Ek Dard Nak Latifa

ایک درد ناک لطیفہ

جمعرات فروری

Ek Dard Nak Latifa

عطا ءالحق قاسمی:
کسی سرکس کامالک یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اس نے نوجوان کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا سرکس میں کام کرگے؟نوجوان نے پوچھا کام کیا ہے؟مالک نے کہا یہی جو تم ابھی کررہے تھے نوجوان نے حامی بھرلی چنانچہ اس نے جب پہلے شو میں اس خوراک دشمنی کا مظاہرہ کیا حاضرین نے تالیاں بجا بجا کر آسمان سر پر اٹھالیا سرکس کا مالک خوشی سے ہانپتا ہوا اس کے پاس آیا اور بولا نوجوان اگر تم دوسرے شو میں بھی اپنے اس فن کا مظاہرہ کرو تو میرے اور تمہارے وارے نیارے ہوجائیں گے کیونکہ سارے شہر میں تمہاری دھوم مچی ہوئی ہے اور لوگ ٹکٹ خریدنے کے لیے امڈ آرہے ہیں نوجوان نے کہا ٹھیک ہے تم خوراک کا انتظام کرو چنانچہ دوسرے شو میں بھی اس نے چھ پلیٹ مرغی چار پلیٹ دال آٹھ پلیٹ سبزی پانچ پلیٹ قورمہ ایک ڈش پلاﺅ اور پچاس روٹیاں چشم زون میں صاف کرڈالیں جس پر پنڈال ایک بار پھر تالیوں سے گونج اٹھا سرکس کا مالک شو کے اختتام پر اس کے پاس آیا اور کہا نوجوان اگر میری مانو تو تم تیسرا شو بھی کرڈالو کہ کارباری لوگ دکانیں بند کرکے اب فارغ ہوئے ہیں انہوں نے تمہارے فن کے مظاہرے کی دھوم سنی ہے اور وہ سب سرکس کا رخ کررہے ہیں میں تمہاری فیس چار گناہ کردوں گاتم تیسرا شو ضرور کرو یہ سن کر نوجوان نے کاندھے سکوڑے اورکہا معافی چاہتا ہوں جناب اب میں مزید کوئی شو نہیں کروں گا آخر گھر جاکر کھانا دانا بھی تو کھانا ہے!میں نے اپنے دوست کو یہ لطیفہ سنایا تو وہ ہنسنے کی بجائے یہ لطیفہ سن کر رنجیدہ ہوگیا میں نے کہا برادر م تم نے لطیفہ کے ساتھ خواتین والا سلوک کیوں کیا؟بولا جسے تم لطیفہ کہہ رہے ہوں یہ ہماری قوم کا سانحہ ہے میںنے کہا وہ کیسے؟بولا گزشتہ کئی حکومتیں اسی طرح برسرعام کھاتی رہی ہیں اور عوام ان کا ہاتھ پکڑنے کی بجائے ان جلسوں میں تالیاں بجاتے رہے ہیں چنانچہ یہ لوگ کھاپی کر فارغ ہوتے ہیں تو آرام سے امریکہ یا یورپ میں واقع اپنے گھر میں چلے جاتے ہیں اور زندگی کے بقیہ دن پورے سکون سے گزارتے ہیںمیں نے کہا تف ہے تم پر تم نے لطیفے کا مزا ہی کرکرا کردیا اپنے اس دوست سے دل برداشتہ ہوکر میں نے یہی لطیفہ اپنے ایک صحافی دوست کو سنایا تو پورا لطیفہ اس نے نہایت دلچسپی سے سنااور لطیفے کے اختتام پر اسی محویت کے عالم میں پوچھا جب بسیار خور نے تیسرا شوکر نے سے انکار کیا اور کہا کہ اس نے ابھی گھر جاکر کھانا وانا بھی کھانا ہے تو پھر کیا ہوا؟میں نے اپنے سر کے بال نوچتے ہوئے کہا تم پر خدا کی لعنت ہو تم یہ کیوں پوچھ رہے ہو؟صحافی دوست نے کہا میں پوچھ نہیں رہا اس شخص کی حماقت پر افسوس کررہا ہوں اگر وہ تیسرے شو میں بھی کھانے پینے کا مظاہرہ کرلیتا تو کیا ہرج تھا کہ اس نے گھر جاکر کچھ کھانا تھا وہ توپلے سے ہی کھانا تھا میرے ایک علامہ صاحب دوست ہیں جو بہت خوش ذوق اور لطیفہ شاش ہیں میں اپنے لطیفے کی اس قدر بے حرمتی برداشت نہ کر سکا چنانچہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا مگر لطیفہ سن کر علامہ صاحب کے چہرے پر تشویش کے آثار نمایاں ہوئے اور ایک لمحے کے توقف کے بعد فرمایا ماشاءاللہ کیسا جی دار نوجوان ہے اللہ تعالیٰ اسے بدنظر سے بچائے اور اسے اپنے حفظ و امان میں رکھے پھر وہ اٹھ کر برابر والے کمرے میں گئے اورایک شیشی میرے ہاتھ میں تھمائے ہوئے کہا یہ چورن میں نے بطور خاص اپنے لئے تیار کرایاہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس پر جی دار نوجوان کا بھی حق ہے یہ آپ اسے میری طرف سے بطور ہدیہ پیش کریں میں دانت کچکچاتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھا اور جب دروازے کے قریب پہنچا تو علامہ صاحب میرے پاس آئے اور سرگوشی کے انداز میں کہا آپ ذرا پتہ کریں وہ سرکس والا ایک شوکا کتنا معاوضہ ادا کرتا نیز یہ کہ کیا مینو میں اپنی مرضی کے مطابق ردوبدل ہوسکتا ہے اب میرے لیے یہ لطیفہ ایک چیلنج کی حیثیت اختیار کرگیا تھا چنانچہ میں نے تہیہ کرلیا جب تک کوئی اس پر ہنسے گا نہیں چین سے نہیں بیٹھوں گا لہٰذا میں گھر سے نکل کر سڑک کے کنارے ایک درخت کے نیچے کھڑا ہوگیا ایک شخص موٹر سائیکل پر اپنے تین بچوں اور ایک بیوی کو بٹھائے گزررہا تھا میں نے اسے ہاتھ دیا اس نے میرے قریب پہنچ کر موٹر سائیکل روک دی میں نے کہا جناب آپ کو ایک لطیفہ سنانا ہے کہ ایک شخص نے بابو ہوٹل میں چھ پلیٹ مرغی چار پلیٹ دال آٹھ پلیٹ سبزی۔

