Dast E Zulekha

دست زلیخا

پیر اکتوبر

Dast E Zulekha

مشتاق احمد یوسفی

بابائے انگریزی ڈاکڑسمویل جانسن کا یہ قول دل کی سیاہی سے لکھنے کے لائق ہے کہ جو شخص روپے کے لالچ کے علاوہ کسی اور جزبے کے تحت کتاب لکھتا ہے،اس سے بڑا احمق روئے زمین پر کوئی نہیں۔

(جاری ہے)

ہمیں
بھی اس کلیّے سے حرف بہ حرب اتّفاق ہے،بشرطیکہ کتاب سے مراد وہی ہے جو ہم سمجھے ہیں،یعنی چیک بک یا روکڑبہی۔

دیباچے
میں یہ وضاحت ازبس ضروری ہے کہ یہ کتاب کس مالی یا الہامی دباؤسے نڈھال ہوکرلکھی گئی۔

چنانچہ
جو اہل قلم ذہین ہیں ،وہ مشک کی طرح خود بولتے ہیں۔

جو
ذرا زیادہ ذہین ہیں ،وہ اپنے کندھے پر دوسروں سے بندوق چلواتے ہیں۔

یعنی
تاریخ وفات ،آلہ قتل اور موقع واردات کا انتخاب صاحب معاملہ خود کرتا ہے۔

اور
تعزیرات پاکستان میں یہ واحد جرم ہے،جس کی سزا صرف اس صورت میں ملتی ہے کہ ملزم ارتکاب جرم میں کامیاب نہ ہو۔

1961
میں پہلی ناکام کوشش کے بعد بحمداللہ ہمیں ایک بار پھر یہ سعادت بقلم خود نصیب ہو رہی ہے۔

تیشے
بغیر مرنہ سکاکوہن اسد۔

یہ کتاب ‘چراغ تلے’کے پورے آٹھ سال بعد شائع ہو رہی ہے ۔

جن قدردانوں کو ہماری پہلی کتاب میں تازگی،زندہ دلی اور جواں سالی کا عکس نظر آیا،ممکن ہے،ان کو دوسری میں کہولت کے آثار دکھلائی دیں۔

اس
کی وجہ ہمیں تو یہی معلوم ہوتی ہے کہ ان کی عمر میں آٹھ سال کااضافہ ہوچکا ہے۔

انسان کو حیوان ظریف کہا گیا ہے۔لیکن یہ حیوانوں کے ساتھ بڑی زیادتی ہے۔

اسلیے

کے دیکھا جائے تو انسان صرف واحد حیوان ہے جو مصیبت پڑنے سے پہلے مایوس ہوجاتا ہے۔

انسان واحد جاندار ہے،جسے خلاق عالم نے اپنے حال پر رونے کے لیے غدودگریہ بخشےہیں۔

کثرت
استعمال سے یہ بڑھ جائیں تو حساس طنز نگار دنیا سے یوں خفا ہوجاتے ہیں جیسے اگلے وقتوں میں آقا نمک حرام لونڈیوں سے روٹھ جایا کرتے تھے۔

لغزش
غیر پر انہیں ہنسی کے بجائے طیش آجاتا ہے۔ذہین لوگوں کی ایک قسم وہ بھی ہے جو احمقوں کا وجوود سرے سے برداشت ہی نہیں کر سکتی۔

لیکن
،جیسا کہ مارکوئس دی سید نے کہا تھا،وہ بھول جاتے ہیں کہ سبھی انسان احمق ہوتے ہیں۔

موصوف
نے تو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ اگر تم واقعی کسی احمق کی صورت نہیں دیکھنا چاہتے تو خود کو اپنے کمرے میں مقفّل کرلو اور آئینہ توڑکر پھینک دو۔

لیکن مزاح نگار کے لیے نصیحت ،فصیحت اور فہمائش حرام ہیں۔

وہ اپنے اور تلخ حقائق کے درمیان ایک قدآدم دیوارقہقہ کھڑی کرلیتا ہے۔

وہ
اپنا روئے خنداں،سورج مکھی پھول کی مانند ،ہمیشہ سرچشمئہ نور کی جانب رکھتا ہے اور جب اس کا سورج ڈوب جاتا ہے تو اپن ارخ اس سمت کرلیتا ہے،جدھر سے وہ پھر طلوع ہوگا؛

