Diana Complex

ڈیانا کمپلیکس

ہفتہ مارچ

Diana Complex

ڈاکٹر محمد یونس بٹ
صاحب ابھی ابھی ایک خط نے ہمیں وصول کیا ہے اگرچہ سیانے کہتے ہیں جوانی میں خط سنبھال کر رکھو تو وہ بڑھاپے میں آپ کو سنبھال کررکھتے ہیں مگر پھر بھی ہم سمجھتے ہیں سب سے اچھے خط وہ ہوتے ہیں جنہیں پڑھ کر پھاڑ دیا جائے یوں ہمیں اچھے خط نہیں آتے پہلی بات آج سے دس بارہ سال قبل خط آیا تھا اور ہم نے خط بنوانے کی بجائے شیو شروع کردی خود کسی کو خط اس لئے نہیں لکھا کہ ہم اتنے بدخط ہیں کہ بچپن ہی سے ہماری لکھائی دیکھ کر لوگوں کو شک تھا کہ ہم بڑے ہوکر ڈاکٹر بنیں گے اگرچہ ہمیں ایک دوست نے بڑا قیمتی لیٹر اوپنر یہ کہہ کردے رکھا ہے کہ اب مجھے لیٹر اوپنر کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ میری تو شادی ہوگئی ہے اب یہ تم لے لو آج سے اس کجے استعمال کا موقع بھی آیا تو تباہ کن خط سے ایک انتباہ نکلا جو یہ تھا کہ 1351 کے ٹریزن ایکٹ کے تحت جب تک طلاق نہ ہو کوئی دوسرا مرد شہزادی ڈیانا سے شادی نہیں کرسکتا اگر کوئی خلاف ورزی کرے گا تو اس کی سزا موت ہے الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان موت سے نہیں ڈرتا پھربھی ہم اس خط کو ذاتی معاملات میں مداخلت سمجھتے ہیں جی ہاں چارلس اور ڈیانا کے ذاتی معاملات ہیں جہاں تک ان کی علیحدگی کی بات ہے توساری دنیا میں علیحدگی پسندی کی تحریکیں اٹھ رہی ہیں ہم حلفیہ کہتے ہیں ڈیا نااور چارلس کی طلاق کی وجہ وہ نہیں ہے جو خط لکھنے والے نے سمجھی ہے یوں ہم مکتوب الیہ بلکہ معتوب الیہ نہیں ہے ڈیانا اور چارلس کی طلاق ہونے کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان کی شادی ہوئی تھی لوگ کہتے ہیں چارلس اتنا معمر ہوگیا تھا کہ اسے ڈیانا کا نام بھی یاد نہ رہتا حالانکہ خاوند کو اپنی بیوی کا نام بھولنے لگے تو اس سے خاوند سے زیادہ بیوی کے معمر ہونے کا پتا چلتا ہے البتہ بندے کو دوسروں کی بیوی کا نام بھولنے لگے تو سمجھ لیں وہ بوڑھا ہوگیا ہے ڈیانا تو خود کشیدہ کاری کی ماہر تھیں یوں حالات کشیدہ اور کاری ہوتے گئے پھر اب وہ زمانہ نہیں جب کہانی کا اختتام یوں ہوتا ہے پھر شہزادہ شہزادی علیحدہ ہوکر ہنسی خوشی رہنے لگے مغرب کے رشتے تو بس اتنے پائیدارہیں کہ زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے،ایک ذرا سی بات پر پرسوں کے یارانے گئے انگریز خواتین میں یہی خوبی ہے کہ وہ تو گالی دینے کے لئے بھی منہ نہیں نتھنے ہی کھولتی ہیں لندن میں تو کتے بھی کسی اجنبی پر اس وقت تک نہیں بھونکتے جب تک اس کا ان سے تعارف نہ کروایا جائے جبکہ ہمارے ہاں تو کوئی کہے کہ میں ایسی خاتون سے شادی کرنا چاہتا ہوں جسے میں جو مرضی کہوں وہ آگئے سے ایک بار بھی جواب نہ دے تو دوسرا سمجھتا ہے یہ ٹیلی فون آپریٹر سے شادی کرنا چاہتا ہے ڈیانا کی خوبصورتی اس کی خاموشی میں ہے وہ بڑی سیدھی سادھی بلکہ سیدھی سیدھی ہے اس کے نام پر وہاں ایک جہاز کا نام رکھا گیا تو سارا دن سوچتی رہی کہ اس میں اور مجھ میں کونسی مماثلت ہے یاد رہے جہاز کے پشتے کمزور تھے اور وہ ہال برداری کے کام آتا تھا وہاں ایک کمپلیکس کا نام فرگوسن کمپلیکس بھی رکھا گیا کیونکہ اس میں صرف کروڑ پتی تاجر ہی قیام کرتے تھے اگرچہ فرگوسن ٹریکٹر تو اب بھی مارکیٹ میں ہیں جن کی خوبی یہ ہے کہ غلط راستوں پر بھی صحیح چلتے ہیں اب فرگوشن کمپلکس کو ڈیانا بنادیا گیا پوچھا یہ کیسے کیا؟تو جواب ملا عمارت کی اوپر والی منزل خالی کرکے اگرچہ ڈیانا نے کہا ہے یہ میرا نہیں لوگوں کا کمپلکس ہے شہزادی کی طلاق کا سن کر صرف ایک بندہ رنجیدہ ہوا اور وہ شہزادہ ولیم ہے ماں باپ کو سمجھا بھی نہیں سکتا یہ اس لئے مشکل ہے کہ بچوں کو ماں باپ جب ملتے ہیں تب وہ اتنے بڑے ہوچکے ہوتے ہیں کہ بچوں سے ان کی تربیت نہیں ہوسکتی اگرچہ اس کی ضرورت ہمیشہ سے رہی ہے 301 قبل مسیح کا فلا سفر زیتو تو اپنی درس گاہ میں کسی نوجوان کو گھسنے نہ دیتا تھا کہتا سھجھانے کی ضرورت صرف پکی عمر اور پختہ کار لوگو ں کو ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

