Hum Shakal

ہم شکل

جمعہ جنوری

Hum Shakal
عطاء الحق قاسمی:
ہماری فلموں کا ایک پسندیدہ موضوع جڑواں بھائیوں کی کہانی بھی ہے جو اتنے ہم شکل ہوتے ہیں کہ ان کی علیحدہ شناخت شکل ہوجاتی ہے ان فلموں میں قدرے مبالغہ سے کام لیا جاتا ہے تاہم حقیقی زندگی میں بھی ایسے بہت سے افراد موجود ہیں جن میں سے ایک کو دیکھیں تو اس پردوسرے کا گمان ہوتا ہے ہمارے ماڈل ٹاؤن لاہور میں دو ایڈوکیٹ بھائی ثناء اللہ خان شاہد اور ظفر اللہ خان شاہد رہا کرتے تھے غالباً اب بھی وہیں رہتے ہیں ایک تو ان کی شکل ایک دوسرے سے بہت ملتی جلتی تھی اور پھر اوپر سے وہ لباس بھی ہو بہو ایک جیسا ہی پہنتے تھے ایک دفعہ ایک بھائی کی قمیض پر روشنائی گرگئی تو دوسرئے نے بھی اپنی قمیض پر عین اسی جگہ روشنائی گرالی لوگ ان بھائیوں کو ع‘غ کہتے تھے یعنی ان میں اگر فرق تھا تو صرف ایک نقطے کاتھا اسی طرح میری ایک عزیزہ کے دو جڑواں بیٹے فاروق اور عثمان مبالغے کی حد تک ہم شکل ہیں اس درجہ ہم شکل کہ ان کے والدین دھوکہ کھا جاتے ہیں اور یہ بچے بھی جب شرارت کے موڈ میں ہوں تو اپنا غلط بتاکر صورت حال کا لطف لیتے ہیں میرے دوست اجمل نیازی اور ان کے بھائی اصغر نیازی بھی حددرجہ ہم شکل ہیں چنانچہ وہ بسا اوقات ایک دوسرے کے حصے کی مبارکباد بھی وصول کرتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح آج کل ٹی وی اداکار ایم شریف پوری سنجیدگی سے مبارکباد وصول کرنے میں مشغول ہیں وہ مجال ہے کسی کو بتائیں کہ بھئی میں ظفر اقبال نہیں ہوں لہٰذا اردو سائنس بورڈ کی سربراہی کی داد مجھے نہ دو اور ایسا وہ انتقا ماً کررہے ہیں کیونکہ برادرم ظفر اقبال ایک عرصے تک ان کے ڈراموں کی داد وصول کرتے رہے ہیں!ہم شکلی کے ضمن میں میں نے ایک عجیب و غریب چیز کا مشاہدہ کی ہے اور وہ کہ اگر میاں بیوی محبت غیر معمولی طور پر بڑھ جائے تو ان کی شکلیں بھی اس حد تک ملنے لگتی ہیں کہ وہ بہن بھائی لگتے ہیں اس ضمن میں بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتیں ہیں لیکن ایسا کرنا کچھ مناسب نہیں لگتا ایک اور چیز جو میں نے مشاہدہ کی ہے اوروہ یہ کہ اگر میاں بیوی میں محبت غیرمعمولی طور پر بڑھ جائے تو ان کی شکلیں بھی اس حد تک ملنے لگتی ہیں کہ وہ بہن بھائی لگتے ہیں اس ضمن میں بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتیں ہیں لیکن ایسا کرنا کچھ مناسب نہیں لگتا ایک اور چیز جو میں نے مشاہدہ کی وہ یہ کہ اگر کوئی خوبصورت خاتون کسی بدشکل مرد سے بیاہی جائے تو آہستہ آہستہ اس کی خوب صورتی کو گہن لگنا شروع ہوجاتا ہے اوروہ اپنے میاں کے لائق ہوجاتی ہیں ایسا پسندیدگی کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ والا محارو اپنی اثر آفرینی دکھاتا ہے!ایک اور چیز ہم شکلوں کا جغرافیہ تبدیل کرتی ہے وہ غربت یا امارت ہے غریبوں کے خوبصورت بچے خوراک نہ ملنے کی وجہ سے روبہ زوال ہونے لگتے ہیں ان کے خدوخال ماند پڑنے لگتے ہیں اور نین نقش ٹیڑھے میڑھے ہوجاتے ہیں اس کے برعکس امراء کے بچے جو بہتر غذا بے فکری اور آسودگی کے ماحول میں پرورش پاتے ہیں اگرمیلے میلے بھی ہوں تو رفتہ رفتہ روشن روشن لگنے لگتے ہیں اگر کسی کے گھر دانے زیادہ ہونے سے اس کے”کملے“بھی سیانے ہوتے ہوسکتے ہیں تو شکلیں ری کنڈیشنڈ کیوں نہیں ہوسکتیں؟بات ہم شکلی سے چلے تھی اور صورتحال یہ ہے کہ یہ ہم شکلی زندگی کے ہر شعبے میں موجود ہے مثلاً دیندار وردنیا دار طبقے میں بظاہر کتنی دوری ہے لیکن سیاست میں آکر یہ کس درجہ ہم شکل ہوگئے ہیں اب مولانا فضل الرحمان اور محترمہ بے نظیر بھٹو میں کیا فرق رہ گیا ہے؟دو فرقہ پرست خواہ آپس میں کتنالڑیں بھڑیں لیکن عمل اور سوچ کے آئینے میں ان کی صورتیں ایک جیسی ہیں ہمارے روشن خیال دوست مذہب سے وابستہ افراد پر ملا کی پھبتی کستے ہیں کبھی ان کے جامدنظریات پر نظر ڈالیں تویہ ان سے بڑے ملا نظر آئیں گے اور تو شاعری میں بڑے بڑے ترقی پسند شاعر اجتہاد کی بجائے اپنے موقف کی حماقت میں میر غالب اوراقبال کی سند بالکل اسی طرح پیش کرتے ہیں جس طرح ہمارے علماء اکابرعلماء کی سند پیش کرتے ہیں اور بچارے اپنے اس روئیے کی وجہ سے ملا کہلاتے ہیں یہ ہم شکلی زندگی کے تمام شعبوں میں موجود ہے۔

