Iqbal Ashfaq Ahmed Aur Molla

اقبال‘اشفاق احمد اور ملا

عطاالحق قاسمی منگل فروری

Iqbal Ashfaq Ahmed Aur Molla

اور ان کی جگہ کشورناہید کو بٹھادیا گیاجب حکومت بدلی تو اشفاق احمد دوبارہ خیمے میں تھے اورکشور ناہید باہرتھیں مگر اس ساری صورت حال سے فائدہ اگر کسی کو پہنچا ہے تو وہ پیرومرشد اقبال ہیں اور وہ اس طرح کہ اشفاق احمد نے گزشتہ دنوں ایک اخباری انٹرویو میں اقبال کے بارے میں کچھ متنازعہ باتیں کہیں جس پر اقبال کے سلسلے میں پہلی بار مظفر علی سید اور انتظار حسین کے خون نے جوش مار اانہوںنے راشن لے کر اشفاق پر چڑھائی کردی اور یوں کشور ناہید کی دوستیاں اقبال کے کام آئیں ورنہ میرے ان دوستوں کو تو میر کی غم پسندی ہی سے فرصت نہیں ملتی تھی کہ اقبال کی رجائیت کی طرف دھیان دے سکتے ویسے تو اقبال کے حوالے سے جو باتیں اشفاق احمد نے کہیں ہیں یہ ان کا تازہ نہیں خاصا پرانا موقف ہے اور میں ان کے اس موقف سے کبھی متفق ہوسکا اشفاق احمد کا کہنا ہے کہ اصلی تے وڈا اقبال وہی ہے جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتا ہے اور جذب مستی کے عالم میں الہامی شعر کہتا ہے انہیں اس اقبال سے اتفاق نہیں ہے جو دن کے وقت مسائل پر سوچ بچار کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں خطبات تحریر کرتا ہے دوسرے لفظوں میں انہیں سوزوسازرومی اچھا لگتا ہے لیکن بیچ و تاب رازی پروہ بیچ و تاب کھاتے ہیں حالانکہ اقبال کا خمیر جذبے اور فکر سے اٹھا ہے وہ عشق کے زبردست پر چار کرتے ہیں لیکن خرد کو بھی رہنما مانتے ہیں خواہ یہ حیلے بہانے ہی سے منزل تک کیوں نہ پہنچائے،
”ہر دو بمنزلے رواں‘ہر دو امیر کارواں“
”عقل بہ حیلہ می برد“ عشق بروکشاں کشاں“
ویسے معاملہ اگر یہیں تک رہتا تو بھی ٹھیک تھا لیکن اشفاق احمد نے آگے چل کر یہ بھی کہہ دیا کہ اسلامی قوانین کی تشریح کا حق جاوید اقبال کا نہیں بلکہ صرف ملا کو حاصل ہے جس نے اس میں اسپیشلائز کیا ہے حالانکہ جس اقبال نے ملا کو کورگیدا ہے دو سوزو ساز رومی والا اقبال ہے جس کے بات اشفاق احمد کو اپیل کرتی ہیں بہر حال اس ضمن میں دلیل اشفاق صاحب کی یہ ہے کہ ایک شخص جس نے لاءمیں سب سے بڑی ڈگری حاصل کی ہو وہ بہت پڑھا لکھا بھی ہوا اور روشن خیال بھی ہو لیکن اس کی ان تمام خوبیوں کے باوجود اسے یہ حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ کسی مریض کے گردے کا آپریشن بھی کر ڈالے؟بات اشفاق احمد کی بہت مزے کی ہے لیکن پہلے وہ یہ تو ثابت کریں کہ انسان اور خدا کے درمیان معاملات طے کرانے کے لئے کسی مڈل مین کی ضرورت نہیں پڑتی حتیٰ کہ نکاح اور نماز جنازہ تک کے لئے کسی اسپیشلائزیشن کی ضرورت نہیں چنانچہ ایک نکاح تو فیض صاحب نے بھی پڑھادیا تھا اور گلوسکو کی جامع مسجد میں ایک نماز ہم نے احمد ندیم قاسمی کی امامت میں پڑھی اگر ہم تاریخ کی طرف لوٹیں تو پتہ چلتا ہے کہ جناب رسالت مابﷺ کے زمانے میں اور خلفائے راشدین کے زمانے میں ملا نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی جو حاکم ہوتا تھا وہ سپہ سالار بھی ہوتا تھا جج بھی ہوتا تھا امام بھی ہوتا تھا یہ سارے خانے تو ہم لوگوں نے زوال کے زمانے میں بنائے ہیں۔

(جاری ہے)

