Khala Millat

خالہ ملت

ہفتہ مارچ

Khala Millat

ڈاکٹر محمد یونس بٹ
برطانیہ کی پارلیمنٹ میں بہت چوہے آگئے ہیں اس لیے ہر رکن پارلیمنٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ بلی لائے گویا اب وہ بلیاں گن کر اندازہ لگایا کریں گے کہ کتنے رکن پارلیمنٹ حاضر ہیں اگر ہم کہتے کہ برطانیہ کا ایوان خاص چوہوں سے بھرا ہے تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں جیسے برطانیہ کے مشہور طنز نگار شریڈن نے جو پارلیمنٹ کا ممبر بھی تھا ایک مرتبہ تقریر کرتے ہوئے کہہ دیا اس ایوان میں آدھے ممبر گدھے ہیں پارلیمنٹ کے ممبران نے اس سے ان الفاظ پر سخت احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ وہ یہ الفاظ غیر مشروط طور پر واپس لیں چنانچہ شریڈن اپنی جگہ پر کھڑا ہوا اس نے معذرت کرتے ہوئے کہامیںاپنے الفاظ واپس لیتا ہوں ایوان کے آدھے ممبر گدھے نہیں ہیں۔

(جاری ہے)


صاحب جانوروں کو اسمبلی میں آنے سے روکنا چاہیے جب بھی الیکشن ہوتے ہیں ہم سب کو یہی احتیاط کرنے کو کہتے ہیں ہم خود تو اس قدر احتیاط کرتے ہیں کہ محتاط رہنے سے بھی احتیاط برتتے ہیں کسی نے کہا گاڑی بیک کرتے وقت شیشہ ضرور دیکھ لیا کر ایکسیڈنٹ نہیں ہوگا حالانکہ ہمارا ایکسیڈنٹ ہوا ہی آئینہ دیکھنے کی وجہ سے اب تو ہم آئینہ دیکھ کر ہی گھر سے نکلتے ہیں بہر حال انگریزوں کی جانوروں سے محبت کا تو یہ عالم ہے کہ وہ جس سے بے لوث محبت کریں اسے شک ہونے لگتا ہے کہ یہ مجھے جانور سمجھ رہا ہے یقین نہیں آتا وہ چوہوں کے اتنے خلاف کیسے ہوگئے حالانکہ بہت بڑا چوہا ساہی ہوتا ہے ان کی ایک رکن پارلیمنٹ نے تو کہا ہے کہ سیشن کے دوران چوہوں کے دوڑنے کی وجہ سے بہت ڈسٹرب ہوتی ہوں میری تو ذرا سے کھٹکے سے آنکھ کھل جاتی ہیں سپیکر نے کہہ دیا کہ بلیوں کے بغیر گزارا نہیں اگر وہ معراج خالد جیسے ہوتے تو گزارا کرلیتے معراج خالد ہر قسم کے حالات میں گزارا کرلیتے ہیں اور شکایت نہیں کرتے ہمیں ان سے یہی شکایت ہے ہمیں لگتا ہے برطانیہ کی اسمبلی بہت چھوٹی ہے جہاں چوہا راج ہے ورنہ اسمبلی میں توچوہوں کی بجائے گھوڑے آجاتے ہیں اور ہمیں انہیں روکنے کے لیے باقاعدہ قانون بنانا پڑتا ہے پاکستان ہوتا تو اسمبلی سے چوہوں کو نکالنے کے لیے اسمبلی توڑ دی جاتی یا ان موصوفوں کو وزیر بنادیا جاتا پھر وہ کبھی اسمبلی کی کاروائی کے دوران نظر نہ آتے،ہمارے ہاں جو مرد کمزور ہوں اسے چوہا کہتے ہیں مگر چوہا کمزور نہ بھی ہو تب بھی اسے مرد نہیں کہتے چوہے اہم کاغذات کھاجاتے ہیں کاغذات اگرچہ ذات کے کاغ ہوتے ہیں کچھ چھپا نہیں سکتے لیکن سنا ہے پارلیمنٹ کی کاروائی کے کاغذات