Half Brother

ھاف برادر

منگل مارچ

Half Brother

ڈاکٹر محمد یونس بٹ
کہتے ہیں ایک زمانہ آئے گا جب دنیا میں صرف پانچ بادشاہ رہ جائیں گے چار تاش کے اور ایک برطانیہ کا بادشاہوں کا تو پکا پتہ نہیں البتہ اتنا علم ہے کہ آج کل دنیا میں پانچ یکے ہیں چڑیا کا یکہ‘پان کا یکہ‘اینٹ کا یکہ‘اور امریکہ لوگ اسے دنیا کا ہاف برادر بھی کہتے ہیں حالانکہ وہ پورا برادران یوسف ہے مرد ہمیشہ ہیں اور امریکی عورتیں وزن کے بارے میں فکر مند رہتی ہے سو مرد اضافے اور عورتیں کمی کی باتیں کرتی ہیں یوں یہ پتہ نہیں چلتا کہ دونوں میں سے زیادہ بورکون ہے؟لیکن ڈرامہ سیریل Roots کے بعد سے امریکیوں کو اپنے آباﺅ اجداد کے بارے میں ریسرچ کرنے کا اتنا شوق چڑھا ہے کہ ایسے ایک محقیق نے اپنی گرل فرینڈ کو کہا میں اپنی Roots تلاش کرنے کے بعد شادی کروں گا ریسرچ مکمل ہوئی تو لڑکی نے شادی کے لیے کہا موصوف بولے میرے باپ داد نے جو کام نہیں کیا وہ میں کیوں کروں؟مگر کبھی کبھی تو امریکی بھی اپنی ریسرچ کرجاتے ہیں جیسے جب نواب اچھن مرزا جو لکھنو کے بڑے رئیس تھے ان کے ہاں چوری ہوئی تو ان کے نوکر نے کہا سرکار میں نے تحقیق کرلی یہ کس کا کام ہے؟پوچھا کس کا کام ہے؟کہا یہ کسی چور کا کام ہے یہی کچھ ڈاکٹر برٹن نے کہا انہوں نے کئی برسوں کے تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کے منہ میں اصلی دانت نہ تھے بلکہ انہوں نے ہاتھی کے دانتوں کی بیستی بنواکر لگوارکھی تھی ہاتھی وہ جانور ہے جس کے آگے پیچھے دونوں طرف دم ہوتی ہے یہ دنیا کا وہ جانور ہے جس کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں ڈاکٹر برٹن نے یہ جاننے کے لیے کئی برس ریسرچ کی۔

(جاری ہے)

حالانکہ ہمیں تو 1965 اور1971 میں ہی پتہ چل گیا تھا کہ امریکی صدروں کے منہ میں ہاتھی دانت ہوتے ہیں جس کا یہ مطلب نہیں کہ جس کے منہ میں ہاتھی دانت ہوں وہ ضرور امریکی صدر ہی ہو وہ ہاتھی بھی ہوسکتا ہے ویسے امریکی سیاست میں ہاتھی کا ہمیشہ بڑا ہاتھ ہوتا ہے لیکن جتنے سفید ہاتھی ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں امریکہ میں کہاں ہوں گے مگر ہمیں تو مشرق کی چیزیں اچھی ہی نہیں لگتیں ویسے یہ اچھی ہوتی بھی نہیں امریکی سورج ہے نظر تو آتا ہے مگر یہ پتہ نہیں چلتا طلوع ہورہا ہے یا غروب ہمارے ہاں سورج مشرق سے نکلتا ہے اسی لیے ہمیں تنگ کرتا ہے صبح سات آٹھ بجے جب بھرپور نیند کا وقت ہوت اہے نکل آتا ہے اکثر کالم نگاروں کے بارے میں لوگوں کا شکایت ہے کہ وہ چڑھتے سورج کو سلام کرتے ہیں لیکن ہم سے نہیں کیونکہ ہم کبھی اس وقت اٹھے ہی نہیں جب سورج چڑھتا ہے بہر حال ہوسکتا ہے ہمارے سفید ہاتھیوں کی اس لیے قدر نہ ہو کہ ان کے منہ میں ہاتھی کے دانت نہیں بلکہ دودھ کے دانت ہیں دانتے کے بعد جارج واشنگٹن کے نام کے ساتھ دانت آیا ہے۔

امریکیوںکے فارد آف دی نیشن ہیں اور نئی نسل ان کا نام سنتے ہی پکاراٹھتی ہے باپ رے باپ کھاتے پیتے گھرانے سے تھے بعد میں تو صرف پیتے گھرانے سے رہ گئے سو ڈاکٹر برٹن کے مطابق بدپرہیزی سے دانت میں درد ہونے گا ویسے دانت کا درد اسے ہی نہیں ہوتا جس کے دانت نہ ہوں سو انہوں نے سارے دانت نکلو ا کر لکڑی کی بیستی لگوائی انہیں بات بات پر دانت نکالنے کی عادت تھی پھر سگار پیتے وقت بھی آگ بجھانے کا سامان پاس رکھنا پڑتا کہ کہیں دانتوں کو آگ نہ لگ جائے دیمک کا خطرہ الگ۔

سونے کے دانت اس لیے نہ لگوائے کہ چوری نہ ہوجائیں کیونکہ امریکی میں اتنی چوریاں ہوتی ہے کہ چور ایک سٹور لوٹ رہے تھے کہ ان کا ساتھی بھاگا بھاگا آیا اور بتایا کہ ہم نے بھاگنے کے لیے باہر جو کار کھڑی کی تھی وہ چوری ہوگئی ہے سو ڈر تھا کہ کہیں رات کو منہ کھلا نہ رہ جائے اور کوئی چور دانتوں کی صفائی نہ کردے کیونکہ امریکیوں کو منہ بند رکھنا کہاں آتا ہے؟ویسے بھی فی زمانہ منہ بند رکھنے کے جتنے طریقے ہیں پان کھانا ان میں سب سے بہتر ہے اسی لیے مارشل لاءکے دنوں میں ہمارے ہاں پان زیادہ بکتے ہیں سو جارج واشنگٹن کو ہاتھی دانت تراش کر بیستی بنا کردی گئی ویسے ہمیں اس ریسرچ سے یہ ضرور پتہ چلا کہ جارج واشنگٹن نے کسی بھی معرکے میں سرکیوں نہ جھکایاَبیستی گرنے کا ڈر ہوتا ہوگا انہوں نے بیستی سے ایک دو دانت نکلوا دئیے تھے تاکہ دانت اصلی لگیں یوں بیستی کی بیستی بلکہ ایسی تیسی کرد ی ہوسکتا ہے وہ امریکی صدر کے اصلی دانت ہی ہوں کیونکہ ان کے دانت بھی کھانے کے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں اور اس خوبی کی وجہ سے ان پر ہاتھی دانت کا شک کیا گیا ہے یہ بھی ممکن ہے کوئی اور ڈاکٹر برٹن یہ ریسرچ پیش کرے کہ جو دانت ملے ہیں وہ تو جارج واشنگٹن کے ہیں لیکن وہ جس منہ سے ملے ہیں وہ ان کا نہیں ہے۔

Your Thoughts and Comments