Hansne Wala Borah

ہنسنے والا بوڑھا

منگل جنوری

Hansne Wala Borah

عطاءالحق قاسمی
اور پھر اس کی ہنسی رکتی ہی نہیں!میںنے غور سے اس بوڑھے کی طرف دیکھا اس کی سفید لمبی داڑھی تھی پوپلے منہ میں صرف دو دانت تھے جو منہ کھولنے پر باہر کیک طرف جھانکنے لگتے تھے یہ بزرگ صورت انسان دیکھنے میں بہت سنجیدہ لگتا تھا اس نے سفید وردی پہنی ہوئی تھی وہ غالباً سول ایوی ایشن میں ملازم تھا اتنے میں میرا دوست اس کی طرف بڑھا اور پھر اس کا ہاتھ تھا م کر اسے میرے پاس لے آیا۔

صاحب خدا کے لیے آپ ہنسنا نہیں بوڑھے نے میری طرف دیکھتے ہوئے لجاجت بھرے لہجے میں کہااس کی اس بات پر بے اختیار میری ہنسی نکل گئی جس پر بوڑھا کھلکھلا کر ہنس پڑا اس کے اس بے ساختہ ہنسنے پر میری ہنسی تیز ہوگئی مجھے اس طرح ہنستے دیکھ کر بوڑھے نے پیٹ پکڑ کر ہنسنا شروع کردیا اب میرے لیے اپنی ہنسی کو تہذیب کی حدوں میں رکھنا مشکل ہوگیا تھا چنانچہ میری ہنسی بھی تقریباً چیخوں میں تبدیل ہوگئی اس پر بوڑھا ہنستے ہنستے فرش پر لیٹ گیا اور دونوں ہاتھ جوڑ کر قہقہوں کے درمیان رک رک کر منت سماجت میں مشغول ہوگیا خدا کے لیے بس کریں بابوجی خدا کے لیے ہنسنا بند کریں نہیں تو ہنستے ہنستے میرا د م نکل جائے گا اس صورتحال پر میرے لیے ہنسی رکنا ممکن نہیں تھا چنانچہ میں بوڑھے سے کافی فاصلے پر منہ پھیر کر کھڑا ہوگیا تاکہ اسے میرا ہنستا ہوا چہرہ نظر نہ آئے تھوڑی دیر بعد میری ہنسی ویسے ہی تھم گئی اس دوران بوڑھا کپڑے جھاڑ کر فرش سے اٹھ کھڑا ہوا اب وہ ایک دفعہ پھربہت سنجیدہ لگ رہا تھا میں نے رخصت ہوتے وقت بوڑھے سے ہاتھ ملایا اورکہا بابا جی آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی شکر ہے اس دور میں کوئی ہنسنے والا تو ملا بوڑھے نے جواباً بہت گرم جوشی سے میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور میں اسے تھپکی دے کر اپنے دوست کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔

(جاری ہے)

یہ ہنسنے والا بوڑھا تمہیں کیسا لگا؟دوست نے ہنستے ہوئے پوچھا بہت اچھا اللہ تعالیٰ اسے ہمیشہ خوش رکھے مگر یہ ہنسنا اس کے لیے عذاب بن کر رہ گیا ہے لوگ محض اسے ہنسانے کے لیے اس کے سامنے آکر ہنسنا شروع کردیتے ہیں۔“پھر؟“پھر یہ ہنستا چلا جاتا ہے خدا خدا کرکے اس کی ہنسی تھمی ہے تو کوئی دوست اسے ہنسانے چلا آتا ہے اوریوں یہ بے چارہ سارا دن بس اسی کام میں لگارہتا ہے پھر تو واقعی یہ شخص پرابلم میں ہے اسے سنجیدہ کرنے کے لیے تم نے کچھ سوچا؟“نہیں تم ہی کوئی حل بتاﺅ!اسے کہو جلے بھنے لوگوں کی صحبت میں رہا کرے افسروں وغیرہ کے ساتھ اٹھا بیٹھا کرے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تو خیر کیا ہے کہ غریب آدمی ہے مگر رہتا انہی افسروں کی صحبت میں ہے سارا دن ان کی جھاڑیں کھاتا ہے اور ہنستا رہتا ہے۔

“اسے سنجیدہ کرنے کا ایک طریقہ میرے ذہن میں آیا ہے میں نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا پھر مجال ہے کبھی اس کے چہرے پر مسکراہٹ بھی آجائے بڑاڈھیٹ بابا ہے دوست نے ہنستے ہوئے کہا یہ اپنی محبت کے قصے سناتا ہے تو ہنس ہنس کر دہرا ہوتا چکا جاتا ہے اورکہتا ہے کہ وہ کیانادانی کے دن تھے!اچھا تو پھر یوں کروا سے کسی فائل کے چکر میں ڈال دو دفتروں کے پھیرے لگے تو ساری عمر کے لیے ہنسنا بھول جائے گا یہ اس چکر میں رہ ہی نہیں سکتا اس کے پاس کچھ ہے ہی نہیں ہوتا تو اس طرح ہنستا؟اس کے ہاں ٹیلی فون لگوا دو ہر مہینے جب غلط بل آئے گا تو میں دیکھوں گا کہ کیسے ہنستا ہے؟یار کوئی کام کی بات کرو وہ پاگل ہے جو اپنی پرسکون زندگی میں بیٹھے بٹھائے زہر گھولے گا؟“اچھا تو پھر یوں کرو اس کی دوسری شادی کرادو“پھر وہی بچوں والی بات میرے یار اس نے تو ابھی پہلی شادی نہیں کی کیا تمہیں اس کے قہقہوں سے اندازہ نہیں ہوا؟“ہاں کچھ ہوا تو تھا میں سمجھا ممکن ہے طلاق ہوگئی ہو“لگتا ہے تمہارے پاس اس ہنسنے والے بوڑھے کو غمزدہ کرنے کے لئے مزید کوئی تجویز نہیں رہی؟“ہے“مگر یہ آخری ہے تم آزما کردیکھنا مجھے یقین ہے اس کے بعد ہمارے معاشرے کے ہرفرد کی طرح اس کے چہرے سے بھی مسکراہٹ غائب ہوجائے گی وہ کیسے؟دوست نے بے تابی سے پوچھا۔

وہ ایسے کہ صبح صبح اس کے سامنے اخبار رکھ دیا کرو اگر یہ خود پڑھ سکتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اسے سرخیاں پڑھ کر سناﺅ جب یہ روزانہ نہار منہ اتنی ڈھیر ساری دل دہلا دینے والی خبریں سنے گا تو اس کی سات پشتوں کے چہرے پر بھی کوئی ہنسی آجائے تو تم میرا نام بدل دینا بہت موثر تجویز ہے دوست نے کہا مگر بہت ظالمانہ ہے اگر ہمارے ماحول سے ہنسی بالکل غائب ہوگی تو لوگ آنسوﺅں کے سیلاب میں بہہ جائیں گے میرے خیال میں اس بوڑھے کو اسی طرح ہنسنے دو اس کی وجہ سے اردگرد کی فضاﺅں میں مسکراہٹوں کے کتنے گلاب کھلتے ہیں بلکہ اس شخص سے اتنا ہنسنے کی وجہ بھی نہیں پوچھنی چاہیے کیا پتہ اس ہنسی کے لیے اس نے غم کے کتنے سمندر عبور کیے ہیں۔

Your Thoughts and Comments