Ghalat Mahawra Suna Ghneek E Rehmat Ho Gaye

غلط محارہ سُنا اور غریقِ رحمت ہوگئے!

منگل جنوری

Ghalat Mahawra Suna Ghneek E Rehmat Ho Gaye
ابن ِ انشاء:
ہم لوگوں میں تو خیر بھانت بھانت کی بولیاں سنتے سنتے بڑی سمائی آگئی ہے اور میرے کو تیرے کو ہم کہتا ہے چھوٹا والا بڑا والا،،،،سب سن لیتے ہیں،،،،لیکن بعض بزرگ اس معاملے میں اب بھی تانا شاہ ہیں حضرت میر تقی میر کی طرح آدھا بھاڑادے کر تانگے میں کسی بھلے مانس کے شریک سفر ہوگئے تھے اس نے راستے میں خلوص بگھارنے کے لیے علیک سلیک اور بات چیت کا ڈول ڈالنا چاہا یہ بے مزہ ہوکر بولے کہ رخصت چپ بیٹھو شریک سفر ہونے کا مطلب نہیں کہ تم سے بات چیت بھی کریں ہماری زبان خراب ہوتی ہے ایسے لوگ آج کل کم ہیں پھر بھی ایک بزرگ کے متعلق سنا ہے کہ ان کے سامنے کسی کی زبان سے چھاتی پر ماش دلنا یا چنے دلنا نکل گیا جبکہ محاورے میں چھاتی پر صرف مونگ یا کودوں دلنے کا حکم ہے ان بزرگ نے افسوس میں ایک سانس اتنی لمبی کھینچی کہ دم نہ لوٹا بیٹھے بیٹھے غریق رحمت ہوگئے ہاتف نے کھڑے کھڑے تاریخ کہی،،،،یا غریق رحمت ہم نے عدد گنے پورے 1963 اس میں سے شہیدمحاورہ کے عد نکالے تو ہجری تاریخ ہوجاتی ہے مرنا ہو تو ایسا ہو،ہمارے ایک دوست کہ لکھنو کے رہنے والے ہیں ہم سے اکثر آکر شکایت کرتے ہیں کہ جناب ہم تو گھر میں بامحاورہ گفتگو کو ترس گئے ہیں ہماری بیگم ہیں تو اہل زبان مگر تعلیم ان کی سینٹ جوڑف اسکول میں ہوئی ہے ایک روز کسی نے دوران گفتگو ان کے سامنے کہہ دیا کہ میرے تو ہاتھوں کے طوطے اڑگئے یہ اس کو پکڑ کر بیٹھ گئیں کہ کیسے اُڑ گئے کتنے طوطے تھے؟کس رنگ کے تھے؟پھر مل گئے کہ نہیں؟اب ان سوالوں کاجواب خضر کیسے بتائے کیا بتائے؟ایک دن تو غضب ہی ہوگیا ہماری امی بازار سے آئیں اور گرافی کی شکایت کرنے لگیں کہ بازار میں جس چیز کو دیکھو آگ لگ رہی ہے ہماری بیگم کے کانوں میں بھنک تو چونکیں اور اُٹھ کر فائربریگیڈوالوں کو فون کرفیا کہ دوڑو،،،،بازار میں آگ لگ رہی ہے پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہیں ہوئی،بے شک یہ زمانہ زبان وادب کے معاملے میں کم سوادی کا ہے ہمارے ایک دوست کے پاس میٹرک کے اردو کے پرچے آتے ہیں ایک روز ہم نے دیکھا کہ انہیں جانچتے جاتے ہیں اور زاروقطار روتے جاتے ہیں سوال یہ تھا کہ فلاں فلاں محاوروں کو فقروں میں باندھو مثلاً الو سیدھا کرنا لائق طالب علم نے لکھا ایک لڑکے کے پاس ایک لاجواب الو تھا جس کی گردن ٹیڑھی تھی وہ ایک پہلوان کے پاس گیا اور کہا بھاجی میرا الو سیدھا کردو اس نے جوزور لگایا تو گردن ٹوٹ گئی اور الو مرگیا ایک محاورہ تھا دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا اسے یوں سلک ِمضمون میں پرودیا گیا کہ ہمارے دھوبی کے پاس ایک کتا ہے جو گھر کا نہ گھاٹ کا ایک اور محاورہ ہے کچی گولیاں کھیلنا اسے ایک عزیز نے ادب کے میدان میں یوں لڑھکایا کہ آج صبح میں نے بھائی سے کہا آؤ کچی گولیاں کھیلیں اس نے کہا جاؤ جاؤ میں کچی گولیاں نہیں کھیلتا بارش ہوگئی تو سب کا ناس ہوجائے گا۔

(جاری ہے)

ہم مضمون نگاروں کے نام قارئین کی طرف سے روز ہی قیامت کے نامے آیا کرتے ہیں پتہ نشان والے بھی گمنان بھی ان میں سے کچھ ابے تبے کے ہوتے ہیں نادک دشنام سے وریدہ بعض محبت سے بھرے چالیس چالیس صفحے کے اور پسندیدہ بلکہ محبت کا شہر بیرنگ لفافے کو پھاڑ کر باہر چکیدہ تیری قسم میں نصیحت نامے ملامت نامے ہدایت نامے آتے ہیں ازبزرگان عمر رسیدہ یاگرگان باراں دیدہ جب ہم اپنے کالم میں ٹوک دوگر براکرے کوئی پر عمل کرتے ہیں تو کسی دوسرے کے ٹوکنے کا برا کیوں مانیں ہمارے ایک گمنان مہربان نے ہمیں لکھا ہے کہ آپ بات بات پر دوسروں کی زبان پکڑتے ہیں اور خود غلط محاورے لکھتے ہیں یہ کیا محاورہ ہوا جب تک جیوڑا چلے ستر بلا ٹلے اصل محاورہ ہے ایک داڑھ چلے ستر بلاٹلے ان صاحب نے ہمیں صحیح ٹوکا ہمارا کالم فلم برداشتہ گھسیٹ ہوتی ہے اتنا کسے دماغ کہ لکھ کر پڑھے اس روز کالم چھپ کرآیا تو ہم بھی حیران ہوئے کہ جیوڑا کیا؟غلطی کا تب کی نہ تھی ہمارا ذہن او قلم ہی رپٹ گیا تھا شاید تحت الشعور میں دلی کے جیوڑے تھے جن کا یہ قول شریف ہے بہر حال ہم نے غلط لکھا اور شرمندہ ہیں آپ کس چکی کا پسا کھاتے ہیں بیشک یہ محاورہ کسی کے تن و توش پر چپکایا جاتا ہے ہم نے خاں محمد نقی محمد خاں خور جوی کے باب میں(جودھان پان ہیں)لکھا تو مرامعنی تازہ مدعاست کی تقریب ہے ہم ان کی بابرکت لمبی کنہ دریافت کررہے تھے یہ لغزش نہ تھی اجتہاد تھا۔


”اتنے ناداں بھی نہ تھے جاں سے گزرنے والے“
”واعظو پند گرد راہ گزرتو دیکھو“

Your Thoughts and Comments