Jaan Bachanay Ke Tareeqay

جان بچانے کے طریقے!

بدھ اپریل

Jaan Bachanay Ke Tareeqay
جان کی حفاظت تو شریعت کی رو سے بھی ضروری ہے چنانچہ ہمیں چاہیے کہ اپنی جان بچانے کے لئے منہ بند رکھیں کیونکہ شہر میں گردوغبار بہت ہے۔ ہم اگر منہ بند رکھیں گے تو گردوغبار سے بھی محفوظ رہیں گے البتہ منہ اگر مکمل طور پر بند رکھنا ممکن نہ ہو تو در میان میں تھوڑا بہت کھول بھی لیں تا کہ کم سے کم گردوغبار اندر جائے جین مت کے پیرو کار منہ پر کپڑا باندھ کر گھروں سے نکلتے ہیں۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ فضامیں موجود کیڑوں مکوڑوں کو بھی جو بلاوجہ منہ میں چلے جاتے ہیں ہلاک نہیں کرنا چاہتے۔ حالانکہ حقیقت حال یہ ہے کہ وہ ان کی جان بچانے کے بجائے اپنی جان بچانے کے لیے منہ پر کپڑا باندھ کر نکلتے ہیں۔ اور یوں روزانہ اس پاؤبھر مٹی سے محفوظ رہتے ہیں جو منہ کھولنے کی صورت میں معدوں میں پہنچ کر جم جاتی ہے اور انسانوں کی ہلاکت کا باعث بنتی ہے۔

(جاری ہے)

ویسے ہمارے نزدیک اگر مزید احتیاط مقصود ہو تو سروں پربھی کس کر رومال باندھ کر گھر سے نکلنا چاہیے کہ ایک تو ہوا تیز چلنے کی صورت میں سرننگا نہیں ہوتا اور دوسرا سرمیں خاک نہیں پڑتی۔ ہمارے سکھ بھائی تو اس سلسلے میں بہت محتاط ہیں وہ سربھی باندھ کر رکھتے ہیں منہ کو بھی‘ مونچھوں اور داڑھی سے ڈھاپنے رکھتے ہیں اور کچھ بھی پہنتے ہیں ان سطور میں سر پر ٹوپی رکھنے کا مشورہ ہم نے اس لئے نہیں دیا کہ ان دونوں ٹوپی ذرا سی ہوا میں سر سے اتر جاتی ہے کیونکہ سروں پر بال بہت کم رہ گئے ہیں۔

ہمارے ایک دوست کی ایک ودفعہ ”بال چر“ ہو گیا۔ جس کی وجہ سے اس کے سر کے بال اڑ گئے اور پھر سر کے بال بھی جڑ سے اکھٹر گئے۔ اس نے اپنے ایک ہمسائے کویہ صورت حال بتائی تو ہمسائے نے اسے ایک طبیب کا پتہ دیا اور کہا کہ ان کے پاس جاوٴ کیونکہ میرے اسیک عزیز دوست کو بھی بال چر ہو گیا تھا مگر اللہ نے بڑا کرم کیا۔ اس طبیب نے میرے دوست سے کہا تم پنچ وقت نماز پڑھا کرو اور سر پر ٹوپی رکھا کرو چنانچہ اس نے ایساہی کیا۔

اس پر ہمارے دوست نے اپنے ہمسائے سے پوچھا کہ اس سے تمہارے دوست کا بال چر ٹھیک ہو گیا؟ ہمسائے نے کہا کہ اللہ نے بڑا کرم کیا۔ بال چر تو ٹھیک نہیں ہوا مگر میرا دو دوست اب پنچ وقت نماز پڑھتا ہے اور سر پر ہمیشہ ٹوپی رکھتا ہے۔ مگرسچ پوچھیں تو ہمیں ایسے طبیب بالکل اچھے نہیں لگتے جو بال چر تو جوں کا توں رہنے دیں اور سارازذور نماز پڑھنے اور سر پرٹوپیاں پہنانے میں صرف کر دیں۔

خیر باتو بات یونہی درمیان میں آ گئی۔ ہم تو ان سطور میں جان بچانے کے طریقوں پر روشنی ڈال رہے تھے سو جان بچانے کا ایک بہترین طریقہ بھی ہے کہ کھانا ہمیشہ اعلی دسترخوان پر کھایا جائے۔ چھوٹے موٹے لوگوں کے ساتھ چھوٹے موٹے ہوٹلوں میں بیٹھ کر کھانا کھانے سے پیٹ کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ کیونکہ یہ کھانا حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق نہیں ہوتا۔

بڑے لوگوں کا ہم نوالہ و ہم پیالہ ہونے سے کم از کم پیٹ کی بیمار یاں نہیں ہوتیں صرف دل کی بیداری کا اندیشہ ہے بقول اقبال
”فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم ؟“
مگر اقبال کی سبھی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے کیونکہ اگر صاحبان اقتدار کا ساتھ دیا جائے تو بیماری دل‘ بھی ایک کوالیفکیشن بن جاتی ہے اور شکم کی بیماریوں سے بھی انسان محفوظ رہتا ہے۔

یوں بھی یہاں ہم جان بچانے کی بات کر رہے ہیں روح کی حفاظت کرنے کے طریقے بیان نہیں کررہے ہیں۔ اقبال کی باتوں پر جائیں تو وہ
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
ایسی شکم دشمن با تیں بھی کرتا ہے۔ یہ تو شرفاء کو بھوکوں مروانے والی باتیں ہیں۔ اس قسم کے رزق سے اگر پرواز میں کوتاہی آتی ہے تو بصورت دیگر یہ” پرواز“ ہی کینسل ہوجاتی ہے۔

سوجان بچانے کا ایک طریقہ بھی ہے کہ دستر خوان کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا جائے۔ اور اگر بالفرض محال کسی دوست کو ہماری طرف سے پیش کردہ جان بچانے کے ان طریقوں سے اختلاف ہو اور وہ سمجھتاس ہو کہ منہ بند رکھنے اور اعلی دسترخوان کا انتخاب کرنے سے جان بچ جاتی ہے مگر ایمان خراب ہوتا ہے تو ان کے لئے بھی ہماری زنبیل میں ایک مشورہ موجود ہے اور وہ یہ کہ جان بچ جائے گی ایمان بھی محفوظ رہے گا۔

کیونکہ جب دل سے سارے وسوسے سارے خدشے اور سارے خوف دور ہو جائیں تو پھر کوئی چیز کی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ حتیٰ کہ موت بھی منہ دیکھتی رہ جاتی ہے۔ چنانچہ جان بچانے کا سب سے اعلی طریقہ یہ ہے کہ جان بچانے کا خیال دل سے نکال دیا جائے۔ سو جو دوست ہمارے اس مشورے کوصائب سمجھیں‘ وہ اپنے قفل کھول دیں، نیز جس رزق سے پرواز میں کوتاہی آتی ہو‘ اس رزق پر موت کو ترجیحس دیں کہ اب تو جان اسی صورت میں بچ سکتی ہے ورنہ“ موسیٰ نسیا موت توں تے اگے کھٹری موت“ ایسی صورت حال بھی پیدا ہوجاتی ہے۔

Your Thoughts and Comments