Jin Or Jin Ki Bottle

جن اور جن کی بوتل!

منگل جنوری

Jin Or Jin Ki Bottle
عطا ء الحق قاسمی:
شکر گڑھ کے حوالے سے اخباروں میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا کہ وہاں ایک موضع میں کسان جب صبح کے وقت اپنے کھیتوں میں فصل کٹائی کے لیے پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ جنوں نے ان کی فصل پہلے ہی کاٹ کر رکھی ہوئی تھیں اور بڑی نفاست سے ان کے ڈھیر لگائے ہوئے تھے یہ جن اس کام کے اتنے ماہر تھے کہ انہوں نے فصلوں کی کٹائی فصلیں پکنے ہی پرکی تھیں نیز ان کی علیحدہ علیحدہ ڈھیریاں پوری مہارت سے بناکر رکھی تھیں ہمیں یہ خبر پڑھ کر کوئی حیرت نہ ہوئی کیونکہ جنوں پر ہمارا ایمان پختہ ہے البتہ حیرانی اس بات پر ہوئی کہ جنوں نے اب انسانوں کے کام بھی آنا شروع کردیا ہے ورنہ ہم جنوں کے بارے میں جتنی حکائتیں سنی ہیں ان کے مطابق تو یہ جن بہت عجیب و غریب قسم کے سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں مثلاً کبھی کسی لڑکی پر عاشق ہوجاتے ہیں اور اس میں حلول کرجاتے ہیں جس پر عامل کو بلایا جاتا ہے جو مارمار کر اس لڑکی کا بھر کس نکال دیتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ پھینٹی دراصل جن کو لگائی جارہی ہے اسی طرح کبھی کسی مکان پر پتھروں کی بارش شروع ہوجاتی ہے اور کبھی یہ سننے میں آتاہے کہ بیٹھے بٹھائے گھر کے برتن ہوا میں اچھلنا شروع ہوجاتے ہیں یہ جن کبھی کسی اہل خانہ کی چارپائیاں اٹھانا شروع کردیتے ہیں اور کبھی جنگل میں انسانوں کا روپ دھار کر کسی راہ گیر کے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان کا قد بڑھتے بڑھتے آسمان سے جالگتا ہے جس پر بیچارے راہ گیر کو مجبوراً بے ہوش ہونا پڑتا ہے چنانچہ اگر دیکھا جائے تو جنوں کی کثیر تعداد ہڈ حرام قسم کی ہے یہ کام دام کچھ نہیں کرتے بس شعبدہ بازیاں دکھا دکھا کر عوام کو مرعوب کرتے رہتے ہیں جنوں کی ایک قسم تو ایسی بھی ہے جو اپنے جاہ وجلال اور سب کچھ کر گزارنے کا اختیار رکھنے کے باوجود خود بالکل بے بس ظاہر کرتی ہے یہ وہ جن ہیں جو اگر انسان ہوتے تو اپنی اس خصوصیت کی بناء پر اقتدار میں ہوتے سیاستدان ہوتے بیوررکریٹ ہوتے مگر شومئی قسمت سے یہ جن رہ گئے ترقی کی منزلیں طے نہ کرسکے دریا میں نہاتے ہوئے ایک شخص کے ہاتھ میں ایک تربوز آیا اس نے تربوز پکڑا اور باہر کنارے میں آگیا جونہی اس نے تربوز کھولا تو اس میں سے ایک لحیم و شحیم جن قہقہے لگاتا ہوا برآمد ہوا اور سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا کیا حکم ہے میرے آقا؟اس شخص نے کہا برادر بات یہ ہے کہ میں غریب آدمی ہوں کرائے کے مکان میں رہتا ہوں تم اگر میرے لئے کچھ کرنا چاہتے ہو تو مجھے کوئی پلاٹ دلوادو یہ سن کر جن نے قہقہہ لگایا اور کہا تم اپنے اس مطالبے سے مجھے خاصے بے وقوف آدمی لگتے ہو میں اگر تمہیں پلاٹ دلواسکتا تو میں نے خود تربوز میں رہنا تھا اب دیکھا جائے تو یہ جن وہ ہیں جو جنوں کے نام پر بدنما داغ ہیں یا تو یہ خود کو جن نہ کہلائیں یہ دعوے نہ کریں کہ وہ صاحب اختیار ہیں اور اگر وہ سیاہ سفید کے مالک ہیں تو پھر بے گھر لوگوں کو گھر دیں بھوکے کو روٹی دیں اور حاجت مندوں کی ضروریات پوری کریں بصورت دیگر یا تو انہیں نا اہل سمجھا جائے گا یا انہیں ہڈ حرام کہا جائے گا اور یا پھر یہ سمجھا جائے گا کہ یہ حال مست ہیں انہیں دوسروں کی فاقہ مستی سے کوئی غرض نہیں!بہت عرصہ ہوا ہم نے منور ظریف کی ایک فلم دیکھی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ الہٰ دین کا چراغ اس کے ہاتھ لگ جاتا ہے وہ چراغ کورگڑتا ہے تو دھوئیں میں سے ایک جن قہقہے لگاتا ہوا برآمد ہوتا ہے منورظریف اسے کہتا ہے میں بہت اداس ہوں خود کو تنہا محسوس کررہا ہوں میرے لیے لڑکی کا بندوبست کرو یہ سن کر جن ہاتھ باندھ کر کھڑ ا ہوجاتا ہے اور کہتا ہے میرے آقا میں جن ہوں۔

(جاری ہے)

دلال نہیں ہوں اور جنوں کی یہ قسم وہ ہے جنہیں غیور جن کہا جاسکتا ہے لیکن اب ایسے جن خال خال ہی پائے جاتے ہیں ورنہ ہم نے تو صاحب اقتدار لوگوں میں سیاستدانوں میں صحافیوں میں اور دانشوروں میں ایسے ایسے جن دیکھے ہیں جن کی ساری عمر جن کی ایک بوتل پر سفارت خانوں کی دلالہ میں گزرجاتی ہے یہ جن قیمتی لباسوں میں پورے کروفر کے ساتھ ہمارے اور آپ کے درمیان رہتے ہیں اور ان کا شمار بہت معزز جنوں میں ہوتا ہے حالانکہ انہیں مونچھیں بڑھا کر کاندھوں پر رومال رکھ کر اور مٹھی میں سگریٹ دبا کرلاہور ہوٹل کے باہر کھڑا ہونا چاہیے!

Your Thoughts and Comments