Iss Liye Tasweer Jana Hum Ny Khichwani Chor Di

اِس لیے تصویرِجاناں ہم نے کھنچوائی نہیں

جمعرات دسمبر

Iss Liye Tasweer Jana Hum Ny Khichwani Chor Di
ابنِ انشاء:
ایک زمانہ تھا کہ لوگ مضمون کے ساتھ تصویر تو بڑی چیز ہے نام تک نہ دیا کرتے تھے بلکہ سند باد جہازی وغیرہ لکھ کر کام چلاتے تھے مرحوم مولانا عبدالحمید سالک کو تو فلمی نام دینا بھی پسند نہ تھا ہم نے ان کے مشہور و مقبول کالم”افکار و حوادث“پر کبھی ان کانام نہیں دیکھا ہاں پڑھنے والے جانتے تھے یعنی شدہ شدہ جاننے لگے تھے اور چونکہ ان دنوں پیری مریدی کا رواج تک ایسا تھا کہ شاعروں میں استادی شاگردی جاں نشینی وغیرہ کے مسائل پر سر پٹھول ہوجاتی تھی لہٰذا لوگوں نے پیر افکار کا نام دے رکھا تھا لوگ دعا کراتے تھے تعویذ مانگتے تھے اور پھر آفسٹ کی چھپائی کی برکت سے تصویر کا رواج نکلا اب مضمون ہو نہ ہو تصویر ہونا ضروری ہے ایک روز ہم نے ایک صاحب کی تصویر چھپی دیکھی جس کے ساتھ فقط ایک معذرتی ٹوٹ تھا کہ آج حضرت حمام شکر قندی اپنی علالت کی وجہ سے کالم نہیں لکھ سکے اب یہ ہونے لگا کہ کالم نگار یا مضمون نگار اپنی تصویر دے کر بھول جانے لگے جو مونچھوں والا تھا وہ داڑھی والا ہوگیا اور جو داڑھی والا تھا اس نے چارابرو کا صفایا کرادیا،لیکن تصویر وہی رہی کہ جو تھی ہمارے دوست انتظار حسین نئی تصویر کھنچوانا شرعاً ممنوع تو نہیں مگر وہ ضرور سمجھتے ہیں اس لے مدتوں ان کی ایک ہی تصویر چلتی رہی انہی دنوں ہمارے مہربان اور مخدوم م۔

(جاری ہے)

ش نے داڑھی رکھی اور چونکہ اب ٹو ڈیٹ آدمی ہیں تصویر بھی اپنے کالم پر داڑھی والی دی اس قلب ماہیت کا پتا نہ تھا اس لیے شکایتاً لکھ گئے کہ عجوب ماجرا ہے انتظار حسین اپنے کالم پر اپنے بیٹے کی تصویر چھاپے جارہے ہیں ا ور م۔ش صاحب اپنے والد کی تصویر لگادیتے ہیں بعد میں ہم یہ جان کر شرمندہ ہوئے کہ دونوں اپنی اپنی تصویریں لگارہے تھے قصور فہم ہمارا تھا بعد میں پھر سنا کہ م۔

ش نے داڑھی منڈوالی اور انتطار حسین نے رکھ لی لیکن تصدیق نہ ہوسکی۔ہم نے جب کراچی کے ایک اخبار میں وقتاً فوقتاً لکھنا شروع کیا تو ہم تصویر کا تقاضا ہوا تصویر تو بڑی چیز ہے ہم نے نام کی بھی بڑی مشکل سے اجازت دی لیکن خیر اس چیز کے زیر اثر جسے پبلک کا پرزور اصرار کہتے ہیں لین اصل میں پبلک سے شخص مذکور کا اصرار ہوتا ہے تصویر پر بھی راضی ہوگئے اورپھر ایسے راضی ہوئے کہ بس لیکن وہ الگ قصہ ہے۔

کراچی کا وہ اخبار بندہوچکا ہے لوگ اس کے بند ہونے کی وجوہ میں ہمارا نام بھی لیتے ہیں لیکن یہ بات نہیں بے شک اشاعت اس کی ہمارے کالم کے زمانے ہی میں گرگئی تھی اور دن دونی رات چوگنی گھٹ رہی تھی لیکن اس میں علت و معلول کا رشتہ تلاش نہ کرنا چاہیے یہ بات اپنی جگہ ہے کہ اخبار مذکور(انجام)ہمارے لکھنا چھوڑنے کے بعد بند ہوا تھا جس میں ہم زوروشور اور ذوق و شوق سے لکھا کرتے تھے وہ امروز کراچی تھا لیکن اس کے بند ہونے کی وجوہ بھی دوسری تھیں ہمارا ان دنوں اس کا مضمون نگار ہونا امر اتفاقی تھا ہمیں اپنی تحریر کبھی یہ خوش گمانی نہیں ہوئی کہ وہ اتنی موثر ہے آخر اور پرچے جن میں ہم لکھتے ہیں چل ہی رہے ہیں۔

ہاں تو ذکر انجام میں لکھنے اور تصویر چھپوانے کا تھا جس کے انجام مکی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے فوری فائدہ اس کا یہ ہوا کہ اگلے مہینے جو مالک مکان کرایہ مانگنے آیا تو اس کا لہجہ بہت شریفانہ تھا بلکہ اس نے یہ کہا کہ اس مکان کو آپ اپنا ہی مکان تصور فرمائیے ہاں کرایہ ماہ بہ ماہ پابندی سے دیتے رہیے اور یہ میرے بیٹے کے ولیمے کی تصویر چھپوادیجیے علاقے کے بی ۔

