Gori Aor Bank Account

گوری اور بینک اکاؤنٹ

طارق احمد بدھ جولائی

Gori Aor Bank Account

وہ گوری تھی۔ بلکہ کچھ زیادہ ہی گوری تھی۔ ہمارا اپنا خیال تھا خدا نے اسے دودھ، بلائی اور مکھن میں گوندھ کر بنایا ہے۔ ہم نئے نئے انگلستان وارد ہوئے تھے اور ہر جانب سرعام چلتی پھرتی الہڑ گوریوں کو دیکھ کر اچھی خاصی بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے تھے۔ جہاں کہیں موقع ملتا ہونقوں کی طرح منہ اور آنکھیں کھول کر آتی جاتی مٹکتی لہراتی ان حسیناؤں کو تکنا شروع کر دیتے بلکہ گھورنا کہنا زیادہ مناسب رہے گا۔

ایک دو بار اپنے تئیں کچھ معزز دیسی حضرات نے ہمیں ٹہوکا بھی دیا، آنکھیں نیچی رکھو، یہاں گھورنا منع ہے۔ ہمارا اپنا خیال تھا اگر ہم نے آنکھیں نیچی رکھ کر چلنے کی کوشش کی تو براہ راست کسی گوری سے ٹکرا جانے کا خدشہ تھا۔ بلکہ امید تھی۔ ویسے بھی کسی نے کہا تھا نیت اور میت کا حال خدا جانتا ہے۔

(جاری ہے)

انگلستان آ کر خدا کی قدرت نہ دیکھنا کسی کفران نعمت سے کم نہ تھا۔

اوپر سے یہ سفید خرافائیں اتنی ہنس مکھ اور نرم خو واقع ہوئی تھیں کہ پاس سے گزرتیں تو مسکرا کر اٹھلا کر اور ٹھوڑی ہلا کر ہیلو ہائے کہہ جاتیں۔ کتنی دیر تو ہم اسی خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ یہ ہماری اپنی ہینڈسم اور گریس فل پرسنیلٹی کا کمال ہے کہ گوریاں ہماری جانب متوجہ ہو جاتی ہیں۔ وہ تو بہت دیر بعد یہ راز کھلا کہ یہاں کا کلچر ہی یہی ہے۔

اور ظاہر ہے ہمارے لیے یہ علم کسی صدمے سے کم نہ تھا۔ ہاں تو بات ہو رہی تھی اس گوری کی جو بہت گوری تھی اور بنک کی کھڑکی کے دوسری جانب بیٹھی کار دراز نپٹا رہی تھی۔ ہم کھڑکی کے اس طرف قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ قطار میں ہمارے آگے بھی گوریاں تھیں، ہمارے پیچھے بھی گوریاں تھیں۔ اور یہ سفید رنگی قاتلائیں ہر قسم کی خوشبو لگا کر آئی تھیں۔

یعنی ہماری ہلاکت کا مکمل سامان موجود تھا۔ ہم گوریوں کی سنگت سے اگر بچ بھی نکلیں تو مسحور کن خوشبوؤں کی نذر ہو جائیں۔ حضرت علامہ صاحب نے غالباً کسی ایسے موقع کے لیے ہی کہا تھا۔ گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ۔ ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ اور ہماری کیفیت یہ تھی۔ نہ بیگانہ وار نہ بار بار بلکہ دیوانہ وار دیکھ۔ بقول میر تقی میر،
کچھ فکر کرو مجھ دیوانے کی
دھوم ہے پھر بہار آنے کی
اور اسی سیلاب بلا میں سرکتے سرکتے عالم وارفتگی میں آخر ہم اس خرافہ کے عین سامنے جا کھڑے ہوئے کہ جس کے سامنے جچتے نہیں فردوس نظر میں والا معاملہ تھا۔

صبح نور جیسی سپید رنگت، سمندر جیسی گہری نیلی آنکھیں، ستواں ناک، سنہرے بال اور دل آویز مسکراہٹ۔ نرم خو لہجے میں بولی: جی فرمائیے، میں آپ کی کیا خدمت کر سکتی ہوں۔ ادھر ہمارا یہ حال: میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے مبہوت ہو کر اسے دیکھا کیے۔ جو تھوڑی بہت انگریزی آتی تھی وہ بھی جاتی رہی۔ ٹک ٹک دیدم، دیدم نہ کشیدم۔

بقول میرا جی، میرؔ ملے تھے میرا جی سے، باتوں سے ہم جان گئے فیض کا چشمہ جاری ہے۔ حفظ ان کا بھی دیوان کریں۔ ہماری دلی و ذہنی کیفیت کو بھانپتے ہوئے اس خرافہ نے اپنی مسکراہٹ میں مزید ادائیں شامل کیں۔ اور وہی سوال دہرایا، ہم نے ہکلاتے ہوئے مدعا بیان کیا کہ ہم بنک اکاؤنٹ کھلوانے آئے ہیں لیکن دل کا اکاؤنٹ کھلوا بیٹھے ہیں۔ کھلکھلا کر ہنس پڑی اور پورے پانچ منٹ بولتی رہی کہ اکاؤنٹ کیسے کھلوایا جاتا ہے۔ اور ہم پورے پانچ منٹ سوچتے رہے کہ انگریزی میں گٹ پٹ کرتی یہ کتنی اچھی لگ رہی ہے۔ بنک سے باہر نکلتے وقت ہم سوچ رہے تھے کہ ہمیں ایک اور اپوائنٹمنٹ بنوانا ہوگی۔ اور ذہن میں میرا جی کا یہ شعر تھا:
کئی راز پنہاں ہیں لیکن کھلیں گے
اگر حشر کے روز پکڑا گیا دل

Your Thoughts and Comments