Haseen Hona Mana Hai

حسین ہونا منع ہے

ہفتہ ستمبر

Haseen Hona Mana Hai

ہم نے ایک بار حنقہ ارباب ذوق کے اجلاس میں کہہ دیا کہ بد صورتی عورت کی سب سے بڑی محافظ ہے۔ تو وہاں موجود ایسی ” محفوظ “ خواتین نے ہمیں اپنے لئے خطرہ دے دیا۔ احمد ندیم قاسمی صاحب تو اپنے ایک افسانے میں لکھتے ہیں: ”جب خدا کسی غریب سے ناراض ہو تا ہے تو اسے خوبصورت بیٹی دیتا ہے۔“ کچھ ایسے ہی خیالات ملائشیا کے صوبے کینٹین کے وزیر اعلیٰ کے ہیں جنہوں نے خواتین سرکاری ملازمت کے لپ اسٹک لگانے پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ ساتھ یہ اعلان کیا ہے کہ دفتروں میں پر کشش عورتوں کو ملازمتیں نہیں دی جائیں گی۔

لگتا ہے دل کے بعد ا ملائشیا کو بھی حسن سے خطرہ ہے ۔ ہم نے صوبہ کینٹین کے وزیرِ اعلیٰ تو نہیں دیکھے۔ ہمارا خیال ہے بادشاہی مسجد کے مولانا عبدلاقادر آزاد کی طرح حسین ہوں گے۔

(جاری ہے)

مولناعبدالقدیر آزاد جو ایک عرصے سے ذہانت اور خضاب میں مبتلا ہیں، کہتے ہیں: ”ایک وقت ایسا تھا شادی کی تقریب میں میرے حسن کی تا بنہ لاکر ایک لڑکے بے ہوش ہو کر گر پڑی تھی۔

اب تو ظالم وقت نے سب چھین لیا۔“ویسے یہ مولانا کی کسر نفسی ہے ورنہ تو انہیں دیکھ کر کئی لڑکیاں اب بھی بے ہوش ہو سکتی ہیں۔ خیر وہ تو مولویوں کی رولز رائس ہیں، یعنی مولویوں میں ان کو وہی مقام حاصل ہے جو عام گاڑیوں میں مرسیڈیس کو۔ بہر حال ملائشیا حکومت کے اس اعلان سے وہی نتیجہ نکلے گا جو اسلامی نظریاتی کونسل کے اس اعلان سے نکلتا ہے جس کے مطابق صرف 35 سال سے زیداہ عمر کی عورتوں کو ملامتیں ملنا چاہئیں۔

عمر عورتوں کی مردانہ کمزوری ہے۔ ایک خاتون کے بارے میں آسکر وائلڈ نے کہا تھا: جب تک وہ اپنی بیٹی سے دس سال چھوٹی نظر آتی رہے گی، تب تک وہ مکمل اطمینان سے رہے گی۔ ” عورتیں ہمیشہ کم عمر پسند کرتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی عمر مرعدوں سے ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے۔ جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ عورتوں کی کوئی بیوی نہیں ہوتی۔ بہر حال جس خاتون کو کہا جائے گا کہ اسے نوکری اس لیے مل رہی کہ وہ 35 سال سے زیادہ عمر کی ہے تو وہ نوکری لینے سے انکار کر دے گی۔

ایسے ہی صوبہ کینٹین کی عورتیں اس لئے نوکری کرنا ہی نہ چاہیں گی کہ لوگ سمجھیں گے، وہ دلکش نہیں۔ اس اعلان پر ملائشیائی مردوں نے احتجاج کیا ہے۔ مغرب میں تو آزادی نسواں کی تحریک بھی مردوں نے چلائی تھی تاکہ دفتروں میں وہ عورتوں کے شانے کے ساتھ شانہ ملا کر کا م کر سکیں۔
عورتیں دو قسم کی ہوہتی ہیں۔ ایک وہ جن کے آپ خواب دیکھتے ہیں اور دوسری وہ جن سے آپ کی شادی ہوتی ہے۔

کہتے ہیں آرٹ وہ چیز ہے جو آپ کو دیکھنے میں اچھی لگے، لیکن آپ کو اس کی سمجھ نہ آئے ۔ دنیا میں آرٹ کا سب سے پہلا نمونہ عورت ہے۔ کچھ نے تو اتنا میک اپ کیا ہوتا ہے کہ وہ صادقین کے آرٹ کا نمونہ لگتی ہیں۔ عورت ہونا دراصل حسین ہونا ہے۔ دنیا کا کوئی آئینہ کسی بھی عورت کو بدصورت نہیں بناتا۔ منیر نیازی صاحب تو کسی بدصورت سے ملنے پر تیار نہیں ہوتے۔

