Hakeem Baqol Batoraa

حکیم بقول بطورا!

پیر دسمبر

Hakeem Baqol Batoraa
ابنِ انشاء:
آج صبح ہم نے اخبار کھولا تو ا س میں کئی خوشی کی خبریں نظر آئیں ایک تو یہ کہ کراچی کے اسپتالوں کو کتے کے کاٹے سے بچاؤ کی دوا یعنی سیرم نومبر سے ملنے لگے گی دوسری یہ کہ کراچی کارپوریشن نے پبلک کے پرزور اصرار پر وسط ستمبر سے شہر کی صفائی کی مہم شروع کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا ہے کیونکہ اکتوبر میں دس سالہ ترقیات کے جشن منائے جانے ہیں۔

ایک اخبار میں کے ڈی اے کی سرگرمیوں کے متعلق چار صفحے کا ضمیہ بھی دیکھا جس میں کے ڈی اے کے محکمہء پانی کے انجینرکا ایک مضمون بھی شامل ہے اس میں پہلی بار یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ شہر کی شادابی کے لیے پانی از بس ضروری چیز ہے، پہلی بات تو یہ ہے جو لوگ خود کو کتوں سے کٹوانا چاہتے ہیں وہ نومبر تک انتظار کرلیں اس کے بعد اپنا شوق جتنا جی چاہے پورا کریں ہمیں یقین ہے کہ اس اعلان کی نقلیں کتوں میں بھی تقسیم کردی گئی ہوں گی تاکہ اپنا منہ بند رکھیں دہن سگ بہ اعلان دو ختہ بہ۔

(جاری ہے)

کورنگی سے ایک صاحب کتوں کے لیے”کتا گزٹ“نکالنا چاہتے تھے اور اس کی کثیر الاشاعی کے بارے میں بڑی امیدیں رکھتے تھے اگر وہ نکل آیا ہو تو یہ اعلان جلی حروف میں اس میں چھاپ دینا چاہیے ورنہ ہم اہل شہر کو مشورہ دیں گے کہ آج کا اخبار ہمیشہ اپنے ساتھ رکھا کریں جونہی کوئی کتا ان کی طرف لپکے اسے ڈانٹ دیں کہ دُردُر موئے یہ دیکھ اعلان آگیا ہے کو نومبر تک کاٹنا منع ہے کیونکہ ابھی دوانہیں بنی ٹیلی ویژن پر بھی اس کی تشہیر ضروری ہے کیونکہ بڑے گھروں کے تو کتے بھی باقاعدگی سے ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں۔

اب رہی کراچی کارپوریشن کی صفائی کی مہم کارپوریشن والے سیدھی انگلی پہ اعتراف کیوں نہیں کرلیتے کہ انہیں اس کا خیال ہمارا کالم پڑھ کر آیا ہے اور عشرہ ترقیات محض بہانا ہے ہم نے لاہور کا ذکر کیا تھا کہ وہاں جا بجا کوڑے کے ڈھیروں میں بانس کھڑے کرکے بینر پھیلادیے گئے ہیں کہ صفائی نصف ایمان ہے۔تفصیلات پڑھنے پر معلوم ہوا کہ اس مبارک اور ضروری مہم کے لیے کارپوریشن کے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ انجینرنگ ڈپارٹمنٹ اور باغبانی ڈپارٹمنٹ کو کچی نیند سے جگا کر کہا جائے گا ہاں تو صاحبو دکھاؤ ذرا اپنے جوہر ہیلتھ ڈپارٹمنٹ اس سلسلے میں کیا کرے گا اس کا کچھ اشارہ بھی اس اعلان میں ہے وہ یہ کہ لوگوں کو نوٹس دئے گا کہ اپنے اپنے گھروں پر سفیدیاں کراؤ جو نہیں کرائے گا اس کے وغیرہ وغیرہ۔

اس سے یہ معلوم ہوا ہے کہ دوسرے محکمے بھی نوٹس دیں گے لیکن کس بات کے اس بارے میں ابھی کچھ کہا نہیں جاسکتا ہمیں ڈر ہوگیا ہے کہ ہم نے سوارینیچے کے لیے مانگی تھی کہیں اوپر کے لیے نہ مل جائے ہم نماز بخشوانے کی فکر میں ہیں کارپوریشن روزے ہمارے گلے میں ڈالنے کی سوچ رہی ہیں ہم نے پوری خبر کو دوبارہ پڑھا اس میں کہیں اس بات کا اشارہ نہیں کہ لوگ بھی چاہیں تو کارپوریشن کو نوٹس دئے سکتے ہیں کہ اٹھواؤ کوڑے کے ڈھیر کرو صاف نالیں شہر کی۔