ڈیانا کی طلاق کی خبر پہنچتے ہی لوگوں نے اس کافر حسینہ کو چار کلمے پڑھانے کوسوچنا شروع کردیا تھا اسی لیے مغربی پرسی نے ٹریزن ایکٹ والی وارننگ مسلم ممالک بالخصوص عرب ممالک میں فوراً شائع کروادی تاکہ کوئی بے خبر نہ مارا جائے اگرچہ ہمارے ہاں کی شادی میں ان کے ہاں سے زیادہ شادی ہوتی ہے لیکن وہ ہماری کوالٹی کی بجائے کوانٹیٹی پر ہی نظر رکھتے ہیں ہمارے ایک معروف سفرنامہ نگار سے ایک مغربی خاتون سے پوچھا آپ کی کتنی خوبیاں ہیں؟اس نے کہا ساڑھے تین تو وہ حیران ہو کر بولی ساڑھے تین سو اتنی کیوں کہا اس لئے کہ میں وہاں کا غریب بندہ ہوں اس سے زیادہ افورڈ نہیں کرسکتا ہم ڈاکخانے کو خطوں کا قبرستان کہتے ہیں اگرچہ اردور ادب میں ڈاکیے کو نامہ برکہا گیا ہے لیکن پنجابی زبان میں نامہ برکے لیے ایک برا سا لفظ ہے ہمیں یہ اسی کی شرارت لگتی ہے ویسے بھی ہم جب سے نئے کمرے میں شفٹ ہوئے ہیں ڈاکیا پہلے رہنے والے صاحب کے خط بھی اندر ڈال جاتا ہے ایک دن ہم نے کہا یہ ڈاک تم غلط پتے پر کیوں پھینک جاتے ہو تو کہنے لگا میں تو صحیح پتے پر ڈاک پھینکتا ہوںآپ غلط پتے پر رہ رہے ہوں ہمیں لگتا ہے یہ خط غلام مصطفی کھر کا ہے جو غلطی سے ہمیں مل گیا ہے بہر حال اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ہاں غلطیوں کا معیار بہتر ہوگیا ہے۔

Your Thoughts and Comments