ہمہ آفتاب بینم، ہمہ آفتاب گویم

نہ شبنم،نہ شب پر ستم کہ حدیث خواب گویم

حس مزاح ہی اصل انسان کی چھٹی حس ہے۔

یہ ہو تو انسان ہر مقام سے آسان گزر جاتا ہے۔وں تومزاح،مذہب اورالکحل ہر چیز میں بآسانی حل ہوجاتے ہیں،بالخوص اردو ادب میں۔

لیکن
مزاح کے اپنے تقاضے،اپنے ادب آداب ہیں۔شرط اول یہ کہ برہمی،بیزاری اور کدورت دل میں راہ پائے۔

ورنہ
بومرنگ پلٹ کر خود شکاری کا کام تمام کردیتا ہے۔مزا توجب ہے کہ آگ بھی لگے اور کوئی انگلی نہ اٹھاسکے کہ‘‘یہ دھوآں سا کہاں سے اٹھتا ہے؟’’مزاح نگار اس وقت تک تبسم زیر لب کا سزا وار نہیں،جب تک اس نے دنیا اور اہل دنیا سے رج کے پیار نہ کیا ہو۔

ان
سے ۔ان کی بے مہری وکمنگاہی سے۔ان کی سرخوشی و ہوشیاری سے۔

ان
کی تردامنی اور تقدس سے۔ایک پیمبر کے دامن پر پڑنے والا ہاتھ گستاخ ضرور ہے،مگر مشتاق وآرزومند بھی ہے۔

یہ
زلیخا کا ہاتھ ہے۔خواب کو چھوکردیکھنے والا ہاتھ۔

صبا کے ہاتھ میں نرمی ہے ان کے ہاتھوں کی

ایک صاحب طرز ادیب نے،جو سخن فہم ہونے کے علاوہ ہمارے طرفدار بھی ہیں(تجھے ہم ولی سمجھتے جونہ سود خوار ہوتا۔

۔۔۔۔۔کی حد تک)ایک رسالے میں دبی زبان سے شکوہ کیا کہ ہماری شوخئی تحریر مسائل حاضرہ کے عکس اور سیاسی سوزوگداز سے عاری ہے۔

اپنی
صفائی میں ہم مختصرًااتنا ہی عرض کریں گے کہ طعن وتشنیع سے اگر دوسروں کی اصلاح ہوجاتی تو بارود ایجاد کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔

لوگ کیوں ،کب اور کیسے ہنستے ہیں،جس دن ان سوالوں کا صحیح صحیح جواب معلوم ہوجائے گا، انسان ہنسنا چھوڑدے گا۔

رہا یہ سوال کہ کس پر ہنستے ہیں؟ تو اس کا انحصار حکومت کی تاب ورواداری پر ہے۔

انگریز
صرف ان چیزوں پر ہنستے ہیں، جو ان کی سمجھ میں نہیں آتیں۔

۔۔۔۔۔۔پنچ
کے لطیفے، موسم،عورت،تجریدی آرٹ۔اس کے برعکس ،ہم لوگ ان چیزوں پر ہنستے ہیں،جو اب ہماری سمجھ میں آگئی ہیں۔

مثلاًانگریز،عشقیہ
شاعری،روپیہ کمانے کی ترکیبیں ،بنیادی جمہوریت۔

فقیر گالی،عورت کے تھپڑاور مسخرے کی بات سے آزوردہ نہیں ہونا چاہئیے۔

یہ قول فیصل ہمارا نہیں، مولٰنا عبید زاکانی کا ہے(ازدشنام گدایاں و سیلئی زناں وزبان شاعراں ومسخرگاں مرنجید)مزاح نگار اس لحاظ سے بھی فائدے میں رہتا ہے کہ ممکن ہے، اس میں بھی تفنّن کا کوئی لطیف پہلو پوشیدہ ہو، جو غالیباً موسم کی خرابی کے سبب اس کی سمجھ نہیں آرہا۔

اس
بنیادی حق سے دستبردار ہوئے بغیر، یہ تسلیم کرلینے میں چنداں مضائقہ نہیں کہ ہم زبان اور قواعد کی پابندی کو تکلّف زائد تصور نہیں کرتے۔

یہ
اعتراف عجز اس لیے اور بھی ضروری ہے کہ آج کل بعض اہل قلم بڑی کوشش اور کاوش سے غلط زبان لکھ رہے ہیں۔

ہاں
کبھی کبھار بے دھیانی یا محض آلکس میں صحیح زبان لکھ جائیں تو اور بات ہے۔بھول چوک کس سے نہیں ہوتی؟

Your Thoughts and Comments