(جاری ہے)

کیا حکومت اور اپوزیشن کے بہت سے ارکان اپنی کرتوتوں کے آئینے میں ہم شکل نہیں ہیں؟کیا قانون شکن اور قانون کے محافظ ہم شکل ہوکر نہیں رہ گئے کیا ہمارے دانشوروں اور جاہلوں کی شکلیں اب ایک جیسی نہیں ہیں کیا سیکولر اور مذہبی حکومتوں کے رویوں میں کوئی فرق باقی رہ گیا ہے؟پاکستان میں اگر کسی مسیحی باشندے پر مذہب کی بنیاد پر مقدمہ بنتا تو امریکہ اور برطانیہ کی حکومتیں ایک دم ’مسیحی“مملکتوں کی صورت اختیار کرکے پاکستان کے خلاف مورچہ بند ہوجاتی ہیں سلمان رشدی اور سلیمہ نسرین اگر اسلام کا تمسخر اڑاتے ہیں تو وہ دنیا بھر کی مسیحی حکومتوں کے چہیتے بن جاتے ہیں کیا سیکولر اور بنیاد پرستوں کی شکلیں ایک جیسی ہوکر نہیں رہ گئیں؟روس اور برطانیہ کے خدوخال بظاہر ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن بوسینا میں یہ ایک دوسرے سے اتنے مشابہ ہیں کہ ان میں فرق مشکل ہوجاتا ہے اور اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم شکلیاں دن بدن مضبوط ترہوتی جارہی ہیں اور ان کا کوئی ”توڑ“بھی نظر نہیں آتا ایسے مواقع پر سب سے زیادہ اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے‘
”خداوندا!یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں“
”کہ درویشی بھی عیادی ہے سلطانی بھی عیاری“
مگر شعر سے ان درویشوں اور ان عیاروں کا راستہ نہیں روکا جاسکتا!

Your Thoughts and Comments