Date Of Birth

ڈیٹ آف برتھ

عطاالحق قاسمی منگل جنوری

Date Of Birth

عطاءالحق قاسمی:
بلکہ بعض صورتوں میں تو وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا مثلاً ایک ہم ہی کو لیجئے مختلف علوم عنوان و فنون کے ضمن میں کیسے کیسے نادر اور اچھوتے خیالات ہمارے ذہن میں آتے رہتے ہیں اور جب اس قسم کا کوئی خیال ہمارے ذہن میں در آتا ہے تو ہمارا اپنا سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے اور ہم سوچتے ہیں کہ اس علم فن میں ہمارا ایک شمار ایک نئے دبستان فکر کے بانی کے طور پر ہوگا لیکن بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جب ہم اپنے ان زریں خیالات کا اظہار اپنے کسی دوست کے سامنے کرتے ہیں تو وہ ہم سے پہلے پیدا ہونے والے کسی مفکر کا نام لے لیتا ہے کہ یہ خیال تو اس نے پیش کیا تھا جس سے ہم دکھی پریم نگری قسم کی چیز ہوجاتے ہیں مثلاً گزشتہ روز اپنے دوستوں کے ساتھ دھوپ سینکتے ہوئے ایک فلیش سا ہمارے ذہن میں آیا کہ جو دنیا کی مختلف قومیں ”پدرم سلطان بود“ کا راگ الاپتی رہتی ہیں تو یہ بہت بے جا قسم کا تفاخر ہے کیونکہ جس طرح یونیورسٹی میں روٹیشن سے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ کا تقرتھا یا اسی طرح قدرت بھی بائی روٹیشن قوموں کو ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ بناتی ہے چنانچہ اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ پتہ چلتا ہے کہ دنیا کی ہر قوم باری باری پوری دنیا پر حکمرانی کرچکی ہے ہمارا خیال تھاکہ ہماری یہ خیال افروز گفتگو سن کر دوست چونکیں گے اور ہمارے ان خیالات کو علم تاریخ میں انقلاب آفرین قراردیں گے مگر بہت افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ایک دوست نے ہماری زبان سے یہ نئی تھیوری سن کر بجائے داددینے کے کہا تو صرف یہ کہا کہ ابن خلدون بھی اس قسم کی بات کہہ چکے ہیں حالانکہ ہم نے ابن خلدون کو پڑھنا تو کجا ان کا نام بھی نہیں سنا تھا اورتادم تحریر پتہ نہیں کہ یہ بزرگ کون ہیں یا تھے اور کیا بیچتے تھے اسی طرح ایک روز ہم نے اپنے ایک دوست سے کہا کہ یاریہ جو ہم حافظے کی کمزوری کاروناروتے رہتے ہیں خیال ہے کہ حافظے کی کمزوری نام کی کسی چیز کا وجود نہیں بلکہ ہمارا الاشعور جن چیزوں کو اہمیت نہیں دیتا وہ انہیں بھلا دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ جن چیزوں سے ہماری وابستگی شعوری اورلاشعوری دونوں سطحوں پر موجود ہے ہم انہیں کبھی نہیں بھولتے اب ظاہر ہے کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی جو ہم نے کہی تھی بلکہ اگر آپ جیسے منصف مزاج لوگ اس بات پر غور کریں تو اسے علم نفسیات میں ایک اضافہ قرار دیں گے مگر ہمارے مخاطب دوست نے یہ بات سن کر سگریٹ کا ایک کش لگایا او کہا فرائڈ یہ بات بہت پہلے کرچکا ہے اب یہ فراڈ تو ہم نے سن رکھا ہے کیونکہ باقی قوم کی طرح ہمارے ساتھ بھی عرصہ دراز سے فراڈ ہورہا ہے فرائیڈ کا نام سن کر ہمارا ماتھا ٹھنکا لیکن اب کیا اعتراف کرتے جائیں ہم چونکہ مختلف مسائل پر اسی طرح غوروفکر کرتے رہتے ہیں چنانچہ ایک دن ہم نے جہموریت کے مسئلے پھر بھی غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ جہموریت کے ذریعے جہمور کی حکومت کبھی بھی وجود میں نہیں آسکتی بلکہ اس نظام میں ہوتاصرف یہ ہے کہ ناجائز طریقے سے ملکی وسائل پر قابض طبقہ جائز طریقے سے حکومت پر قابض ہوجاتا ہے اصلی جہموریت صرف اسی طرح وجود میں آسکتی ہے کہ انتخابی حلقے آمدنی کے لحاظ سے قائم کیے جائیں مثلاً اگر پاکستان کی اسی فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے اور وہ معمولی کاشتکاروں یا مزار عین پر مشتمل ہے تو اسمبلیوں میں ان کی