Hostel Main Parhna

ہاسٹل میں پڑھنا

ہفتہ اکتوبر

Hostel Main Parhna

پطرس بخاری

خدا کا یہ فضل ہم پر کب اور کس طرح ہوا، یہ سوال ایک داستان کا محتاج ہے۔

جب ہم نے انٹرنس پاس کیا تو مقامی اسکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب خاص طور سے مبارک بعد دینے کے لئے آئے۔

(جاری ہے)

قریبی رشتیداروں نے دعوتیں دیں۔ محلے والوں میں مٹھائی بانٹی گئی اور ہمارے گھر والوں پر یک لخت اس بات کا انکشاف ہوا کہ وہ لڑکا جسے آج تک اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے ایک بیکار اور نالائق فرزند سمجھ رہے تھے۔

در اصل لامحدود قابلیتوں کا مالک ہے، جس کی نشونما پر بے شمار آنے والی نسلوں کی بہبودی کا اناصار ہے۔

چنانچے ہماری آئندہ زندگی کہ متلق طرح طرح کی تجویجوں پر غور کیا جانے لگا۔

تھرڈ ڈویزن میں پاس ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی نے ہم کو وظیفہ دینا مناسب نہ سمجھا۔

چونکہ ہمارے خاندان نے خدا کے فضل سے آج تک کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا اس لئے وظیفے کا نہ ملنا بھی خصوصاً ان رشتے داروں کے لئے جو رشتے کے لحاظ سے خاندان کے مضافات میں بستے تھے، فخرو مباہات کا باعث بن گیا اور ’’مرکزی رشتے داروں‘‘ نے تو اس کو پاس وضع اور حفظ مراتب سمجھ کر ممتحنوں کی شرافت ونجات کو بے انتہا سراہا۔

برم حال ہمارے خاندان میں فالتو روپیے کی بہتات تھی، اس لئے بلاتکلف یہ فیصلہ کر لیا گیا کہ نہ صرف ہماری بلکہ ملک وقوم اور شائد بنی نوع انسان کی بہتری کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایسے ہونہار طالب علم کی تعلیم جاری رکھی جائے۔

اس بارے میں ہم سے بھی مشورا لیا گیا۔ عمر بھر میں اس سے پہلے ہمارے کسی معاملے میں ہم سے رائے طلب نہ کی گئی تھی، لیکن اب توحالات بہت مختلف تھے۔

اب تو ایک غیر جانب دار اور ایمان دار مصنف یعنی یونیورسٹی ہماری بے دار مغزی کی تصدیق کر چکی تھی۔

اب بھلا ہمیں کیوں نظر انداز کیا جا سکتا تھا۔ ہمارا مشورہ یہ تھا کہ فوراً ولایت بھیج دیا جائے۔

ہم نے مختلف لیڈروں کی تقریروں کے حوالے سے یہ ثابت کیا کہ ہندستان کا طریق تعلیم بہت ناقص ہے۔

اخبارات میں سے اشتہار دکھا دکھا کر یہ واضح کیا کہ ولایت میں کالج کی تعلیم کے ساتھ ساتھ فرصت کے اوقات میں بہت تھوڑی تھوڑی فیس دے کر بیک وقت جرنلزم، فوٹو گرافی، تفیہم و تالیف، دندان سازی، عینک سازی، ایجنٹوں کا کام، غرض یہ کہ بے شمار مفید اور کم خرچ میں بالا نشیں پیشے سیکھے جا سکتے ہیں اور تھوڑے عرصے کے اندر انسان ہر فن مولا بن سکتا ہے۔

لیکن ہماری تجویز کو فوراً رد کر دیا گیا، کیوں کہ ولایت بھیجنے کے لئے ہمارے شہر میں کوئی روایات موجود نہ تھیں۔

ہمارے گرد ونواح میں سے کسی کا لڑکا ابھی تک ولایت نہ گیا تھا اس لئے ہمارے شہر کی پبلک وہاں کے حالات سے قتعاً ناواقف تھی۔

اس کے بعد پھر ہم سے رائے طلب نہ کی گئی اور ہمارے والد، ہیڈ ماسٹر صاحب، تحصیل دار صاحب ان تینوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں لاہور بھیج دیا جائے۔

جب ہم نے یہ خبر سنی تو شروع شروع میں ہمیں سخت مایوسی ہوئی، لیکن ادھر ادھر کے لوگوں سے لاہور کے حالات سنے تو معلوم ہوا کہ لندن اور لاہور میں چنداں فرق نہیں۔

بعض واقف کار دوستوں نے سینیما کے حالات پر روشنی ڈالی۔

بعض نے تھیٹروں کے مقاصد سے آگاہ کیا۔ بعض نے ٹھنڈی سڑک وغیرہ کے مشاغل کو سلجھا کر سمجھایا۔