اگر اشفاق صاحب اس جواب میں کہیں کہ اگر خانے بن ہی چکے ہیں تو پھر ملا کا کام ملا کے سپرد کردیا جائے تو اس کے لیے پہلے ملا کو اپنی کریڈبیلٹی ثابت کرنا ہوگی گزشتہ چودہ سو برس میں اورخصوصاً گزشتہ نصف صدی کے دوران اسلام کو انتہائی پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے جس کے لئے پوری سنجیدگی کے ساتھ زبردست اجتہاد کی ضرورت تھی اور یہ اجتہاد اسی صورت میں ممکن تھا جب ملاسائنسی دور سے پیدا شدہ پیچیدگیوں سے پوری طرح واقف ہوتالیکن ایسا نہ ہونے کی صورت میں ہم کسی ایک مسئلے میں بھی اجتہاد سے کام نہیں لے سکے بلکہ انتہائی متشدد رویہ اپنانے کے نتیجے میں ذہنوں میں تشکیک کا زہر پھیلتا جارہا ہے اقبال نے اپنے خطبات میں اجتہاد کی اہمیت پر جس شدد مد سے اظہار کیا ہے افسوس کہ مسجد کے منبر سے کلام اقبال ترنم سے پڑھے جانے کے باوجود اس کی طرف توجہ نہیں دی گئی اقبال قانون سازی کا حق پارلیمنٹ کو دیتے ہیں مگر مشائح کی اکثریت انہیں ولی اللہ ماننے کے باوجود یہ حق اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے اگر خطبات والے اقبال کی باتیں اتنی غیر اہم ہیں تو انتظار حسین نے بڑا اچھا سوال اٹھایا ہے کہ پاکستان کا تصور خطبٰہ الٰہ آباد میں دیا تھا تو پھر اسے بھی کیوں نہ رد کیا جائے؟اشفاق احمد نے بہت عرصہ قبل نوائے وقت کے لئے مجھے انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملا ان کا ہیرو ہے ملا میرا بھی ہیرا ہے لیکن وہ ملا جو اسلام کی خود ساختہ تعبیروں سے عوام کا گلا گھونٹنے کے درپے نہیں بلکہ اس اسلام کا داعی ہے جو دنیا کے لیے امن و سلامتی کا پیغام لے کر آیا تھا بدقسمتی سے ہمارا ملا اپنا سارا زور اس اسلام کو نافذ کرنے میں مصروف ہے جس کا دس کروڑ عوام کے دکھوں سے کوئی تعلق نہیں ابھی تک دنیا میں جتنے اتحاد وجود میں آئے ہیں وہ سب کے سب حقوق اللہ کے ضمن میں ہیں حقوق اللہ کی تشریح بھی ملا کی اپنی ہے جب کہ حقوق العباد کے سلسلے میں اس نے کبھی پیش رفت کی ہو اور اس کے لیے تحریک چلائی ہو تو براہ کرم مجھے مطلع کیا جائے قائداعظم اور اقبال کا خواب پاکستان کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں ایک فلاحی مملکت بنانا تھااشفاق احمد اور ہم سب کو اس پاکستان کا قیام کی کوشش کرنا چاہیے ملا کو ایسے یا پاکستان سے کوئی دلچسپی نہیں جس میں لوگوں کے مسئلے حل ہوتے ہیں اگر اشفاق احمد ایسے صاحب نظر دانشور بھی اس سے غافل ہوگئے اور انہوں نے اپنی لگام ملا کے ہاتھ میں دے دی تو جس اسلام کی خاطر لاکھوں عصمتیں ہم نے قربان کی تھیں ان کا خون بہا کون ادا کرے گا؟اور آخر میں اشفاق احمد سے ایک ذاتی بات یہ ہے کہ بہت پیارے خان صاحب اگر آپ نے ملا کو قانون سازی کا اختیار تفویض کردیا تو آپ کے کچھ افسانے اور سفر نامے ضبط ہوجائیں گے خصوصاً سفردرد میں ہاتھی اورہتھنی والا قصہ قدرت اللہ شہاب بھی اپنے تصوف کے باوجود اس کی زد میں آئیں گے اور ممتاز مفتی کی تو بیشتر تحریریں ضبط ہوسکتی ہے بلکہ غالب امکان تو یہ ہے کہ خود ہی انہیں کو ضبط کرلیا جائے لہٰذا آپ کو میر غالب اور اقبال کی روحوں کا واسطہ آپ کو اپنی جہالت پسندی کا واسطہ اس ملک کے دس کروڑ عوام کے علاوہ شاعری فلم ڈرامہ مصوری اور موسیقی پر رحم فرمائیں بے زبان عوام اور یہ بے زبان علوم و فنون آپ کو دعائیں دیں گے۔

Your Thoughts and Comments