Hafta Trafic Q Shorro Kia

ہفتہٴ ٹریفک کیوں شروع کیا

جمعہ دسمبر

Hafta Trafic Q Shorro Kia
ابنِ انشاء:
ہم کوئی ہفتہٴ بھر کے لیے کراچی سے باہر چلے گئے تھے یہ سوچ کر کہ اب کراچی والے غافل و بالغ ہیں ان کی ایسی بھی کیا نگرانی کی ضرورت ہے لیکن ہمارا جانا تھا کہ یہاں طرح طرح کی وارداتیں شروع ہوگئیں ہمارے گھر کے سامنے جو پارک کی زمین ہے اور جس میں ایک زمانے سے کتوّں کا چوپال یا جمخانہ کلب چلا آتا تھا جہاں وہ ٹائلٹ بھی کرتے تھے اور استراحت بھی اور اکثر راتوں کو زندہ ناچ گانے کا پروگرام بھی اس کو فلک نے لوٹ کے ویران کردیا یعنی کے ڈی۔

اے والوں نے اس میں گدھوں سے ہل پھروادیے اور زمین کو ہموا ر کردیا ابھی یہ تحقیق نہیں ہوا کہ وہاں سبزہ لگے گا یا پٹرول پمپ بنے گا بہر حال کچھ نہ کچھ ہوا ضرور ہے سبزہ لگا تو اس پر ٹہلنے کے لیے ہماری خدمت غیر مشروط طورپر حاضر ہیں البتہ پٹرول پمپ بننے میں یہ قباحت ہے کہ پٹرول سے چلنے والی کوئی نہ کوئی چیز خریدنی پڑئے گی کاروغیرہ اسکوٹر وغیرہ سگریٹ لائٹر وغیرہ سیکنڈ ہینڈ کاروں اسکوٹروں سگریٹ لائٹروں والے متوجہ ہوں۔

(جاری ہے)

کچھ ایسا ہی فائدہ پولیس والوں نے بھی اٹھایا یعنی ہمارے کراچی سے روانہ ہوتے ہی ہفتہٴ ٹریفک کا اعلان کردیا حالانکہ یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ہماری غیر موجودگی میں ٹریفک کا ہفتہ منانا ایسا ہی ہے جیسا بلا کسی بیمار کے ہسپتال جانا یا بلا کسی دولہا کے بارات لے کر جانا یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم ٹریفک کے عادی خلاف ورزی کرنے والے ہیں ہاں ٹریفک اکثر ہماری خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کے ہم ہمیشہ سے شاکی ہیں کئی بار ایسا ہوا کہ ہم عین وکٹوریہ روڈ یا بندرروڈ کے بیچوں بیچ جارہے ہیں پان کلے میں ہے اور زیرِ تحریر غزل کا مصر عہ لب پر غیب سے مضامین خیال میں آرہے ہیں جارہے ہیں اتنے میں یکلخت کوئی زور سے کار کی بریک لگا کر ہٹو بچو کا شور مچا کر ساری کیفیت کو غارت کردیتا ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ ایسے میں لوگ باگ بھی موٹر نشین کی حمایت کرتے ہیں اور بجائے اس کے کہ اس کو سمجھائیں کہ بھائی تو اپنی موٹر فٹ ہاتھ پر کیوں نہیں چلاتا اور کھمبے پر کیوں نہیں چڑھاتا کہ بجلی کمپنی والوں نے ازراہ ِرفاہِ عامہ اسی مقصد کے لیے کھڑے کیے ہیں سب اپنا غصہ غریب مسافر پر نکلتے ہیں کیونکہ یہ دور سرمایہ داری کا ہے جس کے پاس پیسہ ہے سب اس کی پچ کرتے ہیں،ٹریفک کی طرف سے ہماری خلاف درزی کی یہی ایک مثال نہیں کئی بار ایسا ہوا کہ ہم ٹیکسی میں یا کسی دوست کی گاڑی میں بیٹھے ہیں اور بند روڈ سے النفسٹن اسٹریٹ کی طرف مڑنا چاہا یک لخت کسی نے ٹوکا کہ ادھر جانا منع ہے بھائی کیوں منع ہے؟کیوں پاکستان کے آزاد شہریوں کی راہ روکتے ہو؟اس کا کوئی جواب نہیں خیر کسی صورت صدر پہنچ کر وکٹوریہ روڈ کے راستے بند روڈ آنا چاہیں تو پھر ٹریفک کا سنتری روکتا ہے کہ صاحب آپ دیکھتے نہیں صاف لکھا ہے کہ”بند ہے“اور آپ درّاتے چلے جارہے ہیں مشکل یہ ہے کہ ٹریفک سنتریوں کو متعلق نہیں پڑھائی نہیں جاتی جس طرح ہمارے نصاب تعلیم میں ٹریفک کے قواعد نہیں تھے ورنہ ہم پوچھیں کہ خالی”بند ہے“ سے یہ مطلب کہاں نکلا ادھار بند ہے بھی تو کہتے ہیں اور ”ناطقہ بند ہے“ بھی تو ایک محاورہ ہے۔

ہم نے ایک بار تجویز پیش کی تھی کہ اگر کراچی کی تمام سڑکیں لارنس روڈ فرئیر روڈ اور میکلوڈ روڈ کی طرح مستقل طور پر کھوددی جائیں تو ٹریفک کا مسئلہ فی الفور حل ہوجائے نہ سڑکیں ہوں نہ ان پر سواریاں چلیں نہ ٹریفک ہو نہ ٹریفک کا ہفتہ آج تک مذکورہ بالا سڑکوں کے متعلق کبھی نہ سنا کہ وہاں موٹریں لڑگئیں یا کسی ٹرک نے کسی رکشہ پر مجرمانہ حملہ کیا لوگ بالخصوص کے ڈی۔

اے اور گیس والوں کے جمعدار اور بیلدار بڑی دلجمعی سے عین سڑک کے بیچوں بیچ بیٹھ کر لیٹ کر گڑ گڑی پیتے ہیں چوسر کھیلتے ہیں وہ کبھی کبھی قوالی کی محفل بھی برپا کرتے ہیں ٹریفک ان کو دور ہی سے دیکھتا بے چارگی سے دانت پیستا گزرجاتا ہے ضرب خرابی کی بنیادپر لگائی جائے نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔کراچی میں آج کل گیس کی شکایت عام ہے جس کو دیکھو پیٹ پکڑے پھرتا ہے ایک روز ہمارے ایک دوست ناظم آباد کی چورنگی پر بھاگم بھاگ جاتے مل گئے ہم نے پوچھا کہ اے جان قیس تیر ارادہ کدھر ہے آج بولے گیس کی شکایت لے کر جارہا ہوں ہم نے کہا دیکھو ہٹر کا مربہ نہار منہ کھاؤ اور کلونجی اور شہد ہم وزن لے کر کسی بوتل میں ڈال لو اور دن میں تین بار عرق گاؤ زبان کے ساتھ استعمال کرو گیس کے لیے اکسیر ہے بولے جناب یہ دوسری گیس ہے جسے سوئی گیس کہتے ہیں ہمارا پائپ کچھ لیک کرنے لگا ہے یہ ہمارا سوئی گیس والوں سے پہلا تعارف ہوا تھا دوسرا اس وقت ہوا جب انہوں نے عین ناظم آباد کے چوراہے میں سڑک کھودی اور ٹریفک کو روکنے کے لیے رنگارنگ بورڈ لگائے تھے یہ بات اس موقع پر یوں یاد آئی کہ یہ بورڈ اُردو میں تھے اور خاصی مہذب زبان میں جس میں ایک فقرہ اس قسم کا بھی تھا کہ ٹریفک کی دِقت کے لیے جو ہماری وجہ سے پیدا ہوئی ہے ہم معذرت خواہ تو ہیں لیکن یہ کام آپ ہی کا ہے یہ پائپ وغیرہ ہم آپ ہی کے لیے ڈال رہے ہیں تب ہمیں پہلی بار معلوم ہوا کہ یہ محکمہ کارخیز کا محکمہ ہے اس میں ان کا کوئی مالی یا تجارتی مفاد نہیں ورنہ اس وقت تک ہمارا خیال تھا کہ شاید گیس کمپنی والے بھی دوسروں کی طرح پیسوں ہی کے میت ہیں گیس فراہم کرتے ہیں تو بل بھی بھیجتے ہوں گے پیسے بھی وصول کرتے ہوں گے

Your Thoughts and Comments