Ganjay Garanmaya

گنجے گرانمایہ

بدھ اگست

Ganjay Garanmaya
ڈاکٹر یونس بٹ :
وہ ادب کے گنجے گرانمایہ میں سے ہے۔ اس کا سراوپر سے خالی ہے حالانکہ ہمارے ہاں شعراء کااندر سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے پاس سنوارنے کو بال نہیں توکیا ہوا دھونے کو منہ تو بہت ہے۔
بات بات پر لطیفہ سناتا ہے جس دن محفل میں سنجیدہ ہودوستوں کو اس کی صحت کی فکر ہونے لگتی ہے۔ لطیفہ سنانے سے پہلے ہی سننے والوں کو ہنسالے گا کہ بعد میں کیا پتہ کوئی ہنسے یانہ ہنسے چپ رہنا اس کے لیے مشکل ہے حالانکہ یہ تو اتنا آسان ہے کہ اس کے لیے زبان تک نہیں ہلانا پڑتی۔

امجد اسلام کو امجدبات کر رہا ہو تو کسی کا لحاظ نہیں کرتا جب لحاظ کر رہاہوتو بات نہیں کرتا۔ برے کی بات سن لیتا ہے مگر بری بات نہیں سنتا۔ اگر بری بات سننا چاہے تو بولنے لگتا ہے۔

(جاری ہے)

زمانہ طالب علمی میں بھی اس کے موسلادھار بولنے کی وجہ سے استاد اسے اٹھا کر سٹیج پر بٹھا دیتا ۔ اب اتنا بڑا ہوگیا ہے مگر تقریبات میں آج بھی اسے اٹھا کر سٹیج پر بٹھا دیتے ہیں اس کے بارے میں وہ لوگ بھی اچھی رائے رکھتے ہیں جو اسے ایک بار بھی نہیں ملے۔

شاید اچھی رائے کی وجہ بھی یہی ہو۔
باتوں باتوں میں خوبصورت عورتوں کو شیشے میں اتار لیتا ہے مگر خود ان کی موجودگی میں زیادہ سے زیادہ جرابیں ہی اتار سکتا ہے۔ عورتوں کو ملنے سے پہلے جہاں دوسرے بال‘ ٹائیاں اور چشمے ٹھیک کررہے ہوتے ہیں یہ نیت ٹھیک کررہا ہوتا ہے۔ اس نے جو چاہا وہ حاصل کیا بلکہ جو حاصل کیا وہی چاہا۔
امجد ہر کام میں اپنے بہن بھائیوں میں اول رہا وہ توپیدا ہونے کے معاملے میں بھی اول آیا۔

اس کا گھرانہ ایسامذہبی تھا کہ خواتین اردو شعروں سے بھی پردہ کرتیں ‘ مگر اس نے اس کو ذریعہ عزت بنایا جسے غالب نے بھی ذریعہ اظہار ہی بنایا تھا۔ سارے کام اپنی مرضی سے کرتا ہے۔ اس نے توشادی بھی اپنی مرضی سے کی حالانکہ ہمارے ہاں بندے کو اپنی مرضی سے شادی کرنے کا موقع اس وقت ملتا ہے جب وہ اپنی اولاد کی شادی کرتا ہے۔ ویسے ہمارے ہاں شادی کے بعد مرد خود کواور عورت اپنی قمیضوں کو تنگ محسوس کرتی ہے‘ مگرا مجد شادی شدہ ہو کر بھی گھر میں زیادہ رہتا ہے۔

جس سے یہی لگتا ہے کہ اسے شادی شدہ عورتیں بہت پسند ہیں۔
پہلے لمبرپٹا سکوٹر پر سوار پھراکرتا تھا‘ جس پر سفر کرنا دراصل پیدل چلنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہی ہوتا تھا اور اس کا جڑواں دوست عطاء الحق قاسمی جہاں کوئی بارات دیکھتے اس میں شامل ہوجاتے جس سے کسی اور کوکوئی فرق پڑتا نہ پڑتا بارات کے ساتھ آنے والے بھانڈوں کی آمدنی آدھی رہ جاتی۔

یہ دونوں دولہے کے پاس جاکر اسے کہتے اچھا موقع ہے اب بھی انکار کردو‘ مگر امجد کی شادی ہوئی توعطا نے کہا تھا اچھا موقع ہے چپ کرکے بیٹھے رہو۔ اگرچہ اب دونوں عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں بری بات بری لگنے لگتی ہے ‘ مگر اب بھی جہاں اکٹھے ہوں وہاں لوگ اکٹھے ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ وہ وہ باتیں کرتے ہیں کہ سننے والا ٹین ایجرہوتو اسے ٹھنڈے پانی کی پیٹاں کرنا پڑتی ہیں۔


اخبار پڑھتا نہیں دیکھتا ہے اور لوگوں کو دیکھتا نہیں پڑھتا ہے۔ ایک ہی ملاقات میں اس قدر بے تکلف ہوجاتا ہے کہ دوسرا گھبرانے لگتا ہے کہ کہیں قرض ہی نہ مانگ لے۔ دوسروں کی باتیں اس توجہ اور پیار سے سنتا ہے جیسے بچوں کی سن رہاہو۔ سمجھتا بھی یہی ہے۔ کرکٹ پسند ہے بہت اچھی باؤلنگ کراتا ہے ھو مخالف ٹیم کے لیے بہت اچھی ہوتی ہے محنت سے نہیں گھبراتا بندہ اسے کنگھی کرتا دیکھ لے تو اسے اس بات کایقین ہوجاتا ہے۔


ہمیشہ آٹو گراف بک پرلکھتا ہے۔ جوبھی کچھ ہے محبت کا پھیلاؤ ہے“ اگر آٹو گراف لینے والی خاتون امید سے نہ ہوپھر بھی یہی لکھتا ہے۔ اس کا پسندیدہ رنگ بلیو ہے۔ یہ رنگ ہمیں بھی پسند ہے۔ بشر طیکہ فلم کا ہو۔
کھانا اس وقت ختم کرتا ہے جب کھانا ختم ہوجائے۔ اس علم ہوتا ہے کہ لاہور میں اچھا کھانا کہاں سے ملتا ہے اور لوگ اس کے علم سے استفادہ کرتے ہیں۔

اسی لیے جب کوئی نیاریستوران کھلتا ہے تو وہ اسے بتا کر سمجھتے ہیں کہ آدھے شہر کو بتادیا۔ اسے کھلا کر بھی یہی سمجھتے ہیں۔ پیٹ بھر کرکھائے نہ کھائے پلیٹ بھر کر ضرور کھائے گا۔
امجد اسلام پہلے ” مختصر“ تخلص کرتا تھااور جب کسی مشاعرے میں پڑھتا مختصر کی آوازیں آتیں۔ اب تو وہ امجد ہوگیا ہے۔ شاعری اور ڈرامے نے اسے عزت نہیں دی اس نے انہیں عزت دی ہے۔
اس کے اس قدر دوست ہیں کہ اسے پتا نہیں کون کون اس کا دوست ہے۔ دوستوں کی اس کے بارے میں بھی یہی رائے ہے۔ امجد ہر لحاظ سے ایک مکمل انسان ہے یعنی اس میں وہ تمام صلاحتیں موجود ہیں جو انسان کو فرشتہ بننے سے روکے ہوئے ہیں۔

Your Thoughts and Comments