Hathi Sawar Mehmood Padal Ayaz

ہاتھی سوار محمود‘ پیدل ایاز

عطاالحق قاسمی بدھ جنوری

Hathi Sawar Mehmood Padal Ayaz

ان دنوں صورت حال مختلف ہے آپ کو شہر بھر کے ہوٹل بند ملیں گے اور اس طرح کی کوئی عبارت بھی تحریری صورت میں نہیں ملے گی کہ کھانا کھانے کے لئے پچھلے دروازے سے تشریف لائیں لیکن دنیا کے کام تو بہر حال چلتے رہتے ہیں چنانچہ اگر آپ کو کسی دکان کے تھڑے پرچاردرویش پراسرار انداز میں بیٹھے نظر آئیں تو آپ بھی سر نیہوڑا کران کے قریب جاکر کھڑے ہوں اور انہیں مخاطب کرنے کے بجائے سامنے والی دیوار کو مخاطب کرکے مجذوبانہ انداز میں سرگوشی کریں کج کھان نوں لبھ جائے گا اس پر کوئی صاحب دل آپ کی طرف بڑھے گا اور آپ کو مخاطب کئے بغیر آسمان کی طرف منہ کرکے کہے گا ”کیہہ چاہی داجے“ آپ اس فقیرانہ انداز میں جواب دیں جو لبھ جائے اس پر وہ مرد قلندر برابر میں واقع اپنے مکان میں جائے گا اور شامی کباب اور سلائس یا نان چنے پولی تھین کے بیگ میں بند آپ کو دائیں ہاتھ سے اس طرح پکڑائے گا کہ بائیں ہاتھ کو خبر نہیں ہوگی آپ بھی اس کو رقم کی ادائیگی اسی انداز میں کریں گے ار پھر کسی دیوار کی اوٹ میں یا جھاڑیوں کے پیچھے یا کسی نیم تاریک جگہ میں منہ کالا کریں گے مگر اس کے لئے شاہین فورس سے بچنا ضروری ہے کیونکہ جرائم پیشہ لوگ ان کی نظروں سے بچ سکتے ہیں گناہ گار نہیں وجہ صاف ظاہر ہے کہ جرائم پیشہ لوگوں کی مدد کو سیاست دان اور وڈیرے پہنچ جاتے ہیں اور یوں ان شاہینوں کے ہاتھ کچھ نہیں آتا جب کہ گناہ گاروں کی مدد کو خود گناہ گار بھی نہیں پہنچتے گناہ گاروں کے لیے ان دنوں چند مقامات و آہ فغان اور بھی ہیں جن میں ریلوے اسٹیشن اور ہسپتالوں کی کنٹینیں خصوصی اہمیت کی حامل ہے ان دنوں کسی ایک عزیز کو گاڑی پر سوار کرانے کے لئے آدھا محلہ ساتھ چل پڑتا ہے اسی طرح مریضوں کی عیادت کا جذبہ بھی زوروں پر ہے یا کسی شہر سے کوئی مسافر آجائے اور وہ کسی دوست سے ملنے اس کے گھر جانا چاہے تو کئی راستہ بتانے والے اس کے ساتھ چل پڑتے ہیں غرض یہ کہ ان دنوں گناہ گاروں میں مشرقی اقدار بہت مقبول ہورہی ہیں ہم لوگ ایسے ہی واویلا کرتے رہتے ہیں کہ لوگوں کی آنکھ کا پانی مرگیا ہے۔

(جاری ہے)

ابھی تک میں نے جن گناہ گاروں کا ذکر کیا ہے یہ وہ گناہ گار ہیں جن پر پہلے سے خدائی مار ہے یعنی ان کا تعلق غریب غرباءسے ہے آپ چاہیں توا نہیں کمی کمین بھی کہہ سکتے ہیں لیکن گناہ گاروں کی ایک قسم اور بھی ہے جن کا شمار شرفاءمیں ہوتا ہے میری مراد امیر لوگوں سے ہیں ہمارے صاحبان اقتدار نے ملک میں دو طرح کے اسلام نافذ کئے ہوئے ہیں ایک اسلام غرباءکے لئے ہیں اور ایک ان کے اپنے طبقے کے لئے غریب گناہ گاروں کا احول میں نے بیان کردیا ہے جب کہ بحمد اللہ میرا گناہ گاروں کے لیے اس قسم کی کوئی پرابلم نہیں رمضان المبارک کے مہینے میں شہر کے فائیوسٹار ہوٹل ان کے لئے کھلے ہیں وہ کافی شاپ میں جائیں ویٹر انہیں ایک فارم دے گا جن پر مریض مسافر غیر مسلم کے الفاظ درج ہوں گے ان میں سے کسی ایک پرنشان لگا کر جو جی چاہے منگوائیں کئی حقیقت پسند قسم کے گناہ گار تو مریض مسافر یا غیر مسلم کے سامنے نشان لگانے کے بجائے اپنے طرف سے لفظ ہنگری لکھتے ہیں اور اس پر نشان لگا کر کام و دہن کی تواضع کافی اور برگر سے کرتے ہیں اصلی اسلام میں مریض مسافر اور غیر مسلم طبقاتی امتیاز نہیں برتا جاتا جبکہ نظریہ ضرورت والے اسلام میں امیروں اور غریبوں کے لیے الگ الگ قوانین بنائے گئے ہیں یہ وہ اسلام ہے جس میں محمود اور ایاز مسجد کی ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں لیکن مسجد سے نکلنے کے بعد محمود ہاتھی پرسوار ہوجاتا ہے اور ایاز پیدال اپنے کواٹر کی طرف چل پڑتا ہے۔

Your Thoughts and Comments