Diwan Sahab

دیوان صاحب

بدھ جون

Diwan Sahab
سیدضمیر جعفری:
ہمارے سرشتہ کے نئے افسر اعلیٰ دیوان صاحب کا آج دفتر میں پہلا دن تھا وضع قطع تراش خراش ‘ لباس وغیرہ ہر لحاظ سے وہ اعلیٰ درجے کے انگریز معلوم ہوتے تھے۔ البتہ ایک کان میں مہاراجہ گائیکواڑ کی طرح ایک چمکتا ہواہیرا تھا۔ آنکھیں خوبصورت اور بڑی بڑی تھیں مگر کچھ خالی خالی‘ کچھ حیران حیران‘ جیسے آدمی بیٹھا کہیں ہو ‘ دیکھ کہیں رہاہو‘ جیسے دیکھتے ہوئے بھی کچھ دیر نہ دیکھتا ہو۔


سیکرٹری والی گھنٹی بجی تو میں حاضر ہوا:
”آپ کون ہیں؟
”جناب میں آپ کاسیکرٹری ہوں“
”توآپ سیکرٹری ہیں؟
”جناب“
تو آپ سیکرٹری ہیں“دیوان صاحب پھر وہی جملہ دہرایا۔ مجھے سرسے لے کر پیر تک ایک تفصیلی نظر سے دیکھا․․․․․․ خیر تو ٹھیک ہے مگرایک بات آپ سن لیں کہ میرے ساتھ کام کرنا ایک مشکل کام ہے۔

(جاری ہے)


جناب ! آپ ایسے خاندانی افسر کے ماتحت کام کرنا تو میری خوشی نصیبی ہے۔
آپ ایسا سمجھتے ہیں تو شکریہ۔ وہ اٹھ کر ٹہلنے لگے“ لیکن آپ مجھے عام آدمیوں سے بہت مختلف پائیں گے۔
” جی“
”آپ کو میری طبیعت کو اچھی طرح سمجھنا ہوگا“
”جی ! ہم تنخواہی اس بات کی پاتے ہیں“
سنئے! جب بول رہاہوں تو میں دوسرے کا بولنا پسند نہیں کرتا؟
چھٹی آپ اس روز جائیں گے جس روز ہم چھٹی پر ہوں گے۔

دفتر کی ساری مخلوق سے واسطہ رکھنا ہمیں ”پسند نہیں“
بہت میرا“ مجھے خفیف سی کھانسی آگئی۔
میں لوگوں کے اس طرح کھانسنے کو سخت ناپسند کرتا ہوں اور دیکھئے آپ کو زکام بھی کبھی نہ ہونا چاہیے“
” بہت بہتر“
ہم صفائی ‘ شائستگی‘ باقاعدگی اور خوش ذوقی کااعلیٰ معیار چاہتے ہیں“
” جی“
پھر سنئے صفائی! شائستگی خوش ذوقی․․․․․․․ آپ نے بکنگھم پیلس تو دیکھا ہوگا۔


”جی بس تصویریں ہی دیکھی ہیں“
”تو آپ انگلستان نہیں گئے“
” جی نہیں“
” اٹلی یاجرمنی“
جی میں تو اسلامیہ کالج میں پڑھتا رہاہوں۔ وہاں سے سیدھا اس دفتر میں آگیا“
اوہو! یہ تو بڑی کمی ہے حیرت ہے کہ آپ تیس برس سے اس ایک ملک میں پڑے ہیں‘ میں نہیں سمجھتا کہ آپ ہماری طبیعت کوسمجھ سکیں گے؟
جناب میں کوشش کروں گا کہ جناب کومطمئن کروں۔


بہرحال صفائی اور باقاعدگی․․․․․د یوان صاحب ٹہلتے ہوئے دروازے کے پاس جاکھڑے ہوئے اور پردے کو گھورنے لگے․․․․․․ ادھر تو آئیے۔
” جی“
ہم تو اس دفتر میں بیٹھ ہی نہیں سکتے۔
ہم توپاگل ہوجائیں گے۔
دیوان صاحب واقعی پاگلوں کی طرح اچھلنے لگے۔ پردے کے ایک مقام پر انگلی رکھ کر بولے۔
”یہ کیا ہے“
”پردہ ہے جناب“
” یہ پردہ ہے“ دیوان صاحب نے ایک ذرا بھرے ہوئے دھاگے میں انگلی ڈالی اور ایک ہی جھٹکے میں تین چار گزدھاکہ گھسیٹ کرباہر نکال لائے۔


” یہ پردہ ہے“
دیوان صاحب اب واضح طور پر جنوں کی ایک کیفیت میں داخل ہوچکے تھے وہ چلا کرکہتے․․․․․ یہ پردہ ہے؟ اور اچھل کر کچھ دھاگہ گھسیٹ کرفرش پرڈھیر کردیتے ‘ یہاں تک کہ تمام پردہ تار تار ہوکر زمین پر آرہا
یہ پردہ ہے؟ دیوان صاحب ہانپ رہے تھے۔
جناب مجھے افسوس ہے آپ کو اتنی کوفت ہوئی“
کوفت؟ یہ تکدرتواب مہینوں چلے گا“
جی واقعی میں نادم ہوں“
نہیں تمہارا کوئی قصور نہیں․․․․․ دیوان صاحب کرسی پر جابیٹھے۔

” تمہارا کیا قصور“ وہ جیسے کسی سوچ میں کھوگئے‘ تمہارا کیاقصور ہے” آج کی پوری دنیا ہی ایک ایساپردہ ہے جس کے سب دھاگے نکلے ہوئے ہیں۔ اور وہ سوچ کے ایک طویل غوطے میں ڈوب گئے‘ تنگ آکر میں نے پوچھا۔
جناب میرے لیے کیا حکم ہے؟
کچھ نہیں ‘ تم جاسکتے ہو“ وہ بظاہر نارمل ہوگئے تھے” ایسے موقعوں پر آپ ہمیشہ چپ چاپ چلے جایا کریں !
میں چپ چاپ جانے لگاتو بولے ۔


ٹھہرئیے ! میں آج تمام سٹاف کوایڈریس کرنا چاہتا ہوں۔ تین بجے!“
بہت بہتر صاحب!
عام طور پر ہرنئے افسر کی شہرت اس کی آمد سے پہلے ہی دفتر میں پہنچ جاتی ہے‘ دیوان صاحب کی شہرت خاصی تشویش انگیز تھی․․․․․ بیان کیا گیا تھا کہ وہ ایک بہت بڑے جاگیردار کے فرزند ہیں۔ پورے تیس برس یورپ کی آٹھ دس مختلف یونیورسٹیوں میں فلسفہ پڑھتے رہے ہیں۔

جب تک فیل ہوتے رہے ہیں مسلسل شادیاں کرتے رہے پاس ہونے لگے توبیویوں کو طلاق دیتے گئے۔ چنانچہ فلسفے اور طلاق کی بہت سی ڈگریاں ان کے پاس ہیں۔ یہ توخیرذاتی سی باتیں تھیں۔ اگرچہ دفتر کے کہنہ مشق سپر نٹنڈنٹ مولوی نوشاہ علی کی رائے میں یہ ذاتی باتیں بھی کچھ کم اہم نہ تھیں۔ بہرحال تشویش کی بڑی وجہ یہ بھی کہ ان کی طبیعت میں نفاست اور فلسفہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔

ان کی ذات میں یہ دونوں چیزیں اس حد کو پہنچ گئی تھی کہ ان کی ذات سرے سے گویا موجود ہی نہ تھی نفاست کے ہاتھوں وہ زندگی بھر کوئی کام نہ کرسکے اور فلسفے کے ہاتھوں دو مرتبہ پاگل ہوچکے تھے۔ اس کے علاوہ اپنے آپ کو ذہنی طور سے اتنا بڑا آدمی سمجھتے تھے کہ دنیا کاہر کام ان کے لیے چھوٹا ہو کررہ گیا تھا۔ موجودہ منصب اگرچہ بہت بڑا تھا مگر لوگ حیران تھے کہ انہوں نے اس منصب کو قبول کیسے کرلیا۔

لوگ یوں بھی حیران تھے کہ فولاد سازی کے کارخانے میں ایک فلسفی رئیس زادے کو لابٹھانے میں آخر کیا تک تھی مگر خیریہ تو سوخ کی بات تھی اور ہمارے کارخانے میں رسوح اتنا چلتا تھا کہ کارخانہ تقریباََ بند ہی پڑا رہتا۔
دیوان صاحب جب تشریف نہیں لائے تھے ہم لوگ سوچتے تھے کہ یہ افواہیں غلط ہوں گی۔ یار لوگ بڑھا بھی دیتے ہیں۔ کچھ زیب داستان کے لیے لیکن آج پہلے ہی سابقے نے واضح کردیا کہ ان کے بارے میں غلط سے غلط بات بھی درست تھی۔

بلکہ بعض معرکے کی ” غلط باتوں کا“ تو ہمیں ابھی علم ہی نہ تھا۔
تین بجے دوسرا سانحہ پیش آگیا۔ آپ لیکچر دینے آئے تو لیکچر نہ دے سکے چشمہ جب سے نکالا‘ چڑھایا اتارا گھمایا۔ تین مرتبہ عمل کیا‘ تین چارزادیوں سے لوگوں کو دیکھا اورپھر جیسے ایک دم گھبراگئے۔ ماتھے پر پسینے کو بوندیں ابھرآئیں اورتیر کی طرح کانفرنس روم سے نکل گئے۔

جاتے جاتے مجھ سے کہہ گئے۔
یہ توناقابل برداشت ہے۔ آپ آئیے!
دفتر میں فرمایا۔
وہ لمبی داڑھی والا آدمی کون تھا؟
وہ جو پہلی قطار میں کرسی پر بیٹھے تھے؟
کرسی ورسی تووہاں کہا ں تھی داڑھی ہی داڑھی تھی‘ مگرہاں وہی“
جناب وہ ہمارے دفتر کے سینیئر سپر نٹنڈنٹ مولوی نوشاد علی ہیں“
تو گویا داڑھی بھی سینیارنی کے حساب ہی سے چھوڑ رکھی ہے۔


جناب مذہبی شعائرو احساسات کے بارے میں․․․․․“
اوہو ہم سمجھ گئے․․․․․ مگر ان کی ناک بھی تو بڑی واہیات ہے“
میں ہنس پڑا۔
تم ہنس رہے ہو“
یہ رونے کامقام ہے․․․․․․ ناک ہی سے قوموں کی فراست اور عظمت کااندازہ کیا جاسکتا ہے۔
” جی “
یہ فلسفے کا ایک طے شدہ اصول ہے․․․․․․ کیا آپ نے فلسفہ پڑھا ہے۔


” جی نہیں“
تاریخ؟
میں نے تاریخ ہی میں ایم ۔ اے کیاہے۔
گویا تاریخ بھی نہیں پڑھی۔ ایم ۔ اے تک تاریخ نہیں‘ تاریخ کاکیلنڈر پڑھایاجاتا ہے۔ میں فلسفہ تاریخ کی بات کررہا ہوں‘ جو بہت بعد کی چیز ہے بلکہ خود انسان کے اندر کی چیز ہے“
” جی“
بہرحال ناک انسانی کردار کابنیادی پتھر ہے۔
سیدھی ناک والی قومیں ہمیشہ فاتح ہوتی ہیں“
” جی“
اور اوپر کواٹھی ہوئی ناک والی قومیں ہمیشہ اوپر کوجاتی ہیں“
” بجا“
چپٹی ناک بھی بری نہیں ہوتی۔

بلکہ جب تک ایک حد میں رہتی ہیں تفکرپیداکرتی ہیں“
” جیسے چینیوں کی ناک“
” بالکل“ میرا عقیدہ ہے کہ اگر کنفیوشس‘ چین میں نہ پیدا ہوتا تو شاید پیدا ہی نہ ہوتا․․․․․ آج کل ان کی ناک کچھ زیادہ پھیل گئی ہے تاہم وہ بھی پھیل ہی رہے ہیں۔
” تم دیکھ لو“
درست ارشاد فرمایا“
مگر یہ نیچے کی طرف کو مڑی ہوئی ناک پھوہڑپن اوررنگوں ساری کاسمبل ہے․․․․․․ تم ان مولوی صاحب سے کہہ دو کہ اپنی ناک سیدھی کرلیں“
ناک سیدھی کرلیں؟میں نے اپنی ناک پررومال پھیرتے ہوئے پوچھا۔


ہاں ہاں بھی ناک․․․․․ سیدھی․․․․ بالکل سکندر یونان کی طرح․․․․ یابے شک کچھ اوپر کو اٹھالیں۔
حضور ناک کو․․․․․“
یاتھوڑی سی چوڑی کرلیں“
” جی ! جی! “
کچھ کرلیں․․․․․ مگر یہ قوس بنائی ہوئی اور گھوم پھر کر منہ میں داخل ہوتی ہوئی ناک ․․․․․ لاحق ولاقوة ․․․․ سخت ناقابل برداشت چیز ہے“
” جی“
یہ ناک نہیں دونالی بندوق ہے․․․․ آدمی ہی کے لیے نہیں آدمیت کے لیے بھی“
تم نے دیکھا نہیں کہ میں اس نامعقول چیز کودیکھ کربول ہی نہ سکا․․․․․ حالانکہ مجھے بہت کچھ کہناتھا․․․․کل ہم سٹاف کو پھر ایڈریس کریں گے“
مگر حضور․․․․“
مگر وہ کر کچھ نہیں ‘ لوگوں سے کہہ دو کہ ناک درست کرکے آئیں۔

ہم اونچی اور سیدھی ناک مانگتے ہیں ایک سرے سے دوسرے تک․․․․․ سمجھ گئے!
لیکن جناب․․․․․․ ہمارے دفتر میں تو میرا مطلب ہے کہ بدقسمتی سے بہت سی ناکیں․․․․․؟
”یعنی نیچے کوجھکی ہوئی ہیں“
”کچھ ایسا ہی اتفاق ہے جناب“
”اور گھومتی ہوئی بھی؟
” جی جی کچھ ایسی ہی“
” جی جناب“
خاموش․․․․․ دیوان صاحب یکبارگی گرج اٹھے․․․․․․ ہم یہ سب کچھ نہیں سن سکتے․․․․․ چلے جاؤ یہاں سے ہم پاگل ہوجائیں گے․․․․․․․ اور وہ صبح کی طرح سوچ کے ایک گہرے طویل غوطے میں ڈوب گئے۔


سٹاف کو جب یہ ماجرا معلوم ہوا تو لوگ ناک پکڑکر بیٹھ گئے․․․․․․ گنتی کی چند ناکیں سیدھی ہوں تو ہوں ورنہ ہر ایک ناک میں کوئی نہ کوئی نقص ضرور تھا‘ ہر شخص کو ڈرتھا کہ ناک رکھتے ہیں تو ملازمت جاتی ہے۔ لیکن قدرت کولوگوں کی آزمائش شاید منظور نہ تھی۔ دوسرے دن دفتر میں آنے کے بجائے دیوان صاحب نے اپنا استعفیٰ دفتر میں بھیج دیا جس میں لکھا تھا۔
فولاد کے ستون بنانے سے پہلے لوگوں کی ناک بناؤ!“

Your Thoughts and Comments