Haye Haye Mera Bagh Lay Gya Kun

ہے ہے مرا باغ لے گیا کون؟

جمعہ جنوری

Haye Haye Mera Bagh Lay Gya Kun
ابنِ انشاء:
اس شہر میں دو طرح کی مخلوق ہے آدھے لوگ مکاندار ہیں آدھے کرایہ دار اس حساب سے ہم تین میں نہ تیرہ میں یہ کہاں ہماری قسمت کی کرایہ دار ہوتے ہر نئے مہینے مکاندار کی چھاتی پر چڑھ بیٹھتے کہ مکان میں سفیدی نئی ٹوٹی لگوا غسل خانے بناکے دئے مکاندار بھی ان معنوں میں نہیں کہ کوئی کرایہ دار نہیں رکھتے جس کو یہ دھونس دے کر اپنی خودی بلند کرتے رہیں کہ اومیاں اگر میرے مکان کی کسی دیوار میں کیل ٹھونکا تو دیکھنا سفیدی کا ذکر مت چھیڑ ابھی تو دس سال بھی نہیں ہوئے سفیدی کرائے بس کرایہ لاورنہ ابھی تیرا سامان باہر پھینکتا ہوں۔

دراصل ہمارا مکان میر چند کہ ہے نہیں ہے قرض لے کے بنایا تھا لہٰذا اپنی تنخواہ میں تہائی کا ہوگیا ہے شریک ساہوکار مہینے کے مہینے ہاؤس بلڈنگ کارپوریشن کو قسط دیتے ہیں بارہ تیرہ برس اور دیتے رہیں گے مول جدا سود جدا نہ دیں گے تو مکان فرق کراسکتا ہے باریں ہمہ جب مکان میں آئے تو بہت خود پسند تھے پہلی بار کسی چیز کے مالک بنے تھے؟کوٹھے پر چڑھ کر آواز لگائی۔

(جاری ہے)

ہم ہے مالک اس مکان ہے ہے کوئی اس جائیداد کا ٹیکس لینے والا کئی آدمی دوڑے آئے ایک میونسپل کارپوریشن کا ایک کے ڈی اے کا ایک شاید ایکسائز کا تھا ایک نے کہا ہم لیں گے تم ہماری رعایا ہو،۔دوسرا بولا جی نہیں ہمیں دو یہ عملداری ہماری نہیں تیسرے نے کہا ہم بھی ہیں پانچویں سواروں میں آپ کے قیمتی ٹیکس کے طلب گار۔“ہم نے کہا صاحبو ہم صفائی ٹیکس بھی دینے کو تیار ہیں اس پر کے ڈی اے اور کارپوریشن والے بیک وقت بولے نکالو پیسے یہ ہمارا حق ہے یہ ہمارا حق اب ہم نے کہا پانی کا ٹیکس بھی تیار ہے بہت پیسے والے ہیں ہم اس پر تو دونوں باقاعدہ الجھ پڑے کہ اس کے حقدار ہم ہیں اب ہم نے چلا کر اعلان کیا۔

ارے ہمارے محلے میں جھاڑو کون دے گا ہماری ٹنکی میں پانی کون چھوڑے گا روشنی کے کھمبے گاڑے گا سڑکیں کون بنائے گا اس پر ان میں ایثار کا مادہ عود کرآیا بولے لوگو کوئی اور ہمارے اوربھی تو بولے ہم کہاں تک بولتے رہیں۔لیکن ادھر نظم و نسق کی تطہیر اور معاشرے کو آلائشوں سے پاک کرنے کی مہم شروع ہوئی اوریہ محکمے بھی کلمہ پڑھتے منہ پر ہاتھ پھیرتے جماہیاں لیتے اٹھے یہ پوچھتے ہوئے کہ یہ کونسی صدی ہے کارپوریشن والے خود اٹھے اپنے جمعداروں کو جگایا وہ بچارے مشق نہ ہونے کے باعث صفائی کا کام بھول گئے تھے ان کو نئے سرے جھاڑو لگانا سکھایا گیا کچھ لوگ بازار کی طرف دوڑے کہ ابے اٹھاؤ یہ خوانچہ یہاں کیوں لگا رکھا ہے اے میاں جالی کے بغیر گوشت اور دہی بیچ رہے ہو؟ہم نے خدا کی قسم آج دیکھا ورنہ کبھی اجازت نہ دیتے اے مسٹر دکاندار یہ کیا چھجہ نکال رکھا ہے اپنی کھال میں رو۔