کھانے والے چوہوں کو یہی پتہ چلتا ہے کہ وہ بانجھ ہوگئے ہیں ہمارے ہاں بھی لائبریریوں میں نقاد اور چوہے کتابیں چاٹ جاتے ہیں اور دونوں تخلیقی نہیں رہتے البتہ ہماری قومی اسمبلی کی کاروائی اتنی لذیذ ہوتی ہے کہ اراکان زخم اور چوہے زبان چاٹتے رہ جاتے ہیں بنگال میں تو چوہے مارنے پر کئی انعام ملتا ہے جیسے ہمارے ہاں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ ایک زمانے میں گھر کی چیزوں کا حسان یوں لگایا کرتے تھے یہ صوفہ سیٹ وہ ڈراموں میں آیا ان کرسیوں کی قیمت ایک ڈرامہ یہ فریج قسطوں پر لی ڈرامے کی چھ قسطوں پر ایسے ہی بنگال کے غریب لوگ گھر کا حساب کتاب یوں کرتے ہیں آدھ پاﺅ دال تین چوہا منے کے کپڑے کی قیمت دس چوہا لیکن ان چوہوں نے برطانیہ میں بلی کو سٹیٹس مین سمبل بنادیا ہے اگرچہ سٹیٹس مین تو ہمارے ہاں بھی ساتھ بلی ضرور رکھتے ہیں مگر بلی کو تھیلے سے باہر نہیں نکالتے جیسے انسان کتے کا وفادار ساتھی ہے ایسے ہی بلی وفادار کی ساتھی ہے بلی اہل یورپ کے لیے تو خالہ ملت ہے1346 سے لے کر1350 تک جب اتنے چوہے تھے کہ یورپ کے لوگ گھر میں آکر درواز دیکھتے تو وہاں چوہا ہوتا بستر میں چوہا اٹیچی کیس دیکھتے تو اس میں بھی چوہا ہوتا یہاں تک کہ شیشہ دیکھتے تو اس میں بھی چوہا ہوتا ان دونوں جادوگرنیوں نے ٹونوں کے لیے بلیوں کا صفایا کردیا تھا اور چوہوں نے طاعون سے ان سب کا صفایا کردیا عدالت جادگرنیوں کو یہ سزا سناتی کہ انہیں پتھر سے باندھ کر پانی میں ڈبو دیتے جو ڈوب کر مرجاتی اس کا مطلب ہوتا وہ جادو گرنی نہیں بے گناہ تھی جو بچ جاتی اسے جادوگرنی سمجھا جاتا سواسے یہ سزا دی جاتی کہ اسے زندہ جلا دیا جاتا تب بھی یورپ والوں کو بلیوں نے بچایا آج بھی وہ مصیبت میں ہوں تو بلی سے ہی مدد مانگتے ہیں اب انہوں نے بلی کو پارلیمنٹ بچانے کا فریضہ سونپا ہے ہمیں اس میںیہ خوشی ہے کہ شاید وہ پاکستان سے بلیاں برآمد کریں جو وہاں چوہے برآمد کرسکیں امریکہ تو آج کل ویسے بھی روس کے ٹکڑوں پر پل رہا ہے اور نامعلوم کب چین کے ٹکڑوں کے لیے پل پڑے ایسے میںوہ وافع بلیات کیسے ہوسکتا ہے پھر ہماری بلیوں میں یہ خوبی بھی ہے کہ وہ صرف ہمیں ہی میاﺅں کرتی ہین یوں بھی امریکہ کو تو اپنے الیکشنوں پر گدھے پاکستان سے منگوانے پڑے تھے اس حساب سے تو ہماری بلیاں برطانیہ میںپہنچنا شروع ہوگئی ہوں گی کیونکہ جب امریکی الیکشن کے موقع پر ایک اخبار نے خبر دی کہ وہاں کی ری پبلکن پارٹی اپنا انتخابی نشان گدھا پاکستان سے منگوانا چاہ رہے تو پاکستان کے تمام گدھے وہاں پہنچنے کی کوششیں کرنے لگے صرف چار ٹانگوں والے گدھے بچے تھے۔

Your Thoughts and Comments