Green Card Holder

گرین کارڈ ہولڈر ہیرو

عطاالحق قاسمی جمعہ فروری

Green Card Holder

لیکن یہ اس کی واحد صفت تو نہیں ہے چنانچہ جب نجیب احمد نرگس کنول کے ناولٹ ہجر کی پہلی بارش کی ایک کاپی مجھے تھمائی اور کہا کہ تم نے اس پر مضمون پڑھنا ہے تومجھے خوشی ہوئی کہ چلو اگلے پچھلے جھوٹ کا کفارہ اس کتاب کے بارے میں سچ بول کر ادا کردوں گا مگر اگلے ہی لمحے نجیب احمد نے یہ بتاکر میری ساری خوشی خاک میں ملادی کہ کتاب کی مصنفہ اس کی سگی ہمشیرہ ہے چونکہ دوست کی بہن بھی بہن ہوتی ہے لہٰذا میں اپنی بہن کی کتاب کے بارے میں بے لاگ رائے کیسے دے سکتا ہوں بس یہ سوچ کر ایک دفعہ پھر میرے رنگھٹے کھڑئے ہوگئے مگر ایک خیال ذہن میں ایسا بھی آیا جس سے میری خاصی ڈھارس بندھی اور وہ خیال یہ تھا کہ نجیب احمد ایسے تخلیقی شاعر کی بہن اگر برانا ولٹ لکھنا بھی چاہے تو زیادہ سے زیادہ کتنا برالکھ لے گی؟بس اسی قسم کے کچھ ملتے جلتے خیالات جن کے درمیان میں نے ہجر کی پہلی بارش کا مطالعہ شروع کیا۔

(جاری ہے)