حضور دھوپ سے بچنے کے لیے ذرا سا سایہ کرلیا ہے۔“نواب کا بچہ۔دھوپ لگتی ہے ہٹا اس ٹین پاٹ کو۔ہم نے یہ کرامت دیکھی اور قائل ہوگئے کہ ایں کا راز آیدومردوں چنیں کنندہ فوراً حضرت مولانا تنہیبہ الغافلین عرف ڈنڈا پیر کے ہاتھ پر بیعت کی کہ ڈنڈا پیر ہے بگڑیاں تگڑیاں دا یہ کرامت نہیں تو اور کیا ہے کہ دیواریں چھاپنے والے ان محکموں کی آنکھوں کے سامنے دیواریں چھاپتے تھے اور پھر انہی دیواروں کے سایے کو اپنی ضروری اور غیر ضروری حاجات سے مشرف کرتے تھے اب یکایک ان محکموں کو احساس ہوا کہ یہ تو بری باتیں ہیں رفتہ رفتہ بقول حفیظ جالندھری ہر بری بات بری بات نظر آنے لگی چند روز پہلے تو بسوں کا دھواں ہرگز مضر صحت نہ تھا مشام جاں کو تازہ کرتا تھا مگر اب شہریوں کی صحت کے لیے خطر ناک ہوگیا 26 مارچ کو ہمارے گھر میں پہلی بار دودھ پر بالائی آئی دو تین دن میں ہمیں بھی خیال آیا کہ ہاں بھئی پڑھائی بھی ہونی چاہیے کہ بے علم نتواں خداشناخت اگر ہماری آنکھوں میں سرمہ سلیمانی سلائی نہ لگائی جاتی تو یہ ساری حقیقتوں کے دفینے ہمیں کیسے نظر آتے ایسے میں جانے کون تھا جس نے بلدیہ سے جامخبری کی کہ ناظم آباد کے علاقے میں کچھ لوگوں نے اپنے گھروں کے سامنے خالی جگہ میں کہیں کہیں گھاس لگا رکھی ہے شام کو اس پر کرسی بچھا کر بیٹھ جاتے ہیں بعضوں نے تو پھولوں کے پودے بھی لگارکھے ہیں درودیوار پر سبزہ اگ رہااٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی پہلے تو کے ایم سی والوں کو یقین نہ آیا کہ ان کے دور میں ایسا اندھیرا ہوسکتا ہے ان کا تو حکم تھا کہ سارے شہر میں سوائے خاک کے کچھ نہ اڑے اور سوائے کتوں کے گلیوں میں کوئی آزاد نہ نہ گھومے نہ کسی کو کاٹے اب احساس فرض جو جاگا تو ان کو سب جگہ ہرا ہی ہرا نظر آنے لگا فوراً پیادے دوڑے کہ اکھاڑو پودے کھودو گھاس خبردار جو کوئی تنکا بھی ہریالی کا تمہارے گھروں کے سامنے نظر آیا یہ تمہارے باوا کی جگہ ہے جو یوں گل کھلارہے ہیں اپنے باورچی خانے میں یا غسل خانے میں جو چاہے کاشت کرو ہم منع نہیں کرتے بشرطیکہ کہ اس میں پانی نہ دو پانی کا توڑا ہے اور یہ توڑا صرف ناظم آباد کے پودوں کی وجہ سے ہے دوسری سوسائیٹیوں کے امراء تو اپنے باغیچوں کو ڈرائی کلین کراتے ہیں تو کون میں خواہ مخواہ ہمارے گھر کے باہر نہ کوئی تجاوز نہ کوئی گھاس پات ایک پارک ضرور سامنے ہے اور اس میں شک نہیں کہ اس کے ایک کونے میں کچھ گھاس وغیرہ ہے کچھ پودے بھی ہیں لیکن یہ کے ڈی اے کا ہے ان لوگوں کو پکڑئیے اور مرغا بنائیے ہماری بلا سے ہمیں وردیوں اٹھا کہ ناظم آباد ہمارا قریبی ہمسایہ ہے ہم سرودخانہ ہمسایہ سے کہاں تک بے بہرہ رہ سکتے ہیں آج کل اس علاقے میں جدھر جائیے لوگ گل بکاؤ لی کی مثنوی پڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔


”ہے ہے مرا باغ لے گیا کون“
ہے ہے مجھے داغ دے گیا کون“
”سنبل مرا تازیہ لانا“
”سوسن اسے دار پر چڑھانا“
سبزہ ہماری کمزوری ہے پودے ہوا کی عفونت اور طبیعت کی خشونت دور کرتے ہیں مسلمان اس ملک میں آئے باغ لگاتے گئے ہندو تو پتھر کی مورتیاں پتھر کے مندر اور پتھر کے فرش بنانے کے علاوہ کچھ نہ جانتے تھے مسلمان تو خود اپنی طبیعت میں باغ و بہار ہوتا ہے گلر خوں کو دیکھ کر ہم جیتے ہیں سروقدوں کے سائے میں جی کی ٹھنڈک پاتے ہیں سبزہ پسند کرنے کی کئی وجہیں ہیں کچھ اس لیے مہ آنکھوں میں تراوٹ آتی ہے کچھ اس لیے کہ پاکستان کا قومی رنگ سبز ہے اور کچھ اپنی شاعری کے حوالے سے۔


”تو بھی ہرے دریچے والی آجا برسر بام ہے چاند“
ہر کوئی جگ میں خود سا ڈھونڈے تجھ بن بے آرام ہے چاند“مسافر غریب ایک رستے میں تھا پیدا تھک گیا تو دعا کی کہ یا خدا سواری عنایت کر یکایک ایک سوا ر کہیں سے نمودار ہوا اس کے ساتھ ایک الل بچھیڑا بھی تھا اس نے مسافر کے ایک کوڑا رسید کیا اور کہا اے شخص یہ بے زبان تھک گیا ہے اسے اپنے کاندھے پر اٹھا اورمیرے پیچھے پیچھے چلا آ اس نے کہا واہ بھئی واسخن فہمی عالم بالا معلوم شد سواری مانگی تھی نیچے کے لیے مل گئی اوپر کے لیے خیر اس میں تو مسافر کا قصور تھا اس نے دعا ہی مبہم الفاظ میں مانگی تھی اوپر نیچے کی تشخیص نہ کی تھی لیکن ہم نے تو اس روز کے کالم میں بالوضاحت لکھ دیا تھا کہ جمعدار لوگ ہمارے محلے میں کوڑا سڑک پر پھیلا کر پھینکتے ہیں ہے کوئی والی وارث اس محلے کا تلافی کی بھی ظالم نے تو کیا کی ٹیلیویژن پر اشتہار دے دیا کہ شہر کی صفائی میں بلدیہ کا ہاتھ بٹائیے اچھا بھئی ہم تیار ہیں اے میاں ابراہیم اے حضرت انعام درانی صاحب نصر اللہ خان ہوت اور یاارشاد احمد خاں اٹھاؤ اپنی اپنی نوکریاں اور لگاؤ کارپوریشن کے دفتر کے سامنے جھاڑو۔

Your Thoughts and Comments