Jeem

ج

سہیل عباس خان جمعرات مئی

Jeem
پیارے بچو
”ج“ سے جوتا ہوتا ہے، جسے جاپان میں سائن بورڈ پہ اور پاکستان میں ٹرک، رکشے یا چلنے والی دیگر چیزوں سے لٹکاتے ہیں۔ چلنے والی چیزوں پہ برساتے بھی ہیں۔ فیس بک پہ یہ اکثر آپ کو ایک ایسی ڈیوائس کی صورت میں نظر آیا ہوگا جو پاکستانی والدین اپنے بچوں کی تربیت کے لیے، اور پاکستانی سیاست دان عوام کی خدمت کے لیے استعمال کرتے ہیں، پنجابی میں اسے ”لتر“ یا ”پولا“ بھی کہتے ہیں، پولا کا ایک مطلب نرم بھی ہوتا ہے لیکن یہاں یہ سخت کے معنوں میں استعمال ہوگا۔

مولوی حضرات اسے نرم مار کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سے پاس بھی کرواتے ہیں۔ جس کے پاس ہو اُسے کسی کا پاس نہیں ہوتا۔
پیارے بچو
”ج“ سے جہاز بھی بنتا ہے۔ جب امریکہ نے ایف 16 جہاز پاکستان کو دینے پہ پابندی لگائی تو ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے جہاز بنائیں گے۔

(جاری ہے)

اس کے سپیئر پارٹس پاوٴڈر کی شکل میں افغانستان سے منگوائے گئے اور اب آپ کسی بھی چوک میں دیوار کے ساتھ اس جہاز کی پرواز دیکھ سکتے ہیں۔

اس کے لیے رن وے کی ضرورت نہیں بلکہ اس جہاز کی رن بیچاری ”وے“ تلاش کرتی ہے۔
جاپان میں پانچ حرف ہیں تو پاکستان میں سات، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہم جاپان سے آگے ہیں۔ ویسے ہم جادو کی جپھی میں بھی جاپان سے آگے ہیں۔ ہمارے سیاستدان ہر مشکل میں یہ جادو کی جپھی ایک دوسرے کو ڈالتے ہیں، کئی بار تو اس کے لیے ولایت جانا پڑتا ہے۔ کئی اللہ کے ولی بیچ میں پڑ کر اس کا اہتمام کرتے ہیں، جب جب مشکل وقت آئے۔

ویسے یہ آسان وقت میں بھی آپ کسی کو اپنی ذمہ داری پہ ڈال سکتے ہیں۔
”ج“ سے جگاڑ بھی ہوتا ہے، جو صرف ہم ہی لگا سکتے ہیں۔ ہم اسے گھر سے لے کر خارجہ پالیسی تک لگاتے ہیں۔ ویسے تو یہ عدالت میں وکیل اور جج کی مرضی سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ جو جگاڑ نہیں لگاتا ہم اس کا ”ج“ الگ کر کے اسے گاڑ دیتے ہیں۔
”ج“ سے جاتی عمرہ بھی ہوتا ہے، ہندوستان والے کا تو پتا نہیں لیکن پاکستان والے کے گرد ہم دھرنا دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، تو جاتی عمرہ والے جہاز پہ بیٹھ کے جل دے جاتے ہیں۔


”ج“ سے جاگنا بھی ہوتا ہے لیکن پاکستانی عوام اسے پسند نہیں کرتے۔ بلکہ ایسی چیزیں استعمال کرتے ہیں جس سے اس عمل کو روکا جا سکے۔ اس کے لیے کئی مشروبات کا سہارا لیا جاتا ہے۔
”ج“ سے جاڑا بھی ہوتا ہے لیکن وہ پاکستان میں کبھی ایسے ہوتا تھا جیسے جھارا پہلوان ہوا کرتا تھا۔
”ج“ سے جان ہوتا ہے اور اس لفظ میں ہماری جان ہے۔

اہل زبان اسے طوائف کے نام کے ساتھ استعمال کرتے ہیں لیکن پاکستان چونکہ اسلامی مملکت ہے اس لیے وہاں طوائف کا نام لینا منع ہے اس لیے ہم اسے اکیلے استعمال کرتے ہیں۔ سیاستدان کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح پاکستانی عوام کی جان نکال دی جائے لیکن ہم بڑے سخت جان ہیں۔ ہمارے ساتھ ایک جانور جیسی ہو تو بھی اس جانور جیسی ہماری جان نہیں نکل سکتی۔
”ج“ سے جج ہوتا ہے جو ہم پوری قوم ہیں، ہم ہر عالمی مسئلے پہ اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہیں۔
پیارے بچو!!
جاوٴ اور اپنے والدین سے عیدی لے کر جلدی سے آوٴ تاکہ ”چ“ شروع کریں، کسی نے چوں چراں کرنے کی کوشش کی تو آپ کو پتا ہے ”ج“ سے جوتا ہوتا ہے۔

Your Thoughts and Comments