ابھی میں نے ناولٹ کے پچیس تیس صفحے ہی پڑھے تھے کہ ناول کے ہیرو صاحب جن کا نام نامی اسم گرامی یوسف تھا درمیان میں ٹپک پڑے موصوف ناول کی ہیروئن کے بھائی کے دوست تھے اور امریکہ سے تشریف لائے تھے ان کی گفتگو سے لگتا تھا جیسے وہ ہیروئن کو فلرٹ کرنے کی کوش کررہے ہیں اور ہیروئن کے انداز ظاہر کرتے ہیں جیسے وہ ان سے متاثر نہیں ہورہی مگر یہ قاری کی بھول ہے کیونکہ ہیروصاحب بھی پہلی نظر میں اسیر محبت ہوچکے ہیں اور ہیروئن صاحبہ بھی سوجان سے ان پر فدا ہوچکی ہے میرے خیال میں یہ اچھا رجحان ہے کیونکہ اس سے قاری کے علاوہ ہیروئن کا بھی خاصا وقت بچتا ہے جو کام سو دو سو صفحات اور دو ماہ بعد ہونا ہے وہ شروع ہی میں ہوجائے تو اچھا ہے لیکن یہ فروعی بات ہے اصل کہانی اس کے بعد شروع ہوتی ہے ناول کی ہیروئن کے لیے رشتے آرہے ہیں ان میں سے ایک رشتہ ڈاکٹر سہیل کا بھی ہے جو فریقین کو پسند آجاتا ہے معافی چاہتا ہوں فریقین کے والدین کو پسند آجاتا ہے مگر فی الحال منگنی وغیرہ کی نوبت نہیں آئی دریں اثناءناول کا ہیرو یوسف ناول کی ہیروئن کو شادی کی پیش کش کرتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ وہ آج تک اپنی والدہ کی خواہش کو ٹالتا آرہا تھا کیونکہ اس پر اپنی بہنوں کی شادی کا بوجھ تھا جن میں سے دو کی شادیاں کرچکا ہے تین کی شادی ابھی کرنی ہے بلکہ وہ بتاتا ہے کہ اس نے اپنے عزیز وطن کو بھی محض اس لئے الوداع کہا ہے تاکہ وہ اپنے گھریلوفرائض سے عہدہ براہ ہوسکے مگر ان وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہوچکا ہے چنانچہ وہ گھر کے علاوہ اپنی حالت پر بھی توجہ دے رہا ہے ہیروئن جو دل و جان سے ہیرو سے محبت کرتی ہے اس پیش کش پر خوشی سے پھولے نہیں سماتی اور جھجکتے جھجکتے اپنی والدہ کو اپنی پسند سے آگاہ کرتی ہے والدہ رضا مند ہوجاتی ہے مگر پیشتر اس کے کہ نوبت شادی تک پہنچے وہ بیمار پڑجاتی ہے علاج وہی ڈاکٹر سہیل کررہا ہے جو امید وار نمبر ایک ہے ایک دن پتہ چلتا ہے کہ شوگر کی زیادتی کی وجہ سے والدہ کے دونوں گردے متاثر ہوچکے ہیں اس ناول کا ہیرو جلد شادی پر بضد ہے کیونکہ اس کی چھٹی ختم ہورہی ہے اور اسے واپس امریکہ جانا ہے یہاں سے ناول کا کلائکس شروع ہوتا ہے یعنی ہیروئن کے اندر ایک نہایت کشمکش شروع ہوجاتی ہے وہ محسوس کرتی ہے کہ یوسف کے بغیر اس کی زندگی مکمل طور پر ویران ہے مگر یہ احساس بھی اسے تنگ کرتا ہے کہ اس کا بھلائی امجد پہلے ہی امریکہ میں ہے اب وہ بھی امریکہ چلی گئی تو ماں کی خدمت کون کرے گا بال آخر وہ ایک فیصلے پر پہنچتی ہے اور وہ فیصلہ یہ ہے کہ وہ یوسف کے ساتھ شادی نہیں کرے گی یہ فیصلہ غم کے ایک پہاڑ کی طرح ناول کے ہیرو اور ہیروئن پر ٹوٹ کر گرتا ہے ہیرو واپس امریکہ چلاجاتاہے کچھ عرصے کے بعد ہیروئن کی والدہ انتقال کرجاتی ہے اور ناول کا اختتام ان لائنوں پر ہوتا ہے آج اماں کا چالیسواں ہے اور آج ہی مجھے بھائی جان کا ٹیلی گرام موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے میرے ساتھ اظہار ہمدردی کیا ہے او ر اپنے نہ آسکنے کی وجہ مصروفیت بیان کی ہے!میں معذرت خواہ ہوں کہ میں نے ناول کی تلخیص بیان کرنے میں خاصا وقت لے لیا ہے مگر یہ بہت ضروری تھا کیونکہ مجھے آپ کوبتانا ہے کہ جس کردار کو ا ٓپ ہجر کی پہلی بارش کا مرکزی کردار سمجھ ہے ہیں وہ اس ناولٹ کا مرکزی کردار نہیں ہے بظاہر اس ناولٹ کے دو مرکزی کردار ہیں ایک ہیرو اور دوسرا ہیروئن لیکن آپ یقین کریں یہ وہ فنکار انہ چابکدستی ہے جس کا مظاہرہ مصنفہ نے اس ناولٹ میں کیا ہے جس سے یہ ناولٹ اردو میں موضوع کے لحاظ سے اپنی نوعیت کا پہلا ناول بن گیا ہے کیونکہ اس ناول کا مرکزی کردار دراصل ہیروئن کا بھائی امجد ہے جو امریکی زندگی کی بے پناہ مصروفیات کی وجہ سے اپنی والدہ کے سوگ میں شرکت سے محروم رہ جاتا ہے نرگس کنول اپنے اس ناولٹ میں متعدد مقامات پر ماوی مفادات کے لئے اپنے وطن کو خیر باد کہنے والے افراد پر تنقید کرتی نظر آتی ہیں لیکن یہ وہ مقامات ہیں جہاں ان میں اور دوسرے لوگوں میں کوئی فرق نہیں فرق تو وہاں محسوس ہوتا ہے جب خود غرضیوں اور انسانی رشتوں کی حرمت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے اور انسان تمام مادی فوائد کو ٹھکرا کر اپنا وزن روبہ زوال روبہ زوال انسانی رشتوں کے پلڑے میں ڈال دے نرگس کنول نے اپنے ناول میں اس نقطہ نظر وکالت کی ہے اور امجد کی اس مادی سوچ کا نمائندہ بنا کہ ہمارے سامنے پیش کیا ہے جس کے نزدیک ہر ماہ ایک بڑا ڈر فٹ گھر بھیجنے اور عزیز و اقارب کے لیے تحفے تحائف ارسال کرنے سے ماں کی مامتا کے علاوہ اس کے اپنے ضمیر کی تشفی ہوسکتی ہے میں نے مغرب میں مقیم پاکستانیوں کو بہت قریب سے دیکھا ہے کیونکہ میں ان کے درمیان دو سال رہا ہوں آپ یقین کریں ان میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جس نے پردیس میں اپنی ماں اپنے باپ یا اپنے بھائی بہن کی وفات کی خبر نہ سنی ہو اور وہ ہمیشہ کے لیے ضمیر کی خلش میں مبتلا نہ ہوگیا ہو کہ وہ اپنے ان پیاروں کے جنازوں کو کاندھا تک نہ دے سکا تھا بڑے سے بڑا بینک ڈرافٹ اپنی بیمار والدہ کے لیے بھر جاگنے اوراسے اپنی گود میں اٹھا کر ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے برابر نہیں ہوسکتا آپ یقین کریں مغرب میں مقیم پاکستانی جب اس نوع کے حادثے سے دو چار ہوتے ہیں تو اس کے بعد انہیں لمبی لمبی کاریں ائرکنڈیشنڈ گھر اور دنیا جہاں کی آسائشیں بچھو کی طرح ڈنگ مارنے لگتی ہیں یہ ڈنگ تو انہیں اس وقت بھی لگتے ہیں جب ان کی بچی کسی گورے سے شادی کرلیتی ہے اوران آسائشوں کی قیمت تو انہیں اس وقت بھی ادا کرنا پڑتی ہے جب انہیں اعلیٰ ترین پوزیشنوں کا حامل ہونے کے باوجود دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے امریکہ میں قیام کے دوران میرا دھیان بار بار ان تمام باتوں کی طرف جاتا تھا اور میرے لئے سب سے زیادہ اذیت ناک سوچ یہی ہوئی تھی کہ میری عدم موجودگی میں اگر میرے بوڑھے والد کو کچھ ہوگیا تو کیا دنیا کی بڑی سے بڑی خوشی بھی میرے اس غم کا امداد بن سکے گی؟چنانچہ میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر واپس آگیا ہوں اور میں خود کو دنیا کے خوش قسمت ترین انسانوں میں سمجھتا ہوں کہ میرے والد نے میری گود میں دم توڑا اور اب میرے بچے ان کی دعاﺅں کے سائے میں ایسے ماحول میں پرورش پارہے ہیں جن کی فضائیں میرے اپنے کلچر کی خوشبو سے رچی بسی ہیں۔