نشستوں کی تعداد ان کی آبادی کے تناسب سے ہوا اور ان کے حلقوں سے کسی جاگیر دار کو انتخاب لڑنے کی اجازت نہ ہواسی طرح جاگیرداروں کے لیے دو ایک علیحدہ نشستیں ان کی آبادی کے تناسب سے رکھی جائیں اور وہ بھی ایوان بالا میں اونچے لوگ ٹھہرے اسی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مزدوروں کی نمائندگی کا حق کسی صنعت کار کو نہیں ملنا چاہیے ان کے لیے علیحدہ نشست ہو ایوان بالا میں اس نشست کے ووٹر بھی صنعت کار ہی ہوں گویا اصلی جہموریت کے لیے جماعتی بنیادوں پر انتخاب کرنا ضروری ہیں ہمارا دوست ہماری بات سن کر ہنسا اور بولا جسے تم نے جماعتی بنیادوں پر انتخابات کا نام دیا ہے یہ طبقاتی انتخابات میں اور کارل مارکس اس قسم کی باتیں بہت پہلے کہہ چکا ہے!ہم جگہ کی قلت کی وجہ سے زیادہ مثالیں نہیں دے سکے ورنہ صورت حال تو یہ ہے کہ دن میں کئی دفعہ پنسبہ کجا کجا نہم والا مصرعہ یاد آتا ہے تاہم درج بالا واقعات سے آپ ایک رف سا اندازہ تو ضرور لگاسکتے ہیں کہ ہم جیسے اوریجنل مفکروں کو زمانے والے کن کن طریقوں سے ٹارچر کرتے ہیں اور زندہ لوگوں کے افکار اس طرح مردہ لوگوں کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ہمارے ایک دوست انور سدید بھی ہماری طرح دکھی ہیں ایک دفعہ انہوں نے ایک نہایت خوب صورت لمرک لاہور کے ایک انگریزی اخبار میں اشاعت کے لیے ارسال کی لیکن جب وہ لمرک شائع ہوئی تو بجائے اس کے کہ انہیں داد ملتی سارے ملک میں شور مچ گیا کہ یہ تو انگریزی کی مشہور ترین لمرک ہے اتنی مشہور کہ اس کی حیثیت ضرب المثل کی ہوچکی ہے برادرم انور سدیداس الزام تراشی سے اتنے افسردہ ہوئے کہ انہوں نے آئندہ کے لیے انگریزی شاعری پر تین حرف بھیجے چنانچہ اب جو بھی اور جیسا بھی لکھنا ہو اردو میں لکھتے ہیں تاہم ہمارادکھ بہرحال سب سے زیادہ ہے کہ ہم دن میں کئی دفعہ نئی نئی باتیں سوچتے ہیں اور اتنی ہی دفعہ ہمیں یہ سننا پڑتا ہے کہ یہ بات تو تم سے پہلے فلاں فلاں فلا سفر یا مفکر کہہ چکے ہیں گویا ہماری ڈیٹ آف برتھ ہماری ترقی کی راہ میں حائل ہے چنانچہ ہم نے کئی دفعہ سوچا کہ بورڈ میں کسی سے ملا کر اپنی ڈیٹ آف برتھ یکم فروری 1943 کی بجائے یکم فروری1743 کروالیں تاکہ یہ ٹنٹنا ہی ختم ہو مگر پھر یہ سوچ کر چپ ہوجاتے ہیں کہ اس صورت میں حاسد ین1743 سے پہلے کے مفکرین ہمارے مدمقابل لاکھڑا کریں لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ایسی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دی جائیں جیسا کہ ہمارے ڈاکٹر وزیر آغا کرتے ہیں تاہم ہماری اس ذاتی وسیع النظری اور عالی حوصلگی کے باوجود یہ بات تو واضح ہے کہ ہماری قوم ذہنی طور پر ابھی کس قدر پسماندہ ہے اور وہ ہم ایسے سوچ بچار کرنے والوں کے خیالات پر داد دینے کے بجائے گردن موڑ کر پیچھے کی طرف دیکھتی ہے اور ابن خلدون فرائڈ یا کارل مارکس ایسے لوگوں کو سامنے لاکھڑا کرتی ہے محض اس لئے کہ وہ اتفاق سے اس دنیا میں ہم سے پہلے آگئے تھے ہمارے دوست خواجہ افتخار نے اتنی محنت سے جب امرتسر جل رہا تھا جیسی کتاب لکھی مگر دوست ہیں کہ ان سے پوچھتے ہیں کہ خواجہ صاحب 1947 میں آپ کی عمر کتنی تھی؟خواجہ افتخار انور سدید یا ہمارا دکھ یہ نہیں کہ لوگ ہمارے افکار عالیہ پر داد کیوں نہیں دیتے بلکہ اصل دکھ یہ ہے کہ آج کے دور میں جب سائنسی ترقی اپنے عروج پر ہے اور لوگ چاند پر پہنچ چکے ہیں ہماری قوم ابھی ڈیٹ آف برتھ کے چکر سے نہیں نکل سکی۔

(جاری ہے)


”تفوبر تو اے چرخ گردوں تفو“
حالانکہ کتاب کے ساتھ مصنف کی ڈیٹ آف برتھ کا مسئلہ نتھی کردیا جائے تو کوئی شخص تاریخی نویسی کرکے تاریخ دان نہیں کہلاسکتا!یہ بے انصافی نہیں تو اور کیا ہے؟

Your Thoughts and Comments