Dr.muhammad Younas Butt

ڈاکٹر محمد یونس بٹ

مبین رشید جمعرات جنوری

ڈاکٹر محمد یونس بٹ ۱۹۶۲ء۔حیات ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی ایک بات جو مجھے پسند ہے وہ اس کا ہر وقت ہنستے رہنا ہے، ورنہ کچھ طنز و مزاح نگار ایسے ہیں جن پر لوگ ہنستے ہیں۔ یونس بٹ اس رجعت قہقری سے شاید اسی لیے محفوظ ہے کہ اس کے دل میں لوگوں کے لئے محبت ہے۔ جب وہ کسی کا خاکہ اڑاتا ہے تو اس کی اصلی کمزوریوں کو نظر انداز کر دیتا ہے اور جان بوجھ کر ایسی کمزوریوں کو نشانہ بناتا ہے جو اس شخصیت میں ہوتی ہی نہیں بلکہ محض اچھے جملے ہوتے ہیں جن کا صرف لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔

چنانچہ کسی کے برا ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اگر آپ افضال چٹے کو” کالیا“ کہیں گے تووہ اس کا برا کیوں مانے گا لیکن اگر آپ دلدار پرویز بھٹی کو ”چٹا “ کہہ کر پکار یں گے تو وہ آپ کی آنکھ کالی کر دے گا۔

(جاری ہے)

یوں میں یونس بٹ کے خاکوں کو بھی طنز و مزاح گردانتا ہوں اور جہاں تک خالص طنز و مزاح کا تعلق ہے یونس بٹ اس دور کے مزاح نگاروں میں بلاشبہ ایک ممتاز مقام پر کھڑا ہے۔

سب سے بڑی بات یہ کہ وہ ایک منفرد اسلوب کا حامل ہے جس کے لئے اردو کا مزاحیہ ادب اس کا شکر گزار ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اتنی خوبصورت نثر لکھنے والے روز روز پیدا نہیں ہوتے اور پیدا ہونے بھی نہیں چاہئیں ورنہ لغات میں سے قحط الرجال کا لفظ خارج کرنا پڑے گا۔ (عطاء الحق قاسمی) سوانحی اشارے ڈاکٹر محمد یونس بٹ۴ جنوری ۱۹۶۲ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔

میٹرک گوجرانوالہ سے کیا۔ پھر اسلامیہ کالج سول لائنز لاہور سے ایف ایس سی کرنے کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں داخل ہوئے۔ ۱۹۸۵ء میں ایم بی بی ایس کرنے کے بعد میوہسپتال میں شعبہ نفسیات سے اپنے میڈیکل کیرےئر کا آغاز کیا۔ ۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۲ء تک آپ شیخ زید ہسپتال میں تعینات رہے۔ آج کل مختلف ٹی وی چینلز کے لئے آپ مزاحیہ ڈرامے لکھ رہے ہیں۔ آپ کا شمار اردو کے چند بڑے مزاح نگاروں میں ہوتا ہے۔

Your Thoughts and Comments