(جاری ہے)

۔۔مگر اس نے پورا لطیفہ سنے بغیر موٹر سائیکل کو کک ماری اور جاتے ہوئے بولا میں نے یہ لطیفہ سنا ہوا ہے یہ تمہیں لوگوں کا کمال ہے کہ اس قسم کی باتوں کو لطیفہ بنا کر پیش کرتے ہو اس کے جانے کے بعد میں نے کتنے ہی راہ چلتے لوگوں کو یہ لطیفہ سنانے کی کوشش کی مگر ہر بار مجھے افسو س ہوا کہ یہ قوم حس مزاح سے محروم ہوگئی ہے چنانچہ آخری حربت کے طور پر میں نے ایک فاقہ مست قسم کے شخص کو روکا جس کے چہرے پر بھوک اگ رہی تھی مگر لطیفہ سن کر ہنسنے کی بجائے اس کے منہ میں پانی بھر آیا اس پر مجھے شدید غصہ آیا اور میں نے کہا کیا اتنے مزیدار لطیفہ پر تم ہنس نہیں سکتے؟بولا ہنس سکتا ہوں میں نے کہا وہ کیسے ؟بولا آپ مجھے سامنے والے تندور سے ایک پلیٹ دال اور دو روٹیاں لے دیں اس کے بعد اگلے کھانے تک ہنستارہوں گاجب میں نے محسوس کیا کہ اس لطیفے پر کوئی بھی نہیں ہنس رہا میں خود سوچ میں پڑگیا چنانچہ اس دفعہ یہ لطیفہ میں نے اپنے آپ کو سنایا اور تہیہ کرلیا کہ خواہ مجھے کوئی پاگل سمجھے مگر میں اس پر اکیلا ہی قہقہہ لگالوں گا لیکن ہوا یوں کہ لطیفہ سننے کے بعد میں نے خود کو ایک دو ہٹتر رسید کیا اور کہا یہ کوئی لطیفہ ہے؟یہ تو حرام خوروں کا پراپیگنڈہ ہے چنانچہ میں نے اسی وقت انٹی کرپشن کے محکمے کا رخ کیا اور اپنے ایک دوست کو یہ لطیفہ سنانے کے بعد اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی درخواست کی میں نے دوست سے کہا کہ جس شخص کی ایک وقت کی خوراک کم از کم پانچ سو روپے کی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پندرہ سوروپے روزانہ اور پینتالیس ہزار روپے ماہانہ کا صرف کھانا کھاتا ہے لہٰذا اس کے ذرائع آمدن کی تحقیقات ہونی چاہیے دوست نے کہا بالکل ٹھیک ہے تم مجھے اس شخص کا ایڈریس بتاﺅ پھر وہ دوست مجھے دفتر کے دروازے تک چھوڑنے آیا اور آہستہ آہستہ سے میرے کان میں کہا اس طرح کے کوئی اور کیس بھی تمہارے علم میں آئیں تو مجھے مطلع کردیا کرو ہم دونوں بھائی ففٹی ففٹی کرلیا کریں گے!“

Your Thoughts and Comments