Daal

ڈ

سہیل عباس خان منگل جولائی

Daal
ڈ ڈ سے ڈان ہوتا ہے بچو، یہ صرف فلموں میں نہیں ہوتا بلکہ نو دولتیا ہوتا ہے۔ اس سے بچنا عوام کے لیے لازم ہے۔ ڈ سے ڈنڈا بھی ہوتا ہے جسے مولا بخش کہتے ہیں، اسی لیے مشہور ڈائیلاگ ہے کہ جسے مولا نہ مارے اسے کوئی نہیں مار سکتا، لیکن آپ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کوئی بھی خودکش بمبار یا بھائی آپ کو بوری بند لاش میں تبدیل کر سکتا ہے، اور کوئی نہیں تو کوئی لاپرواہ ڈرائیور آپ کی مرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

پاکستان میں صرف ایک چیز سستی ہے اور وہ موت ہے۔ ڈ سے ڈائیوو بھی ہے، یہ پاکستان کی وہ پبلک ٹرانسپورٹ ہے جسے غیر ملکیوں نے شروع کیا تھا لیکن ہم اسے بھی اپنے قومی مزاج میں لے آئے ہیں۔ ڈ سے ڈینگی بھی ہے، اسے صرف خادم اعلیٰ تصویریں کھنچوانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، ورنہ ایک مچھر سالا جس نے پوری قوم کو ہیجڑا بنا دیا ہے۔

(جاری ہے)

ڈ سے ڈونٹ بھی ہوتا ہے لیکن یہ وہ گول بسکٹ کی طرح کا ہے جو انگریزوں کی ایجاد ہے اور آپ کو پتا ہے انگریزوں کی ہر چیز حرام ہوتی ہے، اگرچہ وہ ہر چیز ہم استعمال کرتے ہیں۔

ڈ سے ڈونگا بھی ہوتا ہے، اس میں شوربا حلال اور بوٹیاں حرام ہوتی ہیں۔ ڈ سے ڈول بھی ہوتی ہے جسے باربی ڈول کہتے ہیں، یہ میڈیا کی چہیتی اور لاڈلی، وہ گڑیا ہے جسے میڈیا اپنی ریٹنگ کے لئے مروا بھی دیتا ہے، یا اس کے ساتھ ہمیشہ کیمرہ رکھتا ہے، یہ آپ کو قندیل بلوچ سے آیان علی تک نظر آئے گی۔ ڈ سے پرانے قاعدے میں ڈول تھا لیکن اب یہ صرف سیاستدان ڈالتے ہیں، اب وہ کنواں جس میں یہ ڈالا جاتا تھا موت کے کنویں میں تبدیل ہو چکا ہے جس میں صرف موٹرسائیکل یا کار چلائی جاتی ہے اور عوام کو خوش رکھنے کے لئے کھسرے نچوائے جاتے ہیں۔

ڈ سے ڈینگ بھی ہوتی ہے جسے ہم سب مارتے ہیں، ہم پاکستانی اس زمین پر سب سے عظیم قوم ہیں، اگرچہ ہم قوم نہیں ہجوم ہیں۔ ویسے تو مارنا فعل سے بہت سی ایسی چیزیں ہیں جن سے جان جاتی نہیں بلکہ آتی ہے، جیسے آنکھ مارنا، پاکٹ مارنا، مس بیل مارنا، لیکن یہ سب مارنا والے افعال ڈیٹ مارنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ ڈ سے ڈور بھی ہوتی ہے جو ہماری امریکہ کے ہاتھ میں ہے، سیاست دان سے لے کر فوج تک سب کی کوشش ہوتی ہے کہ ہماری پتنگ اونچی اڑے، طبقہ بالا تو اڑتا ہی ہے عوام کے بھی پڑخچے اڑتے ہیں۔

ڈ سے ڈو مور بھی ہوتا ہے، وہ بھی امریکہ کہتا ہے تو ہم کہتے ہیں ڈو مور ڈالر۔ ویسے تو ڈالر کی تلاش ساری قوم کو ہے، خاص طور پر رکشہ والوں کو۔ ڈ سے ڈنگ یا ڈنک ہوتا ہے، یہ رشتہ داروں سے دوستوں تک سب مارتے ہیں۔ ڈ سے ڈال بھی ہوتی ہے جس میں ایک ڈال پہ طوطا ہوتا تھا اور ایک ڈال پہ مینا، لیکن اب اس میں پیار تو پھر بھی ہے ناں نہیں ہے۔ اب ہم نے ڈ سے زیادہ تر انگریزی الفاظ اپنا لئے ہیں جیسے ڈینجرس ورنہ بھائی خطرہ تو اب بھی ویسا ہی ہے۔

ڈ سے ڈار ہوتا ہے، اسے منشی ڈار بھی کہتے ہیں اور وزیراعظم کا سمدھی بھی، کبھی یہ اس کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنتا ہے اور کبھی عوام کے خلاف۔ ڈ سے ڈر ہوتا ہے لیکن کس کو کس سے ہے یہ بدلتا رہتا ہے۔ ڈ سے ڈِش بھی ہوتی ہے، دلچسپ بات ہے کہ اس میں کھانے کی جو چیز رکھی جاتی ہے اسے بھی یہی کہتے ہیں۔ پرانے زمانے میں ایک ڈِش گھر کی چھت پر رکھی جاتی تھی، جس پر کئی پروگرام گھر کے بالغ افراد چھپ کر دیکھتے تھے، اب زمانہ ترقی کر گیا، اب وہ پروگرام سب گھر والے ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہیں۔

ڈ سے ڈز بھی ہوتی ہے، بلکہ پڑتی ہے، ویسے کبھی کبھی یہ کی بھی جاتی ہے۔ ڈ سے ڈھیٹ بھی ہوتا ہے، ویسے تو یہ ہوتی بھی ہے۔ دونوں صورتوں میں اس کا املا ڈھیٹھ بھی ہوتا ہے۔ ڈ سے ڈس بھی ہوتا ہے، اردو میں یہ سانپ یا کسی بھی زہریلی چیز کے لیے فعل کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن انگریزی میں صرف مؤنث کے ساتھ استعمال ہوتا ہے، غریب لوگوں کے لیے ڈس مس اور امیر لوگوں کے لیے مس ڈس۔

ڈ سے ڈاک بھی ہوتی تھی، کبھی ہوتی ہوگی، اب تو میل بلکہ میسیج ہوتا ہے، ویسے تو ڈاک لگنا بھی ایک محاورہ ہے اردو میں۔ ڈ ڈبا ہوتا ہے، ہم ہر اس چیز کو ڈبا کہتے ہیں جس سے کام لیتے ہیں یہ چاہے پیر ہو یا کوئی بھی چیز، ویسے تو ڈبا فلم بھی ہوتی ہے، ڈبہ بھی لکھا جاتا ہے، دونوں کا املا اہل زبان اپنی اپنی سمجھ کے مطابق لکھتے ہیں۔ اب آپ اہل زبان بیگم کو نہ کہیں جو اس کی مدد سے سب سے اوپر والی الماری سے بغیر سیڑھی کے بیگ اتار لیتی ہے۔ بچو تمہارے استاد کی شاعری کی ایک کتاب کا نام غزل در غزل تھا، اور خوفناک زندگی کا ایک باب بیگم در بیگم ہے، اس لئے اب گھر جاؤ اور کل استاد کے لیے مرہم پٹی کا سامان لے آنا۔ شابش۔ شابش پس تحریر : شابش تو تمہیں میں بتاتی ہوں، چلو شابش ادھر آؤ۔

Your Thoughts and Comments