Daal Roti

دال روٹی

عطاالحق قاسمی منگل فروری

Daal Roti

سبحان اللہ دعوت تو کل ہم نے کھائی ہے اس دعوت میں شرکت سے قبل میزبان کی مہمان نوازی کے صرف قصے ہی سنے تھے مگر شریک طعام ہوئے تومعلوم ہو کہ جو سنا تھا وہ کم تھا اس دعوت میں شہر کے چیدہ چیدہ لوگ شامل تھے جب دستر خوان بچھا تو ہم نے دیکھا کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک انواع و اقسام کی دالیں سجی ہوئی تھیں بس آپ کوئی بھی دال تصور میں لائیں وہ اس دستر خوان پر موجود تھی چنے کی دال مونگ کی دال ماش کی دال مسور کی دال گویا جدھر دیکھتے تھے ادھر ہی دال تھی ہمارے اس میزبان کو گھوڑا سواری کا بھی بہت شوق تھا چنانچہ باہر دو عربی نسل گھوڑے بھی اس کے تھان میں بندھے تھے ہم جب تک مصروف طعام رہے گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز ہمیں سنائی دیتی رہی وہ بار بار اپنے کھر بھی زمین پر مارتے تھے اس وقت تو ہم نے کھانے سے پاتھ نہ کھنچے مگر اب ضمیر نے ناطقہ بندکیا ہوا ہے کہ تم نے غریب مار کی یہ بے زبان رات کو بھوکے سوئے ہوں گے یہ ضمیربھی عجیب چیز ہے غلط کام سے نہیں روکتا صرف اس کا مزاکر کرا کرتا ہے مگریہ تصورکا صرف ایک رخ ہے کیونکہ چند روز قبل ایک اور دعوت میں بھی ہم شریک ہوئے تھے میزبان خیر سے بڑے معقول شخص ہیں لیکن جب دسترخوان کھلا تو جو کچھ سناتھا وہ سب فسانہ معلوم ہوا ایک ڈش اٹھا کر دیکھی تو اس میں نگوڑمرغ تھا دوسری میں جھانکا تو نرگسی کوفتے تیسری میں مچھلی کے قتلے چوتھی میں بکری کی روسٹڈران اور باقیوں میں بھی یہی لابلا تھا اوپر سے موصوف نے بڑا تیر مارا تھا یعنی بریانی بنائی ہوئی تھی تین چار سویٹ ڈشیں بھی بھاڑ سا منہ کھولے دستر خوان پر دھری تھیں مہمانوں نے ادھر ادھر نگاہ دورائی کہ شائد اس کنجوس مکھی چوس نے ایک آدھ ڈش دال کی بھی اپنا بھرم رکھنے کے لیے کہیں چھپا رکھی ہو مگر یہاں کوئی جرلیذہ ایسا نہ تھا جسے بال آخر پابندہ کہنے کا موقع ملا ہو سو یاروں نے یہاں کیا کھانا تھا بس زہر مار کیا اور ہاتھ دھو کر اپنے گھروں کی راہ لی اب یہ میزبان شہر میں منہ چھپاتا پھرتا ہے۔

(جاری ہے)

