میں یہ رات ہی ہوتا ہے۔ پیارے بچو د سے دوزخ بھی ہوتی ہے ، لیکن اس کے سارے ٹکٹ مولویوں نے ایڈوانس خرید لئے ہیں اب وہ اپنی مرضی سے مفت تقسیم کرتے ہیں۔ پیارے بچو د دیگ کسی کے گھر پکی ہو تو جاوٴ استاد کے لئے چاول لے آوٴ، شابش شابش

Your Thoughts and Comments