ڈی ممبر نے بھی اس جمعرات کو محتاجوں مسکینوں میں تقسیم کرنے کے لیے ختم دلایا اس میں زردے کی لبالب بھری ہوئی ایک پلیٹ ہمارے لیے بھیجی ان دنوں بی ڈی کے الیکشن پھر ہونے والے تھے لہٰذا پلیٹ کے ساتھ یہ رقعہ بھی شامل تھا کہ اگر آپ آئندہ بھی مجھے قوم کی بے لوث خدمت کرنے کا موقع دلانے میں مدد کریں تو بے دام غلام رہوں گا بلکہ آپ کے اخبار کے لیے خریدار بھی فراہم کروں گا اگر لوگ برضاورغبت خریداری بھی قبول نہ کریں گے تو دیگر ذرائع بھی استعمال کرنے عارنہ ہوگاایک پڑوسی نے اپنے لڑکے کو بھیجا کہ پوچھ کے آؤ مسئلہ کشمیر کا اب کیا ہوگا ایک صاحب نے اپنا سلیمانی منجمن اخبار میں ریویو کے لیے ہمارے پاس بھیج دیا جس کے مسلسل استعمال کے بعد دانت نکلوانے کے لیے کسی دندان ساز کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رہتی مضبوط سے مضبوط دانت بلا تکلیف اور زنبورکے خود ہی نکل جاتے ہیں پھر ایک بزرگ نے اپنی چھڑی سے پھاٹک پر آ دستک دی اور کہا کہ یہ جو کوڑے کا ڈرم گلی کے موڑ پر پڑا ہے بہت بو دیتا ہے اسے اُٹھوائیے ہم نے کہا قبلہ یہ ہم نے نہیں رکھا نہ اس کی صفائی کی میونسپلٹی کی طرف سے ہمیں تنخواہ ملتی ہے جمعدار جھنڈا مسیح سے کہیے بولے میں کیوں کہوں آپ اخبار والے ہیں آپ کارپوریشن کے چئیرمین سے کہیے وہ ہیلتھ آفیسر سے کہے گاہیلتھ آفیسر داروغہ سے کہے گا اور داروغہ جھنڈا مسیح سے کہے گا آخر ہر کام کا ایک طریقہ ہوتا ہے ہمارے ملک میں یہی طریقہ ہے ہم نے وہ کوڑے کا ڈرم تو اٹھوادیا لیکن پھر جمعدار لوگ سارے محلے کا کورا ہمارے دروازے پر لاکر ڈالتے تھے اور تادم تحریر یہی کیفیت رہی۔

ایک روز تو ایک وفد بھی ہم سے ملنے آیا کہ انشاء صاحب آپ ہی ہیں جن کی یہ تصویر چھپی ہے ہم نے کہا من آنم کہ من دانم لیکن فرمائیے بولے ہم رکشا والے ہیں اور یہ ہمارا مطالبہ ہے جسے آپ نے اپنے اخبار میں چھاپا تو کوئی رکشا والا آپ کو نہیں بٹھائے گا محضر یہ تھا کہ پولیس جو آئے دن ہمارے میٹر چیک کرتی ہے یہ ہمارے شہری حقوق پر حملہ ہے اس کا مداد فقط یوں ہوسکتا ہے کہ بھارت کی طرح ہمارے ہاں بھی ایک رکشا وزیر ہو ہم نے کہا ہمیں معلوم نہیں وہاں ایسا کوئی وزیر ہے اس پر وفد کے سربراہ نے ہمیں اخبار دکھایا جس میں ایک تصویر تھی اور تصویر کے نیچے لکھا تھاشری چاون رکشا منتری بھارت ہم نے بہت ٹالنے کی کوشش کی یہاں رکشا کا مطلب موٹر رکشا نہیں بلکہ دفاع ہے لیکن وفد کو قائل نہ کرسکے ان کی دلیل بھی محکم تھی اور وہ یہ کہ دفاع کا سوال وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں باہر سے کوئی حملہ ہو یا حملے کا امکان ہو بھارت کو تو ہمیشہ کسی پر خود حملہ کرنا ہوتا ہے خواہ وہ گواہو یا چین ہو حیدر آباد ہو کہ جو نا گڑھ ہو لہٰذا چاون جی وزیر دفاع نہیں ہوں گے ضرور وزیر امورِ موٹررکشا ہوں گے وفد کے سربراہ نے یہ بھی واضح کردیا کہ اس کام کے لیے ملک میں موزوں آدمیوں کی کمی نہیں انہوں نے اپنی مثال بھی پیش کی یہ تو بات خواہ مخواہ لمبی ہوگئی کہنا یہ ہے کہ اپنی تصویر دینے سے ہم معذرت چاہتے ہیں صرف اپنی تصویر کی بات نہیں کررہے ہم تو ڈائجسٹوں پر چھپنے والی ایسی تمام تصویروں کے خلاف ہیں جن کو دیکھ کر بچے چٹ بیٹھے ہوں تو رونے لگتے ہیں اور رورہے ہوں تو چپ ہوجاتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments