Doo Mulaoo Me Murghi Haram

دو ملاؤں میں مرغی حرام!

بدھ دسمبر

Doo Mulaoo Me Murghi Haram
دو ملاؤں میں مرغی حرام!
ہزارہ کے ایک عالم مولانا عبدالرحیم ہزاروی نے اداکارہ ریما سے شادی کرنے کے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔ مولانا نے کہا کہ مسجد میں طالب علموں کو پڑھانے اور دیگر امور کے صرف آٹھ سوروپے ماہوار ملتے ہیں جس سے میرا پنا گزارہ مشکل ہے‘ اگر ریما سے میری شادی ہوگئی تو اس کی آمدنی میری پوری زندگی کے لیے کافی ہوگی۔

مالانا نے کہا اگر لوگ مجھے پاگل کہیں تو بے شک کہیں، میں بہر حال ریما سے شادی کروں گا بلکہ کسی اور مولوی نے اگر میرا نکاح نہ پڑھایا تو میں خود اپنا نکاح پڑھوں گا۔ میرا یہ مشن ضرور کامیاب ہوگا اور شاید میں بھی فلمی دنیا کا ہیرو بن جاؤں۔ پہلی بیوی کو چار سال پہلے طلاق دے چکا ہوں کیونکہ وہ کالی تھی۔ آئندہ طلاق کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ میری آئندہ بیوی ریما ہوگی!“ میں نے مولانہ کا یہ اخباری بیان بڑی دلچسپی سے پڑھا اور شرعی حوالے سے اس کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کیونکہ بیان کسی عام آدمی کا نہیں ، اخباری اطلاع کے مطابق ایک ممتاز مذہبی گھرانے کے عالم دین چشم چراغ ہے۔

(جاری ہے)

شریعت کی روسے مرد کودوسری شادی کی اجازت ہے اور یوں مولانا عبدالرحیم ہزاروی کی دوسری شادی کی خواہش کو غیر شرعی بہر حال قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کسی اداکارہ سے بھی شادی کرنے میں کوئی ہرج نہیں، اس پر اگر اعتراض ہوسکتا ہے تو معاشرے کو ہوسکتا ہے شریعت کو نہیں کہ شریعت کی روسے تو کسی غیر مسلم اہل کتاب خاتون سے بھی شادی جائز ہے البتہ مولانا نے ریما کی آمدنی پر جو نظر رکھی ہے، اس سے ان کی نیت کے خلل کا اندازہ ہوتا ہے، ایک تو شرعاََ بیوی اپنی محنت کی کمائی کی خود مالک ہے اور دوسرے مولانا نے اپنی متوقع بیوی کی آمدنی کا ذکر کرکے اپنے اصل عزائم سے پردہ اٹھا دیا ہے چنانچہ لگتا ہے مولانا کاارادہ نکاح کا نہیں، کاروبار کا ہے تاہم میرا یہ بیان غلط بھی ہوسکتا ہے کیونکہ شادی کے بعد میاں بیوی میں اگر ”من توشدی“ والی محبت ہوجاتی ہے تو پھر میاں یا بیوی کی کوئی چیز بھی اپنی نہیں رہتی بلکہ مشترکہ ملکیت بن جاتی ہے اور میرا خیال ہے کہ مولانا عبدالرحیم ہزاروی کے ذہن میں شاید یہی بات ہے کہ جس کی بنا پر انہوں نے متذکرہ بیان دیا ہے! میں ابھی تک عبدالرحیم ہزاروی صاحب کو بے دریغ”مولانا“ لکھتا جارہا ہوں ، یہ تحقیق کئے بغیر کہ وہ مولانا ہیں بھی یا نہیں۔

کیونکہ اخبار والے تو محض خوش وقتی کے لئے بسا اوقات بات کا بتنگڑ بنا دیتے ہیں۔ ویسے مجھے ذاتی طور پر ہزاروی صاحب کے مولانا ہونے میں شبہ ہے۔ زیادہ سے زیادہ ہوگا کہ موصوف نے داڑھی رکھی ہوگی اور بچوں کو قرآن پڑھاتے ہوں گے اور ذہنی طور پر تھوڑے بہت ہلے بھی ہوں گے۔ یہ بات میں اس لیے نہیں کہہ رہا کہ ہمارے مولوی حضرات پارسائی اور تقوے کے کوہ ہمالیہ ہیں اور وہ ریماپر عاشق نہیں ہوسکتے بلکہ میرے نزدیک وہ صرف اس کا اظہار نہیں کرسکتے۔

جو کام لوگوں کی نظروں میں چھپ کرکئے جائیں اور جو کھلم کھلا کئے جائیں، ان میں زمین آسمان کا فرق ہے چنانچہ کسی مولوی سے اس بات کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنی مرضی سے خود کو پبلک کے سامنے ایکسپوز کردے۔” مولانا “ عبدالرحیم ہزاروی نے اگر ایسا کیا ہے تو وہ مولانا نہیں ہیں بلکہ سادہ لوح ہیں بچوں کو رنگین فلمی ایڈیشن سے محفوظ رکھنے کے لیے اسے سرہانے کے نیچے چھپا کررکھا جاتا ہے ۔

اس سے ایک تو بچوں کا اخلاق خراب نہیں ہوتا اور دوسرے رات کو تخلیہ میں پورے پاکستان سکون سے اس کا مطالعہ بھی ممکن ہے۔ بہرحال صورت حال جو بھی ہے مولانا عبدالرحیم ہزاروی کو میرا مشورہ ہے کہ ان کا جذبہ صادق سہی، لیکن شادی بیاہ کے معاملات اخبار میں طے نہیں ہوا کرتے بلکہ اس کے لیے تھرو پراپر چینل جانا پڑتا ہے۔ چنانچہ مولانا کو چاہیے کہ وہ اداکارہ ریما کی والدہ سے رابطہ قائم کریں یا براہ راست ریما کی منشاء دریافت کریں، اگر انہیں ان مراحل میں کامیابی ہوتو انہیں احتیاطاََ گوجر خان کے مولانا صدیقی سے بھی مذاکرات کرلینے چاہیے کہ ایک اخباری اطلاع کے مطابق وہ بھی ریما کے دعویدار ہیں اور یوں خدشہ ہے کہ کہیں دو ملاؤں کے درمیان مرغی حرام نہ ہوجائے۔

اسی طرح اگر مولانا مزید احتیاط کرنے کی پوزیشن میں ہوں تو بہتر ہوگا جام معشوق علی سے بھی رابطہ کریں۔ جام معشوق علی جس سخی باپ کے فرزند ہیں کوئی پتہ نہیں اس کا دل ”مولانا“ کی حالت دیکھ کر پسیج جائے اور وہ ان کے لیے کوئی بڑی سے بڑی قربانی دینے پر تیار ہوجائیں۔

Your Thoughts and Comments