Gorakh Danda

گورکھ ” ڈنڈا“

بدھ جولائی

Gorakh Danda
علی رضا احمد:
غنڈہ وہ کہلاتا ہے جسے لوگ غنڈہ مان لیں لہٰذا وہ احمق کبھی ” ڈبل بیرل“ غنڈہ نہیں بن سکے گا جو خود کو شریف لوگوں سے منوا نہیں لیتا کیونکہ جس غنڈے کے آگے لوگ کھڑے ہوتے ہیں وہ غنڈہ گردی سے گولڈن شیک ہینڈ لینے کی کوشش کرتا ہے یعنی مانو توایشور نہیں تو پتھر۔
لہٰذامحلے میں گورنری کرنے کیلئے اور کچھ نہیں تو ہاتھ میں کم ازکم ایک مضبوط ڈنڈے کی ضرورت ہوتی ہے اگر اس ڈنڈے کے پیچھے کسی ڈنڈی پٹی والے کاہاتھ وساتھ ہوتو آپ کو ڈنڈا چلانے کے لئے لائسنس بھی مل جاتا ہے اور پھر اس طرزعمل کو کہا جاتا ہے Buck Shotیعنی ڈنڈے سے حکومت․․․․․․
ڈنڈے کی شریک حیات لاٹھی ہوتی ہے اور ان میاں بیوی کے دوبچے ہوتے ہیں لڑکے کانام بیداور لڑکی کانام چھڑی ہوتا ہے اور سرداری جمانے کے لئے اس انتظامی خاندان کو ساتھ ملانا بہت ضروری سمجھا جاتا ہے خصوصاََتیسری دنیا کے ملکوں میں ․․․․․ لیکن ہم ایک دوسری دنیا میں رہتے ہیں۔

(جاری ہے)


حادثانی طور پر بننے والے غنڈے ہی حادثاتی طور پر غنڈہ گردی چھوڑ دیتے ہیں بس اگر کوئی شریف آدمی ان کے ساتھ معمولی سی ” غنڈہ گردی“ کردے تو! مارشل “ آرٹ میں خاطر خواہ مہارت‘ ڈنڈا چلانے کے لئے پہلی شرط ہے ورنہ ڈنڈا چلانے سے پہلے ہی خود پر ڈنڈے برسنے شروع ہوسکتے ہیں۔ اگر آپ چھوٹی موٹی غنڈہ گردی کرنا چاہتے ہیں تواس کے لئے ضروری ہے کہ آپ محلے کی کسی بااثر شخصیت کوساتھ ملائیں اور کسی سے اس کی دشمنی کے بارے میں پوچھیں۔

پھرباتوں میں اسے یقین دلائیں کہ اب اس کے دشمن کی خیر نہیں اگر یہ شخصیت محکمہ تعلیم کی ہوتو زیادہ بہتر ہے۔ آپ محلے میں ایک آدھ ہوائی فائر بھی کریں اور ایک آدھا چکر تھانے کا بھی لگاتے رہیں۔ باقی اپنی ظاہری حالت مصطفی قریشی جیسی بنالیں بس اب آپ غنڈہ گردی کا عظیم کام یعنی گورکھ ڈانڈاچلانے کے لئے تیار ہیں۔
اب آپ پر یہ بھی لازم ہے کہ اس عظیم کام میں بالکل ڈنڈی نہ ماریں یعنی : میں اور باپو اکیلے ‘ چور اور لاٹھی دو“
والا معاملہ اور بہانہ یہاں نہیں چلے گا کیونکہ یہاں ڈنڈا مارنے اور ڈنڈی مارنے میں زمین آسمان کا فرق ہے لہٰذا س کام کو تھوڑا وسیع کرنے کے لئے کبھی کبھی مسجد کا منہ بھی دیکھ لیں۔

