Gegree Bari Naimt Hy

ڈگریاں بڑی نعمت ہیں

جمعہ دسمبر

Gegree Bari Naimt Hy
ابنِ انشاء:
لاہور کے ایک اخبار میں ایک وکیل صاحب کے متعلق یہ خبر مشتہر ہوئی ہے کہ کوئی ظالم ان کا سرمایہ علم و فضل اور دولت صبروبرقرا اور آلات کاربار لوٹ گیا ہے۔تفصیل مال مسروقہ کی یہ ہے ایک ڈگری بی۔اے کی۔ایک ایل ایل بی کی۔ایک کیریکٹر سرٹیفیکیٹ بدیں مضمون کہ حامل سرٹیفیکیٹ ہذا کبھی جیل نہیں گیا اس پر ہر قسم کے مقدمے چلے لیکن یہ ہمیشہ بری ہوا۔

الماری کا تالا توڑ کر یہ سرٹیفیکیٹ لے گئے ہوں یا یہ سہواًخوداُن کے پاس چلے گئے ہوں وہ براہِ کرم واپس کردیں ان کو کچھ نہیں کہا جائے گا،اگر کوئی اور صاحب اس نابکار چور کو پکڑ کرلائیں تو خرچہ آمدورفت بھی پیش کیا جائے گا حلیہ یہ ہے چور کا نہیں سرٹیفکیٹوں کا کہ ان پر بندے کا نام لکھا ہے۔

(جاری ہے)

گلشن علی سمر قندی سابق سوداگر شکر قندی۔قمیم گوالمنڈی بعض کم فہم ظاہر بین کہیں گے کہ ڈگری سے کیا ہوتا ہے وکیل صاحب شوق سے کاروبار جاری رکھیں۔

وکالت علم وعقل بلکہ زبان سے کی جاتی ہے ڈگری کوئی تعویذ تھوڑا ہی ہے کہ جس کے بازو پر باندھا وہ گونگا بھی ہے تو پٹ پٹ بولنے لگا فصاحت کے بتاشے گھولنے لگا لیکن ہماری سینے تو ڈگری اور عہد ہ دونوں کام چیزیں ہیں۔بلکہ علم اور لیاقت کا نعم البدل ہیں،آناں راکہ وایں وہند۔آں نہ دہند۔آپ نے منصب دار لوگوں کو دیکھا ہوگا۔کہ بظاہر بے علم معلوم ہوتے ہیں لیکن وقت آنے پر ادب اور آرٹ کے اسرور موز پر ایسی مدبرانہ گفتگو کرتے ہیں وانا اندر آن حیراں یماند جتنا بڑا عہد ہ دار ہوگا۔

اتنی ہی اونچی بات کرے گا نیچے والوں کی خاطر میں نہ لائے گا ڈگری کو بھی ہم نے اس طرح لوگوں کے سر چڑھ کر بولتے دیکھا ایک ہمارے مہربان ہیں اردوزبان و ادب کے پروفیسر ایک روز دست نگر کو دست نگر پڑھ رہے تھے اور استفادہ حاصل کرنا بول رہے تھے ہم نے بڑے ادب سے ٹوکا، لیکن وہ بکھر گئے اور پوچھنے لگے کتنا پڑھے لکھے ہو تم؟ہم نے کہا کچھ بھی نہیں بس حروف شناس ہیں ۔

الف بے آتی ہیں بیس تک گن بھی لیتے ہیں اس پر وہ اندر سے دو فریم شدہ چوکھٹے اُٹھالائے،،،،ان پر ایک ڈگری ایم اے کی تھی دوسری پی ایچ ڈی کی۔بولے اب کہوتمہارا کہاں سند ہے یا ہمارا فرمایا ہوا اس دن پہلی بار ہمیں اپنی غلطی معلوم ہوئی ،اب ہم بھی ریڈیو اور ٹیلی ویژن والوں کی طرح دست نگر چشم دید دم زدن اور استفادہ حاصل کرتے ہی بولتے اور لکھتے ہیں۔

ڈگری اور سرٹیفیکٹ کا چلن پرانے زمانے میں اتنا نہ تھا جیسا آج کل ہے۔اس زمانے کے لوگ بیمار بھی سرٹیفیکٹ کے بغیر ہوجایا کرتے تھے اور بعض اوقات توشدت سے مرض سے مر بھی جایا کرتے تھے اب کسی کی علالت کو خواہ سامنے پرا ایڑیاں رگڑرہا ہو بلا سرٹیفیکٹ کے ماننا قانون کے خلاف ہے پرانے زمانے میں لوگوں کے اخلاق بھی بلا سرٹیفیکٹ کے شائستہ ہوا کرتے تھے اب جس کے پاس کیریکٹر سرٹیفیکٹ نہیں سمجھو کہ اس کا کچھ اخلاق نہیں اس کی نیک چلنی مشتبہ اب تو مرنے جینے کا انحصار بھی سرٹیفیکٹ پر ہے،سانس کی آمدوشد پر نہیں آپ نے اس شخص کا قصہ سنا ہوگا جو خزانے سے پنشن لینے گیا تھا جون کی پنشن تو اُسے مل گئی کیونکہ اُس ماہ کے متعلق اس کے پاس بقید حیات ہونے کا سرٹیفیکٹ تھا لیکن مئی کی پنشن روک لی گئی کہ جب مئی میں زندہ ہونے کا سرٹیفیکٹ لاؤ گے تب ادا کی جائے گی۔

