Gussa Kumhar Par

غصہ کمہار پر!!

جمعہ اپریل

Gussa Kumhar Par
گزشتہ روز میں نے ملکہ ترنم کا گانا
میراحسن مصالے داروے ذرا چکھ لے سجنا
سناتو مصالحے دار کھانوں کا رسیا ہونے کے با و جوداس دیگ کا دانہ چکھنے کو جی نہیں چاہا۔
کچھ یہی معاملہ اخباری بیانات کے ساتھ بھی ہے۔ میں جب کسی لیڈر کا بیان پڑھتا ہوں تو وہ لیڈر اپنی اصلی شکل میں میرے سامنے آن کھڑا ہوتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بیان کامزاغارت ہوجاتا ہے۔

مختلف شعراء کا کلام پڑھتے ہوئے بھی میں اسی کیفیت سے گزرتا ہوں جس کے نتیجے میں ان کی شاعری پھیکی پھیکی سی لگنے لگتی ہے کبھی کسی مزاحیہ کالم پر میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اوربھی سنجیدہ سا اداریہ پڑھتے ہوئے میری ہنسی نکل جاتی ہے۔ گزشتہ روز ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں اپنایہ پرابلم بتایا اور کہا کہ اس کی وجہ سے بہت عذاب میں ہوں ‘اس نے میرامسئلہ حل کرنے کی بجائے مجھے ایک صوفی کا قصہ سنایا کہ انہیں انسان اصلی شکلوں میں نظر آنے لگتے تھے یعنی باتیں کرتے کرتے کسی انسان کی شکل لنگور کی سی ہو جاتی‘ کوئی کُتابن جا تا اور کوئی اچھا خاصا بظاہر معتبر انسان سور کی شکل میں سامنے آ جا تا چنانچہ اس صوفی نے انسانوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا اور گوشہ نشینی اختیار کر لی اور پھر یہ قصہ سنانے کے بعد دوست نے مجھ سے پوچھا کہ کیا صوفی تو نہیں ہو گئے ؟ یہ سن کر میں نے دوست کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اگر سارے تمہاری طرح حسن ظن سے کام لینے میں تو یہ دنیا جنت بن جائے لیکن اگر کسی صوفی نے سن لیا کہ تم نے مجھے صوفی کہا ہے تو تمہاری اصلی شکل بھی اس پر آشکارا ہو جائے گی لہذآئندہ اس طرح کی غیرمحتاط گفتگو سے احتراز کرو!
اسی دوست سے مایوس ہو کر میں نے ایک اور دوست سے اپنے مسئلے کا حل پوچھتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا سیاستدانوں کے بیانات شاعروں کا کلام دانشوروں کی حکمت بھری باتیں مشا ئخ کے روحانی مکاشے بہت لطف دیتے تھے لیکن جب سے سیاستدانوں کو بے اصولی کی سولی پرٹنگے دیکھا ہے جب سے شاعروں کا ظاہر ان کے باطن سے جدا پایا ہے جب سے دانشوروں کی زبانیں ان کے پیٹ سے لگی ہیں اور جب سے مشائخ کو پلاٹوں کی باتیں کرتے سنا ہے سیاسی بیانوں غزلوں، نظموں دانشورانہ گفتگووٴں اور روحانی معاشقوں کا مزاجاتا رہا ہے۔

(جاری ہے)

بتاوٴ کیا کروں؟ دوست نے کہابے حس ہو جا ؤ! مجھے دل میں دوست کے مشورے پر بہت ہنسی آئی کہ مجھے یہ حساس سمجھتا ہے مگر میں نے اپنی عزت رکھنے کے لئے اثبات میں سر ہلایا جیسے اس نے میرے بارے میں میں اندازہ لگایا ہو!
آخر میں میرا دھیان ایک ایسے دوست کی طرف گیا جو صائب مشورے دینے کے لئے دوستوں کے حلقے میں بہت مشہور ہے چنانچہ میں نے اس کا دروازہجا کھٹکھٹا یا اور اپنا مسئلہ بیان کیا۔

دوست نے پوری توجہ سے میری بات سنی اور پھر خاموش ہو گیا۔ میں نے کہ تمہاری خاموشی سننے کے لیے نہیں تمہارا جواب سننے کے لئے آیا ہوں۔ اس پر وہ بولا”تم اپنی تعریف میں جو کہنا چاہتے تھے وہ تم نے کہہ دیا تم مجھے جو سنانا چاہتے تھے میں نے سن لیا۔ اب کیا چاہتے ہو؟ میں نے پوچھا کیا مطلب؟“ بولا مطلب بہت واضح ہے کہ تم نے معاشرے کے مختلف طبقوں میں پائی جانیوالی منافقت پراظہار تاسف کیا جس میں بالواسطہ طور تمہاری اپنی پارسائی کا بیان شامل تھا۔

ہمارے ہاں ہیروئن پینے والا شرابی کو طعنہ دیتا ہے شرابیاسمگلر کو طعنے مارتا ہے اسمگلرسیاستدانوں کی اخلاقی گراوٹ کی بات کرتا ہے۔ سیاستدان صاحبان اقتدار پر طعنہ زنی کرتے ہیں اور صاحبان اقتدار اپوزیشن والوں کے لتے لیتے ہیں اور یوں ہم سب اپنے اپنے گناہوں سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں، تم بھی ہو گئے ہو اب گھر کی راہ لو۔۔ میں نے اپنے گھر کی راہ لی راستے میں مجھے ایک بجلی کی کھمبانظر آ یامیں نے ایک ڈبل اینٹ اٹھا کر اس پر دے ماری کی وہ اینٹ تھی جو میں اپنے اس نام نہاد دوست کے سر پر مارنا چاہتاتھا

Your Thoughts and Comments