بعض نے شاہد رے اور شالا مار کی ارمان انگیز فضا کا نقشہ کھینچا چنانچے جب لاہور کا جغرافیہ پوری طرح ہمارے ذہن نشین ہو گیا تو ثابت یہ ہوا کہ خوش گوار مقام ہے اور اعلا درجے کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے بے حد موزوں۔

اس پر ہم نے اپنی زندگی کا پروگرام وضع کرنا شروع کر دیا۔

جس میں لکھنے پڑھنے کو جگہ تو ضرور دی گئی لیکن ایک مناسب حد تک، تاکہ طبیعت پر کوئی ناجائز بوجھ نہ پڑے اور فطرت اپنا کام حسن و خوبی کے ساتھ کر سکے۔

لیکن تحصیل دار صاحب اور ہیڈ ماسٹر صاحب کی نیک نیتی یہیں تک محدود نہ رہی۔

اگر وہ صرف ایک عام اور مملن سا مشورہ دے دیتے کہ لڑکے کو لاہور بھیج دیا جائے تو بہت خوب تھا، لیکن انہوں نے تو تفصیلات میں دخل دینا شروع کر دیا اور ہاسٹل کی زندگی اور گھر کی زندگی کا مقابلہ کر کے ہمارے والد پر یہ ثابت کر دیا کہ گھر پاکیزگی اور طہارت کا ایک کعبہ اور ہاسٹل گناہ ومعصیت کا ایک دوزخ ہے۔

ایک تو تھے وہ چرب زبان، اس پر انو ں نے بے شمار غلط بیانیوں سے کام لیا چنانچے گھر والوں کو یقین سا ہو گیا کہ کالج کا ہوسٹل جرائم پیشہ اقوام کی ایک بستی ہے اور جو طلبہ باہر کے شہروں سے لاہور جاتے ہیں اگر ان کی پوری نگہداشت نہ کی جائے تو وہ اکثر یا تو شراب کے نشے میں چور سڑک کے کنارے کسی نالی میں گرے ہوئے پائے جاتے ہیں یا کسی جوئے خانے میں ہزار ہا روپے ہار کر خود کشی کر لیتے ہیں یا پھر فرسٹ ایر کا امتحان پاس کرنے سے پہلے دس بارہ شادیاں کر بیٹھتے ہیں۔

چنانچے گھر والوں کو یہ سوچنے کی عادت پڑ گئی کہ لڑکے کو کالج میں تو داخل کرایا جایا لیکن ہاسٹل میں نہ رکھا جائے۔

کالج ضرور، مگر ہاسٹل میں ہر گز نہیں۔ کالج مفید، مگر ہاسٹل مضر۔

وہ بہت ٹھیک، مگر یہ ناممکن۔ جب انہوں نے اپنی زندگی کا نصب العین ہی بنا لیا کہ کوئی ایسی ترکیب ہی سوچی جائے، جس سے لڑکا ہوسٹل کی زد سے محفوظ رہے تو کوئی ایسی ترکیب کا سوجھ جانا کیا مشکل تھا۔

ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ چنانچے از ہد غور و خوض کے بعد لاہور میں ہمارے ایک ماموں دریافت کیے گئے اور ان کو ہمارا سر پرست بنا دیا گیا۔

میرے دل میں ان کی عزت پیدا کرنے کے لئے بہت سے شجروں کی ورق گردانی سے مجھ پر یہ ثابت کیا گیا کہ وہ واقعی میرے ماموں ہیں۔

مجھے بتایا گیا کہ جب میں شیرخوار بچہ تھا تو وہ مجھ سے بے انتہا محبت کیا کرتے تھے، چنانچہ فیصلہ یہ ہوا کہ ہم پڑھیں کالج میں اور رہیں ماموں کے گھر۔

اس سے تیلں علم کا جو ایک ولولہ سا ہمارے دل میں اٹھ رہا تھا، وہ کچھ بیٹھ سا گیا۔

ہم نے سوچا یہ ماموں لوگ اپنی سر پرستی کے زعم میں والدین سے بھی زیادہ احتیاط برتیں گے، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارے دماغی اور روحانی قویٰ کو پھلنے پھولنے کا موقع نہ ملے گا اور تعلیم کا اصلی مقصد فوت ہو جائے گا، چنانچے وہی ہوا جس کا ہمیں خوف تھا۔

ہم روز بروز مرجھاتے چلے گئے اور ہمارے دماغ پر پھپھوند سی جمنے لگی۔

سنیما جانے کہ اجازت کبھی کبھار مل جاتی تھی لیکن اس شرط پر کہ بچوں کو بھی ساتھ لیتا جاؤں۔

اس صحتا میں بھلا میں سینیما سے کیا اخذ کر سکتا تھا۔

تھیٹر کے معاملے میں ہماری معلومات اندر سبھا سے آگے بڑھنے نہ پائیں۔

تیرنا ہمیں نہ آیا کیوں کہ ہمارے ماموں کا ایک مشہور قول ہے کہ ’’ڈوبتا وہی ہے جو تیراک ہو‘‘ جسے تیرنا

Your Thoughts and Comments