اصول اصول ہے۔اس منطق سے تھوڑا ہی تو جاسکتا ہے کہ جو شخص جون میں زندہ ہے اس کے مئی میں بھی زندہ ہونے کا غالب امکان ہے باقاعدہ سرٹیفیکٹ ہونا چاہیے۔عشق کاریست کہ بے آہ و فغان نیز کند۔۔وکیلوں کے لیے بے شک ڈگری کی پابندی ہے۔اس لیے وہ ڈگریاں چوری ہوجانے پر پریشان اور بے بس ہوجاتے ہیں۔ لیکن مریخوں اورگواہوں کو ان کے بغیر ہی ایسی لیاقت پید ا کرتے دیکھا ہے کہ ڈگری والا تری قدرت کا تماشا دیکھے آپ نے ان میر صاحب کا ذکر سنا ہے جو ہاتھ میں چھڑی لئے پھندنے دار ٹوپی پہنے بغل میں بستہ مارے کچہری کے احاطے میں گھومتے رہتے تھے کہ اگر لکھوائے کوئی ان کو خط تو ہم سے لکھوائے یعنی،،،،،،،، مناسب معاوضے پر گواہی دے کر حاجت مندوں کے آڑے وقت کام آتے تھے ایک روز کی بات ہے کوئی جائداد کا مقدمہ عدالت میں تھا۔

مدعی کا وکیل تیار نہ تھا اُسے پوری امید تھی کہ آتے ہی تاریخ لے لے گا لیکن مجسٹریٹ نے جانے کیوں اصرار کیا کہ سماعت آج ہی ہوگی گواہ پیش کیے جائیں ورنہ یک طرفہ ڈگری دیتاہوں وکیل صاحب بوکھلائے ہوئے باہر نکلے کہ میر صاحب دکھائی دیے ان کی جان میں جان آئی فوراً انہیں بازو سے پکڑ کر اندر لے گئے مقدمہ سمجھنے سمجھانے کا تو وقت ہی نہ تھا بس اتنی بھنک کان میں پڑی کہ کوئی خان بہادر رضا علی مرگئے ہیں ان کی جائیداد کا قصہ ہے یہ کون تھے ،،،،،کیا تھے؟جھگڑا کیا ہے کچھ معلوم نہ ہوسکا۔

بہرحال پیش ہوگئے اور حلف اٹھا کٹہرے میں کھڑے ہوگئے وکیل مخالف کو معلوم تھا کہ،،،،یہ بھاڑے کے ٹٹو ہیں ابھی ان کے قدم اُکھاڑدوں گا،،،جرح،،،شروع کردی۔میر صاحب۔آپ خان بہادر رضا علی مرحوم کو جانتے تھے؟میر صاحب نے فرمایا۔اجی جانتا کیا معنی۔۔۔۔دانت کاٹی روٹی تھی بڑی خوبیوں کے آدمی تھے خدا مغفرت کرے ان کی صورت ہمہ وقت آنکھوں کے آگے پھرتی ہے۔

“ کیا عمر تھی ان کی۔؟“بس چالیس اور اسی کے درمیان ہوں گے بدن چور تھے اس لیے صحیح اندازہ آج تک کوئی نہیں لگا سکا۔“ اچھا یہ بتائے کہ وہ لانبے تھے یا ناٹے۔“میر صاحب نے کہا۔”خوب لانبا قد تھا لیکن ازراہ خاکساری جھک کر چلتے تھے اس لیے ناٹے معلوم ہوتے تھے۔وکیل نے دوسرا سوال داغا،،،،ان کی رنگت تو آپ بتاہی سکتے ہیں گورے تھے یا کالے میر صاحب نے کہا خوب سرخ و سفید رنگت تھی لیکن بیماری کے باعث جلد سنولا جاتی تھی تو کالے نظر آنے لگتے تھے۔


وکیل نے ایک اور وار کیا،،،،”یہ بتائیے کہ داڑھی مونچھ رکھتے تھے یا صفا چٹ تھے،میر صاحب ہنسے اور کہا مرحوم کی طبیعت عجب باغ و بہار تھی کبھی جی میں آیا تو مونچھ رکھ لیں،وہ بھی کبھی پتلی،کبھی گچھلے دار،داڑھی بھی چھوڑدیتے تھے خشخشی کبھی یک مشت۔کبھی یہ لمبی ناف تک اور پھر ترنگ آتی تو سب کچھ منڈا صفا چٹ ہوجاتے تھے۔“اچھا داڑھی آپ نے دیکھی ہوگی،سفید ہوتی تھی یا کالی۔

میر صاحب نے کہا ویسے تو سفیدی ہی ہوتی تھی لیکن خضاب لگالیتے تھے تو بالکل کالی نظر آتی تھی۔ان کی طبیعت ایک رنگ پر نہیں تھی وکیل صاحب کہہ دیا نا کہ باغ و بہادر آدمی تھے۔“میر صاحب نے کہا،،،،اچھا یہ فرمائیے کہ ان انتقال کس مرض میں ہوا۔“میر صاحب نے ایک لمبی آہ بھری اور کہا،،رونا تو یہی ہے کہ آخر تک کچھ تحقیق نہ ہوئی ڈاکٹر کچھ کہتے تھے حکیم کچھ مرگ چوآید طبیب ابلہ شود ہم تو یہی کہیں گے کہ ان کو مرض الموت تھا ہائے کیسی نورانی صورت تھی ہمارے خان بہادر صاحب کی ان کی یاد آتی ہے تو سینے میں تیر سالگتا ہے یہ کہہ کر وہ ڈس ڈس رونے بھی لگے۔مجسٹریٹ نے کہا۔اچھا،اب دوسرے مقدمے کی باری ہے اگلی بدھ کو دوسرے گواہان پیس ہون ۔“‘

Your Thoughts and Comments