اس طرح زیادہ سے زیادہ معصوم لوگ آپ کا دیدار کرسکیں گے۔
یہ ضروری نہیں کہ کسی کو یہ گورکھ ڈنڈاباربار چلانا پڑے۔ ماضی کی سمجھ سے بالاتر تاریخ ہی اس کی دھاک بٹھائے رکھتی ہے۔ پھر وہ نام نہاد ڈنڈا پکڑے بغیر ہی مسٹنڈا لگے گا۔ حادثاتی طور پر غنڈہ بننے والوں کا ذکر ہو رہاتھا اس کے بارے میں یہ واقعہ عرض ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص دوڑ میں اول آیا تواس سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے اس دوڑ کی عرصے سے تیاری شروع کررکھی تھی؟ تو اس نے بڑی سی گالی نکال کر کہا وہ کہاں گیا؟ لوگوں نے اس سے پوچھا کہ وہ کون؟ اس نے کہا کہ جس نے اپنا کتا میرے پیچھے لگایا تھا۔


آپ نے یہ بھی سنا ہوگا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس․․․․․ یعنی یہ تو صرف لاٹھی کے بارے میں کہا گیا ہے اگر کسی کے پاس حادثاتی طور پر دیاگیا ڈنڈا ہوتو وہ گجر سمیت تمام بھینسوں کا باڑہ آگے لاکرکھڑا کر سکتا ہے بلکہ اگر اس گجرنے ہاتھی پالا ہوتو وہ بھی اس کے آگے لگا نظر آئے گا۔ اس ڈنڈے کو آپ دودھ اور گھی بے شک کھلائیں یا نہ کھلائیں لیکن یہ پھر بھی زور دار ثابت ہوگا۔


ڈنڈا چلانا اتنا آسان کام نہیں بلکہ اکیلے انسان کاکام نہیں اس کے لئے ڈنڈے والا منظم گروپ چاہئے۔ ریاستی حکومتیں بھی اپنے عوام کو دبانے کے لئے یہی قانونی ڈنڈا استعمال کرتی ہیں۔ کشمیر اور ناگالینڈ میں بھارتی فوج کا ڈنڈا‘ فلسطین کی عوام کے ئے اسرائیلی فوج کا ڈنڈا․․․․․ اورہمارے سفید پوش لوگوں کے لئے سیاہ پوشوں کا ڈنڈا یعنی ہمارا ڈنڈا ہمارے ہی سر․․․․․․․ احوال دیگرے یہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اپنے ہاتھ اسی ڈنڈے سے لمبے کرتے ہیں اور اپنی دھاک بٹھانے اور ڈنڈے سے ڈنکا بجانے کی کوشش کرتے ہیں۔


جس طرح بلدیہ والے صبح صبح کوشت پر ہوائی مہریں ثبت کرکے گوشت کے خالص ہونے کا سرٹیفکیٹ دے دیتے ہیں اسی طرح سکولوں میں ماسٹر جی بھی اپنے ڈنڈوں سے طالب علم کی پشت مہریں لگاکر ان کا خالص مورال ڈاؤن کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔ اپنے ڈنڈے سے جتنی ڈنڈہ گردی یہ کرتے ہیں اتنی ڈنڈا گردی دنیا میں کوئی نہیں کرتا۔ اگر ماسٹر صاحب کے ہاتھ میں ڈنڈا ہوتو ہیڈ ماسٹر کی طرف سے اس کو دیا جاتا ہے۔

بہرحال کچھ ماسٹران تعلیم کے روگ کے لئے اپنا کلیدی کردار اداکررہے ہیں۔
ایک وقت تھا جب قبیلے کا طاقتور انسان ہی سرداری کااہل گردانا جاتا تھا۔ پھرجوں جوں معاشرہ عم سے بہرہ ورہورکرمہذب ٹھہرتا گیا تو صاحب علم وقلم کا بھی جادو سر چڑھ کر بولنے لگا اور تاج سلطانی پہننے لگا‘ لیکن کئی ملکوں میں یہ ابھی بھی رائج ہے اور وہاں ابھی بھی ڈنڈے سے قلم بناناپڑتی ہے یاقلم کے پیچھے ڈنڈا ہوتا ہے تب جاکر کہیں تحریر اثر دکھانا شروع کرتی ہے۔

Your Thoughts and Comments