ان سطروں میں یہ ذاتی واردات میں نے اس لئے بیان کی ہے کہ مجھے نرگس کنول کی ژرف نگاہی پر حیرت ہوئی ہے جس کا مظاہرہ انہوں نے اتنی آسانی سے مسئلے کی تہہ تک رسائی کی صورت میںکیا ہے انہوں نے تفصیل میں جائے بغیر سرمایہ داری نظام میں انسانی جذبات و احساسات کے کچلے جانے کا نوحہ ایک ایسے کردار کے ذریعے پڑھا ہے جو بظاہر اس ناول میں ہیرو تو کیا ایکسٹرا بھی نظر نہیں آتا جو اسٹیج پر ایک لمحے کے لئے بھی ظاہر نہیں ہوتا لیکن کہانی کا کلائمیکس اس کے بغیر وجود میں نہیں آتا یہ کتنی بڑی ٹریجڈی ہے کہ اپنا وطن اپنے عزیز و اقارب اپنے دوست اپنے گلی کوچے اپنا کلچر یہ سب کچھ ایک گرین کارڈ کی مار ہے یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس کا مشاہدہ امریکن قونصلیت کے باہر لگی ان طویل قطاروں سے کیا جاسکتا ہے جس میں اسلام کے لیے جان قربان کردینے والے اورپاکستان کے لیے آہیں بھرنے والے اس ملک کے لیے اپنا ویزہ حاصل کرنے کے لئے اپنے نمبر کا انتظار کرتے ہیں جو اسلام اور پاکستان کا دشمن نمبر ایک ہے گذشتہ دنوں مجاہد اسلام صدام حسین کی حمایت اور امریکہ کی مخالفت میں بڑے عظیم الشان جلوس شہر میں نکلے اگر اس جلوس میں کوئی ایک شخص کسی اونچی جگہ پر کھڑے ہوکہ یہ اعلان کردیتا کہ برادران اسلام آپ میں سے جن حضرات کو امریکہ کا ویزہ چاہیے وہ براہ کرم ایک طرف ہوجائیں تو آپ یقین کریں یہ برادران اسلام ایک لمحے کی تاخیر کئے بغیر جلوس میں سے نکل جاتے اور پھر امریکی قونصلیٹ کے باہر قطار میں لگے ہوئے نظر آتے ہیں آخر میں نرگس کنول کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے بہت فنکارانہ مہارت کے ساتھ اس موضوع کربرتا ہے جسے ابھی تک کسی نے کیا تھا اور یہ کارنامہ وہی سرانجام دے سکتی تھی آخر وہ نجیب احمد کی بہن ہیں!

Your Thoughts and Comments