ویسے وہ جن خواتین کو سامنے بٹا کر تعریفیں کر رہے ہوتے ہیں، انہیں دیکھ کر لگتا ہے دنیا میں کوئی خاتون بدصورت ہوتی ہی نہیں۔ کچھ کہتے ہیں خوبصورتی تو اندر ہوتی ہے۔ مثلاََ جام کے اندر، جیب کے اندر، لباس کے اندر وغیرہ وغیرہ۔ کچھ کے نزدیک خوبصورت دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے۔ سو صوبہ کینٹین کے وزیر اعلیٰ کو اس آنکھ پر آنکھ رکھنی چاہیے تھی۔

جیسے ایک پاکستانی لڑکی نے بتایا: ” میں امریکہ میں شلوار قمیض میں دفتر جاتی تو سب کی آنکھیں میرے چہرے کو گھورتی رہتیں۔ میں نے باس سے شکایت کی تو اس نے کہاِ منی اسکرٹ یا شارٹ پہنا کرو۔ اب چھ ماہ ہو گئے ہیں۔ دفتر میں کسی نے میری آنکھ میں آنکھ ڈال کر نہیں دیکھا۔ “ اگر چہ یہ پتہ کرنا بھی مشکل ہے کہ کونسی لڑکی دلکش ہے، کون سی نہیں۔

روز میں اس کا یہ طرقہ ہے کہ بازار یا ہوٹل میں جس میلز گرل سے گاہک بقایا مانگے، وہ سمجھتی ہے اب وہ دلکش نہیں رہی۔
ہو سکتا ہے حکومت کا دفتروں حسن پر پابندی لگانے کا فیصلہ اصل میں بیوٹی پارلرز کے کلاف مہم ہو۔ جو شخص کہہ کہ عورتوں مین خوبصورتی کم ہوتی جا رہی ہے۔ یقین کرلیں و ہ کسی بیوٹی پارلر میں کام کرتا ہے۔ وہاں کام کرنے سے بندے کا بیوٹٰ سے یقین اُٹھ جاتا ہے اور محنت پر یقین آجاتا ہے۔

دنیا کو اتنا حسن شاعروں ، موسیقاروں نے نہیں دیا جتنا بیوٹی پارلروں والوں نے دیا ہے۔ البتہ اگ بیوی ہفتہ بیوٹی پارلر سے دور رہے تو اسے پتہ بھی نہ ہوگا کہ محلے میں کیا ہو رہا ہے۔ عورتیں معجزوں پر یقین رکھتی ہیں۔ یقین نہ آئے تو کسی بیوٹی پارلر میں چلے جائیں۔ ہماری ایک عزیزہ لطیفے بناتی ہے؟“ تو وہ بولا: ”نہیں ہوتا، جتنے کا ہر سال فرانسیسی عورتیں میک اپ کر جاتی ہیں۔

لیکن میک اپ پر پابندی خواتین کو غیر مسلح کرنے کے مترادف ہے۔ ملائشیا حکومت کے اس اعلان کے بعد اب وہاں ماں باپ اپنے بچوں کی شادی کرنے کے لئے جو ضروت رشتہ کا اشتہار دیں گے، ان میں لکھا ہوگا کہ ہماری بیٹی اتنی حیسن ہے کہ کئی دفتروں نے اسے نوکری دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ویسے تو ہماری خواتین کی طرح ملائشیا کی خواتین کو بھی مردوں سے زیادہ آسانیاں حاصل ہیں۔

جیسے کرئی مرد ایک عورت سے شادی نہیں کر سکتے، جب کہ کئی عورتیں ایک مرد سے شادی کر سکتی ہیں۔ اب وہاں صرف بیوی کی جاب ایسی رہ گئی ہے جس پر خوبصورتی کو ترجیح ملے گی، لیکن کچھ خواتین صرف آٹھ گھنٹے والی جاب چاہتی ہیں۔ جہاں تک لپ اسٹک کا تعلق ہے تو اسے ہونٹوں کا لباس سمجھتے رہے، لیکن صوبہ کینٹین کے وزیر اعلیٰ اسے وہ اسٹک سمجھتے ہیں جس سے عورتیں مردوں کو کنٹرول کرتی ہیں۔

اب لپ اسٹک لگانا وہاں غیر اخلاقی حرکت ہے ۔ جیسے ڈنمارک میں عورتوں کا موٹا ہونا غیر اخلاقی حرکت ہے۔ جب کہ ہمارے ہاں ان حرکتوں سے پشتو فلمیں بنتی ہے۔
اگرچہ لپ اسٹک پر پابندی لگا نے سے زرمبادلہ بچے گا کیونکہ صرف صوبہ کینٹین کے مرد روزانہ لاکھوں کی لپ اسٹک کھا جاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہاں کے مردوں نے اس کی حمایت میں کوئی جلوس نہیں نکالا۔ صرف اخباروں نے ہی ” سرخی لگانے پر پابندی “ کی سرخی لگائی۔

Your Thoughts and Comments