ایک صاحب نے تو ابھی سے یہ فال بدزبان سے نکال دی ہے کہ دیکھنا یہ کارپوریشن شہر والوں کو بھنگی بناکے چھوڑدے گی۔پچھلے دنوں اخبار میں اس قسم کی خبر بھی دیکھی کہ آئندہ ڈاکٹروں اور انجینروں کو بلدیہ کا چیئر مین مقرر کیا جایا کرے گا ہر چند اس خبر میں یہ ذکر نہیں کہ موجودہ چیئر مین اور وائس چیئرمین وغیرہ کسی اسپتال میں ڈاکٹر لگادیے جائیں گے تاہم اس تجویز کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں آخر اتنے سارے ڈاکٹر کس مرض کی دوا ہیں ان سے کچھ کام تو لینا ہی چاہیے ہمارے ذہن میں کچھ اس قسم کا منظر آتا ہے کہ ہمارے عزیز دوست ڈاکٹر ایم بی بی ایس خان(محمد باقر سلطان خان) بلدیہ کے دفتر میں چیئرمین بنے بیٹھے ہیں ایک ہاتھ میں عوام کے دلوں کی دھڑکنیں سننے کے لیے اسٹیتھسکوپ ہے اوردوسرے میں تھرمامیٹر جس سے اپنا کان کھجارہے ہیں اتنے میں ایک اہل کار فائل بغل میں دابے داخل ہوتا ہے ڈاکٹر صاحب نہایت خوش خلقی سے چپراسی کو آرڈر دیتے ہیں کہ دو کپ کو نین مکسچر کے بناکے لاؤ وہ صاحب عذر کرتے ہیں کہ میں ابھی پی کے آیا ہوں لیکن ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ ایک اور میں کیا حرج ہے مکسچر ہی تو ہے چائے تو نہیں کہ نقصان کرے آپ کو کونین مکشچر پسند نہیں تو فلو مکسچر بھی ہے اچھا تو کیا بات ہے؟ جناب پرائمری اسکوال چاہے رنچھوڑلائن میں اس کے لیے پیسے منظور کیے جائیں۔

کیا علامات ہیں:؟ایکسرے کرایا؟جی ،کس چیز کا؟کس چیز کا؟اسکول کے بچوں کا،“جی وہ تو نہیں کرایا کرالیں گے،“دیکھے صاحب ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں اسکول کے لیے تو ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں فی الحال سارے بچوں کو جمع کرکے ایک ایک ٹیکہ ہیضے کا لگا دیجیے بہت دوا ہے ہمارے پا س اور اسکول جہاں بنانا مقصود ہے وہاں فی الحال ڈی۔ڈی۔ٹی چھڑک دیجیے۔

وہ صاحب دوسری فائل آگے بڑھاتے ہیں ابدالی روڈ کی حالت بہت خراب ہے لوگ ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں بعضوں کی تو ٹانگ بھی ٹوٹ جاتی ہے۔ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں ہاں ہاں ابدالی روڈ کی حالت واقعی خراب ہیں جا بجا سے فریکچر ہے اس کا بھی ایکسرے کرانا ضروری ہے فی الحال تو پولٹس کی تہ جماکر پٹی باندھ دی جائے۔“جی سڑک کے؟“ارے نہیں زخمی ہونے والوں کے۔

“اس مسند پر ڈاکٹروں کاحق ثابت نہیں ۔ہمارے مہربان فاضل طب حکیم بقل بطوراصاحب بھی اس کام سے عہدہ برآہوسکتے ہیں دفتر میں مسند بچھی ہے آلتی پالتی مارے بیٹھے ہیں۔جو شخص فائیل لے کر اندر آتا ہے پہلے اس کی نبض دیکھتے ہیں اسے جو شاندے کا پیالہ پیش کرتے ہیں اس کے بعد احوال سنتے ہیں اہل کار یہاں بھی وہی بات دہراتا ہے کہ پرائمری اسکول چاہیے اور سڑک مرمت طلب ہے۔

حکیم صاحب فکر مند ہوکر فرماتے ہیں جی ہاں میں نے بلدیہ کے مسائل کا قاروری دیکھا ہے واقعی بڑی خراب حالت ہے ایسے کیسے کام چلے گا سارے عملے کو جلاب دینا پڑے گا۔اب رہائی پانی تو گویا ریسرچ اور تحقیقات کے بعد کے ڈی اے کے انجینئروں نے بھی یہ راز پالیاہے کہ شہرکی شادابی سے پانی کا قریبی تعلق ہے یہ بات ہم نے بھی کہی تھی لیکن ہم ٹیکنیکل آدمی نہیں ہیں ہمارے پاس اس دعوے کے لیے ثبوت میں شواہد اور دلیلیں نہیں تھیں۔بہر حال اس اہم انکشاف کے بعد کیا ہم توقع کریں کہ ہماری ٹنکی میں پانی آیا کرے گا اور علامہ اقبال ٹاؤن کے پارک کی طرف توجہ کی جائے گی جس میں کتے لوٹتے ہیں بلکہ اب تو وہ بھی لوٹتے لوٹتے نظر آجائیں۔“

Your Thoughts and Comments