یہ دونوں دعوتیں ہم ذہن میں لائے اور ہمیں ملا نصیر الدین کا وہ لطیفہ یاد آیا جب ایک شخص ملا کے پاس آیا اور کہا آپ کا بڑا کرم ہوگا اگر آج رات کا کھانا آپ میرے ساتھ کھائیں ملا نے کہا میاں تکلیف کی کوئی بات نہیں جو دال روٹی ہم گھر میں کھاتے ہیں وہی حضور کی نذر کروں گا ملا جب رات کو اس شخص کے گھر پہنچے دستر خوان کھلا تو دیکھا وہاں واقعی روٹی دھری تھی اس اثناءمیں میزبان کا بچہ اپنے باپ کے پاس آیا اور اس سے پیسے مانگے میزبان نے اسے ڈانٹتے ہوئے کہا دفعہ ہوجاﺅ یہاں سے اگر تم نے اب پیسے مانگے تو میں تمہاری ٹانگیں توڑدوں گا ملانے فوراً بچے کو گود میں اٹھایا اور اسے پچکارا اور کہا کہ ابو سے اب واقعی پیسے نہ مانگنا یہ شخص جو کہتا ہے وہی کرتا ہے!“دراصل اس موقع پر یہ لطیفہ ہمیں یوں یاد آیا کہ بعض حلقوں کی طرف اس کی عجیب و غریب توجیہات کی جاتی ہے کچھ مفسد قسم کے لوگ تو ماضی میں اسے دال کے خلاف استعمال کرتے آئے ہیں اور اس لطیفے سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ملا دستر خوان پر دال روٹی دیکھ کر بدمزہ ہوگئے تھے چنانچہ انہوں نے موقع پاتے ہی میزبان پر چوٹ کردی حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے معاملہ یہ ہے کہ دال صرف آج ہی نایاپ نہیں غالباً ملا نصیر الدین ہی کے وقت سے نایاب ہے اور انہوں نے جب دستر خوان پر دال دیکھی تو فرط مسرت سے ان کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور پھر انہوں نے موقع پاتے ہی میزبان کے متعلق یہ کہہ کر اسے خراج تحسین پیش کیا کہ اس شخص کے قول و فعل میں تصادم نہیں یعنی جو کہتا ہے وہی کرتا ہے پرانے زمانے ہی سے دال کی نایابی والے خدشے کی تصدیق اس مراثی کے واقعے سے بھی ہوتی ہے جو کسی دوسرے گاﺅں میں اپنے ایک عزیز کے ہاں مہمان ہوا انہوں نے اس کی بہت آﺅ بھگت کی اور پھر میاں بیوی آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ آج کیا پکاناچاہیے میاں نے کہا چنوں کی دال پکالیتے ہیں بیوی نے مونگ کی دال کا مشورہ دیا اس وقت صحن میں مرغیاں بھی پھر رہی تھیں مراثی کو یہ گوارا نہ ہوا کہ اس کے میزبان اپنی قیمتی دالیں اس کے لیے پکائیں چنانچہ اس نے اپنے میزبان کر مخاطب کیا اور کہا باہرمیرا گھوڑا بندھا ہے آپ وہ پکالیں میں میں مرغی پر بیٹھ کر واپس چلا جاﺅں گا!اور اب یہ گھوڑے کا ذکر آیا ہے تو ہمارا دھیان ایک بار پھر اس دعوت کی طرف چلا گیا ہے جس میں میزبان نے نوع و اقسام کی دالوں سے معزز مہمانوں کی تواضح کی اور اس کے عزیز گھوڑے تھان پر بندھے ہنہناتے رہتے اور بار بار اپنے کھرزمین پر مارتے رہے اس وقت تو ہمیں ان پر ترس آیا تھا لیکن ان دنوں دالوں کی اس قدر میزبانی دیکھ کر اچانک ہمیں خیال آیا ہے کہ غریب مار ہم نہیں وہ تو یہ گھوڑے کرتے ہیں جو انسان کا رزق کھاجاتے ہیں اور جس کے نتیجے میں بڑے بڑے متمول میزبان بھی ان دنوں دعوت کے بعد مہمانوں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے بیشتر اس کے کہ گھوڑوں کی اس لوٹ کھسوٹ اور استحصال کے نتیجے میں انسانوں اور گھوڑوں کے درمیان طبقائی کشمکش کا آغاز ہو صورتحال کا سدباب ابھی سے کرنا ہے ہم اس موقع پر استحصالی گھوڑوں کو یہ انتباہ کرنا بھی ضرور سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے ازخود اپنے رویے میں تبدیلی نہ لائی تو ہم یہ معاملہ اپنے کامریڈ دوستوں کے سپرد کریں گے جس کے نتیجے میں خواہ ہمیں دال روٹی نہ ملے لیکن ان کا دانہ پانی بند ہوگا۔

Your Thoughts and Comments